لواطت کا کفارہ کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لواطت کے کفارہ کے متعلق شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ لواطت کا کفارہ کیا ہے؟
جواب
ہم جنس پرستی (لواطت) ایک نہایت قبیح، خبیث، ناجائز و حرام کام ہے، بلکہ لواطت تو زنا سے بھی زیادہ خبیث اور بدتر ہے اور اس کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر اِسی مذموم و ملعون کام کی وجہ سے عذاب نازل ہوا تھا۔ جو شخص اس گناہ میں مبتلا ہو، اس پر لازم ہے کہ فوراً سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے، ندامت اختیار کرے اور آئندہ ہمیشہ کے لیے اس سے بچنے کا پختہ ارادہ کرے۔ شریعتِ مطہرہ میں اس گناہ کے لیے کوئی مخصوص کفارہ مقرر نہیں، اللہ تعالی کی بارگاہ میں خالص اور سچی توبہ کرنا ہی اِس کا اصل کفارہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ- بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور لوط کو یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم لوگ حد سے گزرے ہوئے ہو۔ (پارہ 8، سورۃ الاعراف: 80، 81)
مسند احمد کی حدیث پاک میں ہے: ’’عن ابن عباس، قال: قال النبي صلى اللہ عليه و سلم: ۔۔۔ ملعون من عمل بعمل قوم لوط‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قومِ لوط جیسا عمل کرے (یعنی لواطت کرے) وہ ملعون ہے۔ (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 368، رقم الحدیث: 1875، مؤسسة الرسالة)
درمختار میں ہے: ’’و في البحر حرمتها أشد من الزنا لحرمتها عقلا و شرعا و طبعا ۔۔۔ و عدم الحد عنده لا لخفتها بل للتغليظ لانه مطهر على قول‘‘ ترجمہ: اور بحر الرائق میں ہے کہ اس ( لواطت) کی حرمت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے، کیونکہ اس کی حرمت عقلاً، شرعاً اور طبعاً ثابت ہے۔۔۔ اور اس پر حد مقرر نہ ہونا اس کے ہلکا ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی سنگینی کے باعث ہے، کیونکہ (ایک قول کے مطابق) حد گناہ سے پاک کرنے والی ہوتی ہے۔ (در مختار، جلد 6، صفحہ 45، دار المعرفۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: یہ (لواطت کا) فعل نہایت خبیث ہے بلکہ زنا سے بھی بدتر ہے، اسی وجہ سے اس میں حد نہیں کہ بعضوں کے نزدیک حد قائم کرنے سے اوس گناہ سے پاک ہوجاتا ہے اور یہ اتنا بُرا ہے کہ جب تک توبہ خالصہ نہ ہو، اس میں پاکی نہ ہوگی۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 380، 381، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1147
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1447ھ / 06 اپریل 2026ء