بچوں سے جانداروں کی ڈرائنگ بنوانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسکول والوں کا نابالغ بچوں سے جانداروں کی ڈرائنگ بنوانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میری بچی چھَٹی (6th) کلاس میں ہے، اور نابالغ ہے، اسکول میں اس سے کارٹون، مثلاً ہاتھی، شیر وغیرہ کی ڈرائنگ بنوائی جاتی ہے، تو کیا یہ جائز ہے؟ اس کی وجہ سے بچی گنہگار تو نہیں ہوگی؟
جواب
بچوں سے اسکول میں کارٹون کی جوڈرائنگ بنوائی جاتی ہے، اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ: (1) اگر وہ ذی روح (جاندار) کی حکایت نہ کرتی ہو، تو جائز ہے، جیسے بس کے آگے آنکھ لگادی، کہ اس طرح کی کوئی جاندار مخلوق دنیا میں نہیں پائی جاتی، لہٰذا یہ خیالی مخلوق کا کارٹون ہے، جو تصویر کے حکم میں نہیں آتا۔ (2) اگر کسی شخص یا جانور وغیرہ کے چہرے کا کارٹون بنایا، جو ذی روح (جاندار) کی حکایت کر رہا ہوتا ہے، تو ایسا کارٹون بنانا، جائز نہیں۔ البتہ! بچہ یا بچی چونکہ نابالغ ہوتے ہیں، اس لئے اس کا گناہ ان پر نہیں، بلکہ بنوانے والے پر لازم آئے گا۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے "تصویر کسی طرح استیعاب ما بہ الحیاۃ نہیں ہوسکتی فقط فرق حکایت و فہم ناظر کا ہے اگر اس کی حکایت محکی عنہ میں حیات کا پتہ دے یعنی ناظر یہ سمجھے کہ گویا ذو التصویر زندہ کو دیکھ رہا ہے تو وہ تصویر ذی روح کی ہے اور اگر حکایت حیات نہ کرے ناظر اس کے ملاحظہ سے جانے کہ یہ حی کی صورت نہیں میت و بے روح کی ہے تو وہ تصویر غیر ذی روح کی ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 587، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نابالغ سے اگر گناہ کروایا جائے تو اس کا گناہ کروانے والے پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: "أن النص حرم الذهب و الحرير على ذكور الأمة بلا قيد البلوغ و الحرية و الإثم على من ألبسهم لأنا أمرنا بحفظهم" ترجمہ: نصِ حدیث نے سونے اور ریشم کو امت کے مردوں پر بغیر بلوغت یا آزادی کی قید کے حرام ٹھہرایا ہے (لہٰذا نابالغ کے حق میں بھی حرام ہی ہے)۔ اور گناہ اُس فرد پر ہے، جس نے بچوں کو ریشم یا سونا پہنایا، کیونکہ ہمیں بچوں کو (گناہوں سے) محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد 9، صفحہ 598، 599، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4905
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1447ھ / 18 اپریل 2026ء