والدین کی بد دعا اولاد کے لیے قبول ہوتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
والدین کی بد دعا اولاد کے حق میں کب قبول ہوتی ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا والدین کی بد دعا ہر حال میں قبول ہوتی ہے؟ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی؟
جواب
والدین کی اولاد کے خلاف بد دعا، ہر حال میں قبول نہیں ہوتی، بلکہ اس میں تفصیل ہے؛ کہ ماں باپ کا اولاد کو بد دعا دینا، دو طرح سے ہوتا ہے:
اول: یہ کہ وہ اس بد دعا سے اولاد کا (خواہ بیٹا ہو یا بیٹی) دل سے نقصان و ضرر نہیں چاہتے، بلکہ اگر اولاد کو تکلیف پہنچے، تو اس پران سے زیادہ بے چین ہونے والا کوئی نہ ہو، اسی قسم کی بد دعا کے لیے حضور نبی کریم، رؤف و رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی سے مانگا کہ وہ قبول نہ کرے۔
ثانی: اگر ماں باپ کا دل اولاد سے بیزار ہو جائے، اور وہ اولاد کو نقصان و ضرر پہنچنے کے آرزو مند ہوں، اور یہ بات ماں باپ کو معاذ اللہ اسی وقت ہوگی کہ جب اولاد اپنی شقاوت سے نافرمانی کو اس حد تک پہنچادے کہ ان کا دل واقعی اس کی طرف سے سیاہ ہو جائے، اور اصلا محبت نام کونہ رہے، بلکہ نفرت و عداوت آ جائے، تو ماں باپ کی ایسی ہی بد دعا کے لیے فرمایا گیا کہ وہ رد نہیں ہوتی۔
چنانچہ فضائلِ دعا میں ہے ”اور فرماتے ہیں: "تین دعائیں بیشک مقبول ہیں: دعا مظلوم کی اور دعا مسافر کی اور ماں باپ کا اپنی اولاد کو کوسنا۔" رواہ الترمذي وحسَّنہ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ۔
تنبیہ: دیلمی وغیرہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إنّی سألت اللہ أن لا یقبل دعاء حبیب علی حبیبہ)
بیشک میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کسی پیارے کی پیارے پر بد دعا قبول نہ فرمائے۔۔۔۔
أقول وباللہ التوفیق: بد دعا دو طور پر ہوتی ہے: ایک یہ کہ داعی (یعنی دعا کرنے والے) کا قلب حقیقۃً اس کا یہ ضرر (نقصان)نہیں چاہتا، یہاں تک کہ اگر واقع ہو تو خود سخت صدمے میں گرفتار ہو۔ جیسے: ماں باپ غصے میں اپنی اولاد کو کوس لیتے ہیں مگر دل سے اس کا مرنا یا تباہ ہونا نہیں چاہتے اور اگر ایسا ہو تو اس پر ان سے زیادہ بے چین ہونے والا کوئی نہ ہوگا۔ دیلمی کی حدیث میں اسی قسمِ بد دعا کیلئے وارد کہ حضور رءوف الرحیم رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا مقبول نہ ہونا اللہ تعالیٰ سے مانگا۔ نظیر اس کی وہ حدیث صحیح ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عرض کی: "الٰہی! میں بشر ہوں بشر کی طرح غضب فرماتا ہوں تو جسے میں لعنت کروں یا بد دعا دوں اسے تو اس کے حق میں کفارہ و اجر و باعثِ طہارت کر۔" دوسرے اس کے خلاف کہ داعی کا دل حقیقۃً اس سے بیزار اور اُس کے اس ضرر کا خواستْگار (امید وار)ہے اور یہ بات ماں باپ کو معاذ اللہ اسی وقت ہوگی جب اولاد اپنی شقاوت سے عقوق کو (یعنی: نافرمانی و سرکشی کو) اس درجہ حد سے گزار دے کہ ان کا دل واقعی اس کی طرف سے سیاہ ہو جائے اور اصلاً محبت نام کو نہ رہے بلکہ عداوت آ جائے۔ ماں باپ کی ایسی ہی بد دعا کے لیے فرماتے ہیں کہ رَدّ نہیں ہوتی۔ والعیاذ باللہ سبحنہ وتعالٰی، ھذا ما ظھر لي، واللہ تعالٰی أعلم۔“ (فضائلِ دعا، صفحہ 213-214، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4733
تاریخ اجراء: 24 شعبان المعظم1447ھ/13 فروری 2026ء