کافرہ سے زنا کے بعد پیدا ہونے والا بچہ مر جائے تو کیا کریں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیر مسلم عورت سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسلمان مرد، کسی غیر مسلم عورت سے زنا کرے اور اس کے نتیجے میں بچہ پیدا ہو، اور نابالغی کی حالت میں فوت ہوجائے، تو اس کے ساتھ مسلمان جیسا برتاؤ کرنا کیسا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ظاہر یہی ہے کہ اس بچے کو مسلمان قرار دے کراس کے ساتھ مسلمانوں والا برتاؤ ہی کیا جائے گا۔ معروف حدیثِ صحیح: "ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔" کی بنا پر بھی اس کے اسلام کا حکم دینا ہی ظاہر ہے؛ کیونکہ اس حدیث کے تحت علما نے لکھا ہے کہ: والدین کا ایک دین پر متفق ہونا ہی بچے کو فطرت سے ہٹاتا ہے، اگر وہ دونوں متفق نہ ہوں، تو وہ اپنی اصل فطرت یا اس کے قریب تر حالت پر باقی رہتا ہے (مثلا: اگر والدین میں سے ایک مجوسی ہو اور دوسرا اہلِ کتاب، تو بچہ اہلِ کتاب شمار ہوتا ہے)۔ اور یہاں اس کے ایسے والدین ہی نہیں، جو کسی ایک بات پر متفق ہوں، لہٰذا وہ فطرت (اسلام) پر باقی رہے گا۔
نیز یہ بھی وجہ ہے کہ جس صورت میں مسلمان کا نکاح اہل کتاب عورت کے ساتھ ہو، یا اہل کتاب عورت کا نکاح مجوسی وغیرہ کے ساتھ ہو، تو وہاں بچے کے نفع کا لحاظ کرتے ہوئے، اسے مسلمان یا کتابی شمار کیا جاتا ہے، تو یہاں بھی مسلم کا لحاظ کرتے ہوئے، اسے مسلم قراردینے میں اس کا نفع ہے۔
نیز یہ وجہ بھی ہے کہ مذکورہ صورت میں اگرچہ یہاں بچہ زنا کا ہے، جس وجہ سے شرعا اس کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوگا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ حقیقتاً جزئیت کا علاقہ تو موجود ہے، اور اسی علاقے کا اعتبار کرتے ہوئے شریعت مطہرہ نے احتیاطا زانی پر زنا سے پیدا ہونے والی بیٹی کو حرام قرار دیا ہے، اور زانی کے لیے زنا سے پیدا ہونے والے بچے کو اپنی زکوۃ دینے کی ممانعت فرمادی ہے، تو دین کے معاملے میں احتیاطا حقیقی جزئیت کا بدرجہ اولی لحاظ کیا جائے گا اور، بچے کو مسلم کے ساتھ لاحق کرتے ہوئے مسلمان قرار دیا جائے گا۔
اور اس لیے بھی کہ کفر بدترین چیز ہے، تو کسی شخص پر بغیر صریح دلیل کے کفر کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔
رد المحتار میں ہے: رأيت في فتاوى الشهاب الشلبي قال: واقعة الفتون في زماننا: مسلم زنى بنصرانية فأتت بولد فهل يكون مسلما؟ أجاب بعض الشافعية بعدمه و بعضهم بإسلامه. و ذكر أن السبكي نص عليه و هو غير ظاهر، فإن الشارع قطع نسب ولد الزنا و بنته من الزنا تحل له عندهم فكيف يكون مسلما. و أفتى قاضي القضاة الحنبلي بإسلامه أيضا، و توقفت عن الكتابة فإنه و إن كان مقطوع النسب عن أبيه حتى لا يرثه فقد صرحوا عندنا بأن بنته من الزنا لا تحل له، و بأنه لا يدفع زكاته لابنه من الزنا، و لا تقبل شهادته له و الذي يقوى عندي أنه لا يحكم بإسلامه على مقتضى مذهبنا، و إنما أثبتوا الأحكام المذكورة احتياطا نظرا لحقيقة الجزئية بينهما. اهـ. قلت: يظهر لي الحكم بالإسلام للحديث الصحيح «كل مولود يولد على الفطرة حتى يكون أبواه هما اللذان يهودانه أو ينصرانه» فإنهم قالوا إنه جعل اتفاقهما ناقلا له عن الفطرة، فإذا لم يتفقا بقي على أصل الفطرة أو على ما هو أقرب إليها، حتى لو كان أحدهما مجوسيا والآخر كتابيا فهو كتابي كما يأتي وهنا ليس له أبوان متفقان فيبقى على الفطرة ولأنهم قالوا إن إلحاقه بالمسلم منھما أو بالكتابي أنفع له، ولا شك أن النظر لحقيقة الجزئية أنفع له، وأيضا حيث نظروا للجزئية في تلك المسائل احتياطا فلينظر إليها هنا احتياطا أيضا، فإن الاحتياط بالدين أولى ولأن الكفر أقبح القبيح فلا ينبغي الحكم به على شخص بدون أمر صريح ولأنهم قالوا في حرمة بنته من الزنا إن الشرع قطع النسبة إلى الزاني لما فيها من إشاعة الفاحشة فلم يثبت النفقة والإرث لذلك، وهذا لا ينفي النسبة الحقيقية لأن الحقائق لا مرد لها فمن ادعى أنه لا بد من النسبة الشرعية فعليه البيان
ترجمہ: میں نے فتاویٰ الشہاب الشلبی میں دیکھا کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے زمانے میں ایک مسئلہ پیش آیا کہ ایک مسلمان نے ایک عیسائی عورت سے زنا کیا، پھر اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا، تو کیا وہ بچہ مسلمان شمار ہوگا؟ بعض شافعی علماء نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہوگا، جبکہ بعض نے اس کے مسلمان ہونے کا قول کیا۔ اور یہ بھی ذکر کیا گیا کہ امام سبکی نے اس پر صراحت کی ہے، مگر یہ بات بظاہر واضح نہیں؛ کیونکہ شریعت نے ولدِ زنا کا نسب (باپ سے) منقطع کر دیا ہے، اور ان کے نزدیک زنا سے پیدا ہونے والی بیٹی بھی اس شخص کے لیے حلال ہوتی ہے، تو پھر وہ بچہ مسلمان کیسے ہوگا؟ اور قاضی القضاة حنبلی نے بھی اس کے مسلمان ہونے کا فتویٰ دیا۔ میں اس پر لکھنے سے رُک گیا، کیونکہ اگرچہ وہ اپنے باپ سے نسب کے اعتبار سے منقطع ہے، یہاں تک کہ اس کا وارث بھی نہیں بنتا، لیکن ہمارے ہاں علماء نے صراحت کی ہے کہ زنا سے پیدا ہونے والی اس کی بیٹی اس پر حلال نہیں، اور نہ ہی وہ اپنی زکوٰۃ ایسے بیٹے کو دے سکتا ہے، اور نہ اس کے حق میں اس کی گواہی قبول ہوتی ہے۔ میرے نزدیک زیادہ مضبوط بات یہ ہے کہ ہمارے مذہب کے مطابق اس کے اسلام کا حکم نہیں لگایا جائے گا، البتہ جو احکام ذکر کیے گئے ہیں وہ احتیاطاً ثابت کیے گئے ہیں، اس وجہ سے کہ حقیقت میں ان کے درمیان جزئیت (کچھ تعلق) موجود ہے۔ کلام ختم ہوا۔
میں (ابن عابدین شامی) کہتا ہوں: میرے نزدیک حدیثِ صحیح «ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں» کی بنا پر اس کے اسلام کا حکم دینا ظاہر ہے؛ کیونکہ علماء نے کہا ہے کہ والدین کا متفق ہونا ہی اسے فطرت سے ہٹاتا ہے، تو جب دونوں متفق نہ ہوں تو وہ اپنی اصل فطرت پر باقی رہتا ہے، یا اس کے قریب تر حالت پر۔ یہاں تک کہ اگر والدین میں سے ایک مجوسی ہو اور دوسرا اہلِ کتاب، تو بچہ اہلِ کتاب شمار ہوتا ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔ اور یہاں تو اس کے ایسے والدین ہی نہیں جو کسی ایک بات پر متفق ہوں، لہٰذا وہ فطرت (اسلام) پر باقی رہے گا۔ نیز یہ بھی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے فرمایا ہے: بچے کو مسلمان یا اہلِ کتاب کے ساتھ ملانا اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، اور اس میں شک نہیں کہ حقیقتِ جزئیت کو ملحوظ رکھنا اس کے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ مزید یہ کہ جب انہوں نے ان مسائل میں احتیاطاً اس جزئیت کو دیکھا ہے تو یہاں بھی احتیاطاً اسی کو دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ دین کے معاملے میں احتیاط زیادہ مناسب ہے۔ اور اس لیے بھی کہ کفر بدترین چیز ہے، لہٰذا کسی شخص پر بغیر صریح دلیل کے کفر کا حکم نہیں لگانا چاہیے۔ مزید یہ وجہ بھی ہے فقہاء نے زنا سے پیدا ہونے والی بیٹی کی حرمت کے بارے میں فرمایا ہے کہ شریعت نے اس (بچی) کی نسبت زانی کی طرف منقطع کر دی ہے، کیونکہ اس میں برائی کے پھیلنے کا اندیشہ ہے، لہٰذا اسی وجہ سے نہ اس کے لیے نفقہ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی میراث؛ لیکن یہ حکم اس کی حقیقی نسبت کی نفی نہیں کرتا، کیونکہ حقائق کا انکار ممکن نہیں، تو جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ لازماً شرعی نسبت ہی معتبر ہے، اس پر دلیل پیش کرنا لازم ہوگا۔ (رد المحتار، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، جلد 4، صفحہ 365، 366، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں مذکور علامہ شامی کے الفاظ: "فعليه البیان" کے تحت جد الممتار میں ہے: "الدلائل إلى هنا تفيد أن الحكم كذلك إن زنى مسلم بوثنية" ترجمہ: یہاں تک مذکور دلائل یہ فائدہ دیتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان نے بت پرست عورت کے ساتھ زنا کیا (اور اس سے بچہ پیدا ہوا) تو بھی یہی حکم ہے (کہ بچہ مسلمان سمجھا جائے گا)۔ (جد الممتار، جلد 4، صفحہ 649، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4893
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء