logo logo
AI Search

بال شیمپو سے سیاہ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شیمپو سے بال کالے کرنا جائز ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میرا ایک بیٹا ہے جس کی عمر ابھی صرف سات سال کی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کچھ وٹامنز کی کمی کے سبب اس کا سر ابھی سے سفید ہونا شروع ہوگیا ہے، مجھے پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اس کو بال سیاہ کرنے کی (Medicines) کھلا سکتی ہوں؟ نیز اس دوران اس کے سر پر سیاہ مہندی نہ لگاؤں بلکہ شیمپو والا بلیک کلر لگاؤں جس کو دھونے کے بعد بال سیاہ ہوجاتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

شیمپو سے اگر بال اسی طرح سیاہ ہوتے ہیں جیسے باقاعدہ سیاہ رنگ لگانے سے تو شیمپو والے بلیک کلر کے ذریعے تو اپنے بیٹے کے بال سیاہ نہیں کرسکتیں، اگر کریں گی تو گنہگار ہوں گی، کیونکہ بالوں کو سیاہ کرنا خواہ شیمپو والے بلیک کلرسے ہو یا کالی مہندی سے ہو، جس طرح بالغ کیلئے (حالتِ جہاد کے علاوہ) ناجائز و حرام ہے، یونہی نابالغ کے حق میں بھی یہ ناجائز ہے، البتہ اس کا گناہ خود نابالغ پر نہیں بلکہ اس کے سر میں بلیک کلر یا شیمپو وغیرہ لگانے والے پر ہوگا۔ رہا دوائیں وغیرہ کھلاکر بالوں کو سیاہ کرنا! تو یہ جائز ہے، کیونکہ احادیث طیبہ میں بالوں کو سیاہ کرنے کی جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد بلیک کلر کے ذریعے بال سیاہ کرنا ہے، لہٰذا اگر کوئی ایسی دوائیں وغیرہ کھاتا ہے کہ جس سے وٹامنز کی کمی پوری ہوجائے اور آئندہ سیاہ بال اُگیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں، بالغ و نابالغ دونوں کیلئے یہی حکم ہے۔

بالوں کو سیاہ کرنے کی ممانعت کے متعلق، سنن ابی داؤد میں ہے:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یکون قوم فی اٰخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحواصل الحمام لا یريحون رائحۃ الجنۃ

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں کچھ لوگ سیاہ خضاب لگائیں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گے۔ (سنن أبی داؤد، ج 6، ص 272،دار الرسالة العالمية)

مذکورہ ممانعت کا تعلق سیاہ رنگ سے ہے، چنانچہ علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ مرقاۃ میں حدیث مذکور کے الفاظ یخضبون بھذا السوادکے تحت لکھتے ہیں:

أراد جنسه لا نوعه المعين، فمعناه باللون الأسود

ترجمہ: اس سے مراد جنس سواد ہے، اس کی کوئی خاص نوع مراد نہیں ہے تو اس کا معنیٰ ہے: کالے رنگ کے ذریعے بال سیاہ کرنا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج 03، ص 463، دار الفکر)

سیاہ رنگ مہندی کا ہو یا شیمپو والے کلر کا، بہرصورت ممنوع ہے، چنانچہ فتاوٰی رضویہ میں ہے: سیاہ خضاب خواہ مازو و ہلیلہ و نیل کا ہو، خواہ نیل و حناء مخلوط، خواہ کسی چیز کا، سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 23، ص 487، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دوائیں وغیرہ کھا کر بال سیاہ کرنے کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے سوال کیا گیا: حضور! اگر ادویات پی کر بال سیاہ ہوجائیں تو یہ بھی خضاب کے حکم میں ہے؟ اس پر جوابا ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، دوا کھانے سے سپید بال سیاہ نہ ہوجائیں گے، بلکہ قوت وہ پیدا ہوگی کہ آئندہ سیاہ نکلیں گے، تو کوئی دھوکہ نہ دیا گیا نہ خلق اللہ کی تبدیل کی گئی۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ دوم، ص 311، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بلیک کلر کے ذریعے نابالغ کے بال سیاہ کرنا بھی جائز نہیں، چنانچہ علامہ سید شامی علیہ الرحمۃ ایک قاعدہ بیان کرتے ہوئے رد المحتار میں فرماتے ہیں:

يحرم على البالغ أن يفعل بالصغير ما يحرم على الصغير فعله إذا بلغ، و لذا يحرم على أبيه أن يلبسه حريرا أو حليا لو كان ذكرا أو يسقيه خمرا ونحو ذلك

ترجمہ: بالغ پر حرام ہے کہ وہ نابالغ کے ساتھ ایسا فعل کرے کہ نابالغ پر بالغ ہوجانے کے بعد وہ فعل کرنا حرام ہو، اسی وجہ سے باپ پر حرام ہے کہ وہ نابالغ لڑکے کو ریشم یا زیور پہنائے یا اس کو شراب پلائے یا اس کی مثل دوسری چیزیں۔ (رد المحتار، ج 01، ص 655،دار الفکر، بیروت)

لیکن گناہ کلر لگانے والے پر ہوگا نہ کہ خود نابالغ پر، چنانچہ رد المحتار میں ہے:

أن النص حرم الذهب و الحرير على ذكور الأمة بلا قيد البلوغ و الحرية و الإثم على من ألبسهم لأنا أمرنا بحفظهم ذكره التمرتاشی و في البحر الزاخر: و يكره للإنسان أن يخضب يديه و رجليه، و كذا الصبي إلا لحاجة و لا بأس به للنساء

ترجمہ: نصِ حدیث نے سونے اور ریشم کو بغیر بلوغت یا آزادی کی قید کے حرام ٹھہرایا ہے۔ (لہذا بچےکے حق میں بھی حرام ہی ہے۔) اور گناہ اُس فرد پر ہے، جس نے بچوں کو ریشم یا سونا پہنایا، کیونکہ ہمیں بچوں کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بات کو علامہ تمرتاشی علیہ الرحمۃ نے ذکر فرمایا ہے اور بحر زاخر میں ہے کہ انسان کیلئے بغیر حاجت اپنے ہاتھوں اور پاؤں پر خضاب لگانا مکرو ہ ہے اور اسی طرح بچے کا بھی یہی حکم ہے اور عورت کیلئے اس میں کوئی حرج نہیں۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 6، صفحہ 362، مطبوعہ دار الفكر)

بہار شریعت میں ہے: لڑکوں کو سونے چاندی کے زیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا، وہ گنہگار ہوگا۔ اسی طرح بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلا ضرورت مہندی لگانا، ناجائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 428، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0439
تاریخ اجراء: 12 ربیع الثانی 1446ھ / 16 اکتوبر 2024ء