logo logo
AI Search

دیوث کسے کہتے ہیں اور اسکا کیا مطلب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

دیوث کسے کہتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جس کی عورت بے پردگی کرتی ہو کہ بازو یا گلا یا پیٹ یا سر کے بال یا پنڈلی کا حصّہ غرض جسم کے جس حصہ کو چھپانا فرض ہے، غیر محرم کے سامنے کُھلا رکھے یا اس پر ایک باریک کپڑا ہو کہ بدن چمکتا ہو اور غیر محرم مردوں سے ہنسی مذاق کرتی ہو اور شوہر اس حالت پر مطلع ہوکر عورت کو اپنی حدِ مقدور تک نہ روکتا ہو، تو ایسا شخص سخت گناہ گار ،  فاسق و فاجراوردیوث ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے: جس کی عورت بے ستر باہر پھرتی ہے کہ بازو یا گلا یا پیٹ یا سر کے بال یا پنڈلی کا حصّہ غرض جس جسم کا چھپانا فرض ہے،  کُھلا ہوا ہے یا اس پر ایک باریک کپڑا ہو کہ بدن چمکتا ہو اور وہ اس حالت پر مطلع ہو کر عورت کو اپنی حدِ مقدور تک نہ روکتا ہو، بندوبست نہ کرتا ہو، وہ بھی فاسق و دیّوث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ثلثۃ لاید خلون الجنّۃ العاق لوالدیہ و الدیوث و رجلۃ النساء۔ رواہ الحاکم و البیھقی بسند صحیح عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے۔ ماں باپ کو ایذا دینے والا اور دیّوث اور مردوں کی صورت بنانے والی عورت۔ اس کوحاکم اوربیہقی نے حضرت ابن عمر رضی اتعالیٰ عنہما سے بسند صحیح روایت کیا ہے۔ در مختار میں ہے: دیوث من لایغارعلی امرأتہ او محرمہ۔ جو اپنی عورت یا اپنی کسی محرم پر غیرت نہ رکھے ، وہ دیوّث ہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد 6، صفحہ 487، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ یہاں کے مسلمان اپنی عورتوں کو پہاڑوں اور جنگلوں میں بھیجتے ہیں اور غیر محرم آدمیوں سے کلام اور ہنسی مذاق کرتی ہیں، بالکل ہی بے دریغ وبے پردہ ہے۔ حسبِ شریعت ان لوگوں پر کیا حکم ہے؟ تو جوابا امام اہلِ سنت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے فرمایا: یہ لوگ دیوث ہیں اور دیوث کو فرمایا کہ اس پر جنت حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 243، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2529
تاریخ اجراء: 17 ربیع الآخر 1447ھ / 11 اکتوبر 2025ء