عاشقِ رسول کس کو کہا جا سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عام مسلمان کو عاشقِ رسول کہنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا کسی عام مسلمان کو عاشقِ رسول کہہ سکتے ہیں؟
جواب
جو اس کا اہل ہو اسے کہہ سکتے ہیں۔
امیر اہلسنت علامہ مولانا الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں: ”سوال : کیا کسی کو عاشقِ الٰہی یا عاشقِ رسول بھی نہیں کہہ سکتے؟ جواب : اگروہ اِس کا اہل ہو تو کہنے میں کوئی مُضایقہ نہیں۔مَحَبَّت اور عشق کے معنیٰ میں قَدرے فرق ہے۔ دراصل اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّت تو ہر مسلمان کرتا ہی ہے مگر ”عاشق“ کا دَرجہ کوئی کوئی پاتا ہے۔ عشق کامعنیٰ بیان کرتے ہوئے عربی لغت ”لسان العرب“ جلد 2 صفحہ 2635 پر ہے: اَلْعِشْقُ فَرْطُ الْحُبِّ یعنی مَحَبَّت میں حد سے تجاوُز کرنا عشق ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن عشق کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مَحَبَّت بمعنی لغوی جب پختہ اور مُؤَکَّدہ (یعنی مَحَبّت جب بَہُت زیادہ پکّی) ہو جائے تو اسی کو عشق کا نام دیا جاتا ہے پھر جس کی اللہ تعالیٰ سے پختہ مَحَبَّت ہو جائے اور اس پرپختگیٔ محَبَّت کے (اس طرح) آثار ظاہِر ہو جائیں کہ وہ ہمہ اوقات اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر اور اس کی اطاعت میں مصروف رہے تو پھر کوئی مانِع(یعنی رکاوٹ) نہیں کہ اس کی مَحَبَّت کوعشق کہا جائے ، کیونکہ مَحَبَّت ہی کا دوسرا نام عشق ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۱ ص ۱۱۵تا ۱۱۶)“ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 218۔219، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2554
تاریخ اجرا: 28ربیع الآخر1447ھ/22 اکتوبر2025ء