جلوسِ میلاد میں لنگر لٹانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جلوسِ میلاد پر لنگر لٹانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جلوس پر چاول یا جوس وغیرہ کے ڈبے پھینکنا کیسا؟
جواب
جلو س وغیرہ کے موقع پر لوگوں میں لنگر تقسیم کرنا باعثِ اجر وثواب ہے، یہاں تک حدیث میں ہے کہ جو لوگ اللہ کے بندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، اللہ تعالی فرشتوں میں ان لوگوں پر اپنی شایان شان فخر فرماتا ہے، البتہ! لنگر تقسیم کرنے کا یہ انداز کہ چاول یا جوس کے ڈبے وغیرہ جلوس پر اس طرح پھینکے جائیں کہ کچھ ہاتھوں میں آئیں، کچھ زمین پر گریں، اور کچھ پاؤں کے نیچے آئیں، ہرگز درست نہیں، کہ اس میں رزق کی بے حرمتی ہوتی اور مال ضائع ہوتا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے رزق کی بے قدری و بےحرمتی اور مال کے ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے، لہذا جلو س وغیرہ کے موقع پر لنگر تقسیم کرنا ہو، تو ادب و احترام کے ساتھ مہذب انداز سے لوگوں میں بانٹا جائے، ان کے ہاتھوں میں دیاجائے، اور ہر اس انداز سے بچا جائے، جس میں رزق کی بے حرمتی ہوتی، یا مال ضائع ہوتا ہو۔
الترغيب و الترھیب میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:"إن اللہ عز وجل يباهي ملائكته بالذين يطعمون الطعام من عبيده" ترجمہ: بیشک اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان لوگوں پہ فخر فرماتا ہے، جو اس کے بندوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (الترغيب و الترھیب، جلد 2، صفحہ 38، دار الکتب العلمیۃ، بیروت(
سنن ابن ماجہ میں روایت ہے”عن عائشة، قالت: دخل النبي صلى اللہ عليه وسلم البيت، فرأى كسرة ملقاة، فأخذها فمسحها، ثم أكلها، و قال: يا عائشة أكرمي كريما، فإنها ما نفرت عن قوم قط، فعادت إليهم“ ترجمہ: حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم گھر میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا گرا ہوا دیکھا، آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے اس کو اٹھا کر صاف کیا، پھر اس کو تناول فرمالیا، اور فرمایا: اے عائشہ! (رضی اللہ تعالی عنھا) قابل احترام چیز (یعنی روٹی) کا احترام کرو، کیونکہ جب بھی یہ کسی قوم سے بھاگی، کبھی اس کے پاس لوٹ کر نہیں آئی۔ (سنن ابن ماجہ، باب النھی عن القاء الطعام، صفحہ 664، رقم الحدیث 3353، دار ابن کثیر، دمشق)
فتاوی رضویہ میں ہے "کھانا کھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب و بباعثِ اجرہے۔ ۔ ۔ مگر لنگرلٹاناجسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتوں پربیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزق الٰہی کی بے تعظیمی ہے، بہت علماء نے تو روپوں پیسوں کا لٹانا جس طرح دلہن دولہا کی نچھاور میں معمول ہے، منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اللہ عزوجل نے خلق کی حاجت روائی کے لئے بنایا ہے تو اسے پھینکنا نہ چاہئے، روٹی کا پھینکنا توسخت بیہودہ ہے۔“ ( فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 521، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے ”بعض لوگ لنگر لٹاتے ہیں یعنی روٹیاں یا بسکٹ یا اور کوئی چیز اونچی جگہ سے پھینکتے ہیں، یہ ناجائز ہے، کہ رزق کی سخت بے حرمتی ہوتی ہے، یہ چیزیں کبھی نالیوں میں بھی گرتی ہیں اور اکثر لوٹنے والوں کے پاؤں کے نیچے بھی آتی ہیں اور بہت کچھ کچل کر ضائع ہوتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں انسانیت کے طریق پر فقرا کو تقسیم کی جائیں، تو بے حرمتی بھی نہ ہو اور جن کو دیا جائے انہیں فائدہ بھی پہنچے، مگر وہ لوگ اس طرح لٹانے ہی کو اپنی نیک نامی تصور کرتے ہیں۔“ ( بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 647، 648، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5392
تاریخ اجراء: 24 ربیع الاول 1448ھ / 07 ستمبر 2026ء