کیا عورت پر ساس سسر کی خدمت واجب ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت پر ساس اور سسر کی خدمت لازم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا بیوی پر اپنے ساس اور سسر کی خدمت کرنا واجب ہے اور اس پر اس حوالے سے زبردستی کی جا سکتی ہے؟
جواب
عورت کے لیے اپنے ساس سسر کی جائز خدمت کرنا، مثلاً کھانا بنا دینا، کپڑے تیار کر دینا وغیرہ، حسن معاشرت کا حصہ اور سعادت مندی کی بات ہے، نیز یہ شوہر کے ساتھ بھلائی اور وفا شعاری کی علامت ہے، خصوصاً جبکہ ساس سسر عمر رسیدہ ہوں اور انہیں خدمت کی حاجت ہو۔ اگر عورت اچھی نیت کے ساتھ شوہر کے والدین کی خدمت کرتی ہے، تو ثواب کی حق دار ہے کہ یقیناً یہ شوہر کی خوشنودی کا باعث ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود عورت پر اپنے ساس سسر کی خدمت کرنا شرعاً واجب نہیں کہ جس پر اسے مجبور کیا جا سکے۔ ہاں ضرورت ہو، تو احسن انداز میں اسے ترغیب دلائی جا سکتی ہے کہ یہ معاشرتی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔ جیسے عورت پر اپنے ساس سسر یعنی شوہر کے ماں باپ کی خدمت واجب نہیں، ایسے ہی شوہر پر عورت کے ماں باپ سے ملناواجب نہیں، بیوی کو میکے چھوڑ کے آنا اور واپس لانا واجب نہیں، بیوی کو گرمی سردی کے دو چار سوٹ کے علاوہ کوئی سوٹ دلانا واجب نہیں، ایک کمرے کی رہائش، تین چار سوٹ اور تین وقت کی روٹی پانی کے علاوہ کچھ دینا بھی واجب نہیں، لیکن ہرکوئی جانتا ہے کہ شوہر مذکورہ واجبات سے ہٹ کر ہزار کام بیوی کی سہولت، راحت اور خوشی کےلئے کرتا ہے اور یہ سب حسن سلوک ہے تو آخر کیا مصیبت ہے کہ بیوی کو شوہر کی سہولت، راحت اور خوشی کےلئے کچھ کرتے وقت شیطانی وسوسے آتے ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ حقوق کی جنگ سے نہیں چلتا، بلکہ ایک دوسرے سے حسن سلوک کرنے اور دل خوش کرنے سے چلتا ہے۔ باقی حد سے زیادہ بوجھ ڈالنا کسی کےلئے بھی درست نہیں۔
علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: ”و منها استحباب حسن العشرة مع الأصهار“ ترجمہ: اور سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ حسن معاشرت (اچھے برتاؤ) کا مستحب ہونا حدیث پاک سے ثابت ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، کتاب الغسل، جلد 3، صفحہ 219، دار إحياء التراث العربي)
علامہ زین الدین محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1031ھ / 1622ء) لکھتے ہیں: ”و أما ما جرت به عادة النساء في الأعصار و الأمصار و البلاد و القرى و العجم و العرب من زمن المصطفى صلى اللہ عليه وسلم إلى الآن فهو بر و إحسان من جانب النساء و مسامحة صحبة منهن للأزواج بحمل كل الخدمة عنهم الواجبة لهن عليهم“ ترجمہ: اور رہا وہ جو مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانۂ مبارکہ سے لے کر اب تک (تقریباً) زمانوں، شہروں، ملکوں، دیہاتوں، عجم اور عرب میں عورتوں کا معمول جاری ہے تو وہ عورتوں کی طرف سے بھلائی اور احسان ہے اور یہ ان کی جانب سے شوہروں کے ساتھ زندگی بسر کرنے میں نرمی برتنا ہے، شوہروں سے اُس تمام خدمت کا بوجھ (اپنے ذمے) لے لینے کے ساتھ جو (در حقیقت) شوہروں پر ان کے لیے واجب ہے۔ (فيض القدير شرح الجامع الصغير، حرف الحاء، جلد 3، صفحہ 392، مطبوعہ مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1181
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 29 اپریل 2026ء