logo logo
AI Search

سلام کرنے کا ثواب زیادہ کیوں ہوتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سلام کے ثواب کی جوابِ سلام کے ثواب سے زیادتی کی حکمت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سلام کرنے والے کو زیادہ نیکیاں ملتی ہیں، جبکہ سلام کا جواب دینے والے کو کم۔ حالانکہ سلام کرنا سنت اور جواب دینا واجب ہے، اور واجب کا ثواب سنت سے زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سنت کا ثواب واجب سے زیادہ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

شرعی اصول یہی ہے کہ واجب کا ثواب، واجب ہونے کی وجہ سے، سنت سے زائد ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی سنت عمل صرف اس وجہ سے کہ وہ سنت ہے، واجب سے افضل نہیں ہوسکتا۔ واجب اپنی حقیقت اور شرعی درجہ بندی کے لحاظ سے ہمیشہ سنت سے افضل اور مقدم رہے گا۔ تاہم بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کم درجے والے عمل (مثلاً سنت و نفل) کے ضمن میں چند ایسے فضائل، اسباب یا اضافی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اس کا ثواب زیادہ درجے والے عمل (فرض و واجب) سے بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ فضیلت خاص اس خارجی سبب کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ سنت یا نفل ہونے کی وجہ سے۔ ملاقات کے وقت سلام کرنا اور جواب دینا دونوں ہی مسلمان بھائی سے اظہارِ محبت و مودت کا ذریعہ ہے، لیکن چونکہ سلام کرنے والا اس نیکی میں پہل کرتا ہے اس وجہ سے اسے زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے کہ حدیث پاک کے مطابق نیکی میں پہل کرنا جوابی اقدام سے کئی گنا افضل و اعلیٰ ہوا کرتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2026ء