logo logo
AI Search

بچے کے پیدائشی بال اور ناف کو دفن کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کے پیدائشی بال اور ناڑو کو دفن کرنے کا حکم ہے

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچوں کی پیدائش کے بال اور ناف دفنا دیں یا دریا میں بہا دیں؟

جواب

بچوں کی پیدائش کے وقت کے بال اور ناف کو دفن کر دینا چاہئے، کیونکہ انسانی جسم سے جو بھی چیز جدا ہو، اسے دفن کرنے کا ہی حکم ہے۔

کنز العمال کی حدیث پاک میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے:

"كان يأمر بدفن ‌سبعة ‌أشياء من الإنسان: الشعر والظفر والدم والحيضة والسن والعلقة والمشيمة."

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم انسانی اعضا میں سے سات چیزوں کو دفن کرنے کا حکم فرماتے: بال، ناخن، خون، حیض کا کپڑا، دانت، لوتھڑا اور ناڑو۔ (کنز العمال، جلد 7، صفحہ 127، حدیث 18320، مؤسسة الرسالة)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے

"وفي الخانية ‌ينبغي ‌أن ‌يدفن ‌قلامة ‌ظفره ومحلوق شعره وإن رماه فلا بأس وكره إلقاؤه في كنيف أو مغتسل لأن ذلك يورث داء وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر والظفر وقال لا تتغلب به سحرة بني آدم اهـ ولأنهما من أجزاء الآدمي فتحترم وروى الترمذي عن عائشة رضي الله عنها كان صلى الله عليه وسلم أمر بدفن سبعة أشياء من الإنسان الشعر والظفر والحيضة والسن والقلفة والمسحةاهـ"

ترجمہ: خانیہ میں ہے، مناسب ہے کہ اپنے کاٹے ہوئے ناخن اور منڈے ہوئے بال دفن کر دے اور اگر اسے پھینک دیا تو بھی حرج نہیں، اور بیت الخلا یا غسل خانے میں پھینکنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے، اور مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بال اور ناخن کو دفنانے کا حکم ارشاد فرمایا، اور فرمایا: بنی آدم کے جادوگر اس کی وجہ سے قابو نہیں پا سکتے، یہ وجہ بھی ہے کہ یہ دونوں انسان کے اجزا ہیں، تو یہ بھی قابل احترام ہیں، اور امام ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے انسان کی سات چیزوں کو دفن کرنے کا حکم دیا؛ بال، ناخن، حیض کا کپڑا، دانت، ختنہ شدہ کھال اور وہ کپڑا، جس سے انسان کے بدن سے خون وغیرہ نکلنے والا مادہ صاف کیا جائے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 527، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4709
تاریخ اجراء: 14 شعبان المعظم 1447ھ/03 فروری 2026ء