logo logo
AI Search

میدان حشر عرفات میں ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا میدان عرفات حشر کا میدان ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

میدانِ عرفات، حشر کا میدان نہیں، بلکہ حدیث پاک کی رو سے میدانِ حشر، سر زمین "شام" میں قائم ہو گا، لہذا گائیڈر حضرات کا یہ کہنا کہ "عرفات کا میدان ہی میدان محشر ہے" درست نہیں، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

حدیث پاک میں ہے، سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: الشام أرض المحشر و المنشر" ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: شام حشر و نشر کی زمین ہے۔ (کنز العمال، جلد 12، صفحہ 273، الحدیث: 35013، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

اس حدیث کے تحت فیض القدیر میں ہے "(الشام أرض المحشر و المنشر) أي البقعة التي يجمع الناس فيها إلى الحساب و ينشرون من قبورهم ثم يساقون إليها و خصت بذلك لأنها الأرض التي قال اللہ فيها {باركنا فيها للعالمين} وأكثر الأنبياء بعثوا منها فانتشرت في العالمين شرائعهم فناسب كونها أرض المحشر و المنشر" ترجمہ: (شام حشر اور نشر کی سرزمین ہے) یعنی وہ جگہ جہاں لوگوں کو حساب کے لیے جمع کیا جائے گا، انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اور پھر اسی (سرزمین) کی طرف ہانکا جائے گا۔ اسے اس لیے خاص کیا گیا کیونکہ یہ وہ زمین ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے {جس میں ہم نے تمام جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے}، اور اکثر انبیاء یہیں سے مبعوث ہوئے چنانچہ ان کی شریعتیں دنیا بھر میں پھیلیں، لہٰذا اس کا حشر اور نشر کی زمین ہونا بالکل مناسب ہے۔ (فيض القدير، حرف الشین، فصل فی المحلی بـأل [للتعريف]، جلد 4، صفحہ 171، مطبوعہ: مصر)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 132، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5379
تاریخ اجراء: 21 ربیع الاول 1448ھ / 04 ستمبر 2026ء