logo logo
AI Search

نابالغ بچوں پر پریشانیاں کیوں آتی ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نابالغ بچوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سورۃ الشورٰی کی آیت نمبر 30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ

کے مطابق لوگوں کو جو مصیبتیں آتی ہیں وہ ان کے اپنے اعمال کے سبب آتی ہیں تو اس آیت کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ مصیبتیں تو نابالغ بچوں پر بھی آتی ہیں تو وہ کس سبب سے آتی ہیں؟

جواب

قرآن و احادیث کے مطابق مومن کو مصیبت پہنچنے کی من جملہ وجوہات میں، اعمال کی سزا، گناہوں کی مغفرت کے ساتھ ساتھ درجات کی بلندی اورآخرت کا ثواب بھی شامل ہے۔ اعمال کی سزا کے طورپرمصیبت پہنچنا تو سوال میں مذکور آیت سے ہی واضح ہے، دیگر وجوہات کو احادیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ان وجوہات کے علاوہ بھی بے شمار حکمتیں علمِ الٰہی میں ہوسکتی ہیں جو ہم پرمخفی رکھی گئی ہوں۔ اس لئے سورۃ الشورٰی کی آیت نمبر30 کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہرفرد پر ہرقسم کی مصیبت صرف گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہے۔

جہاں تک آیت کی روشنی میں نابالغ بچوں پرمصیبتیں آنے کی بات ہے تو

اولاً: نابالغ بچے اس آیت کےخطاب میں شامل ہی نہیں ہیں۔ اس لئےآیت مبارکہ کو دیکھتے ہوئے ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نابالغ بچوں پر مصیبتیں آنا ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ثانیاً: مفسرین کی تصریح موجود ہے کہ نابالغ بچوں پر مصیبتیں آنا، ان کیلئے اور ان کے والدین کیلئے آخرت کے ثواب یا پھر ان کے والدین کے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اعمال کی سزا کے طورپرمصیبت آنے کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ

ترجمہ کنز العرفان: اورتمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو وہ معاف فرما دیتا ہے۔ (پارہ 25، سورۃ الشورٰی، آیت نمبر 30)

تفسیر بحر العلوم میں ہے:

(وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ) يعنی: ما تصابون من مصيبة فی أنفسكم، و أموالكم (فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ) يعني: يصيبكم بأعمالكم، و معاصيكم (وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ) يعني: ما عفى اللہ عنه، فهو أكثر

ترجمہ: یعنی تمہاری ذات میں اور تمہارے اموال میں جو مصیبتیں آتی ہیں وہ تمہارے اعمال اور گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، اور جو کچھ اللہ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ (تفسیر بحر العلوم، جلد 3، صفحہ 196، مطبوعہ بیروت)

مصیبتوں سے گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی اور ثواب کا حصول بھی ہوتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے:

عن عائشة، قالت: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ما يصيب المؤمن من شوكة فما فوقها الا رفعه اللہ بها درجة، أو حط عنه بها خطيئة

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مومن کو ایک کانٹا یا اس سے بڑھ کر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ پاک اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرماتا ہے۔ (مسلم شریف، حدیث نمبر 6562، صفحہ 1071، مطبوعہ بیروت)

امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ کی شرح مشکل الآثار میں اور طرح التثریب فی شرح التقریب میں مذکورہ حدیث پاک پر کلام کرتے ہوئے فرمایا:

(النظم لطرح التثریب) و فی احدى طريقی الأسود عن عائشة رفعه اللہ بها درجة أو حط عنه بها خطيئة، و هو اما شك من الراوی، و اما تنويع من النبی صلى اللہ عليه و سلم باعتبار الناس فالمذنب يحط عنه خطيئة، و من لا ذنب له كالأنبياء، و من عصمه اللہ تعالى ترفع له درجة أو باعتبار المصائب فبعضها يترتب عليه حط الخطيئة، و بعضها يترتب عليه رفع الدرجة، و فی طريق الأسود عن عائشة الآخر الجمع بين رفع الدرجة، و حط الخطيئة، و فی رواية الأسود عند الطبرانی كتابة عشر حسنات، و تكفير عشر سيئات، و رفع عشر درجات، و الزيادة مقبولة اذا صح سندها، و ذلك يقتضی حصول الأجور على المصائب، و بهذا قال الجمهور۔

ترجمہ: ایک سند میں امام اسودرحمہ اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے یہ الفاظ روایت فرماتے ہیں: اللہ پاک مصیبت کی وجہ سے یا تو درجہ بلند فرماتا ہے یا پھر اس کا ایک گناہ معاف فرماتا ہے۔ یا کے لفظ سے بیان کرنا، یا تو راوی کی طرف سے شک ہے یا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کے اعتبار سے دو نوعیں بیان فرمائی ہیں، اس طرح کہ جو گناہ گار ہوتا ہے اس کا گناہ معاف ہوتا ہے اور جس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا جیسے انبیاء علیھم السلام یا جسے اللہ پاک گناہ سے محفوظ رکھے تو ان کیلئے درجہ بلند ہوتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تشکیک مصیبتوں کے اعتبار سے ہو کہ بعض مصیبتوں پر گناہوں کی معافی ہوتی ہے اور بعض مصیبتوں پر درجہ بلند ہوتا ہے۔ ایک دوسری سند میں امام اسود رحمہ اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے جو روایت کرتے ہیں اس میں درجہ کی بلندی اور گناہوں کی معافی، دونوں کے ملنے کی بشارت ہے، اور امام طبرانی رحمہ اللہ جو امام اسود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، اس میں دس نیکیاں لکھنے، دس گناہ معاف ہونے اور دس درجات کی بلندی کا ذکر ہے، اس روایت میں جو نیکیاں لکھنے کو زائد کیا گیا ہے، یہ زیادتی مقبول ہوگی جب اس کی سند صحیح ہو، یہ روایت تقاضا کرتی ہے کہ مصیبتوں پر ثواب کا حصول بھی ہوتا ہے، اور یہی جمہور کا قول ہے۔ (طرح التثریب فی شرح التقریب جلد 3، صفحہ 344، مطبوعہ بیروت)

شرح الزرقانی علی الموطا میں ہے:

و فی روایۃ لمسلم: الا رفعہ اللہ بھا درجۃ و حط عنہ بھا خطیئۃ  قال الحافظ: و هذا يقتضی حصول الأمرين معا: حصول الثواب، و رفع العقاب، و شاهده ما للطبرانی الأوسط من وجه آخر عن عائشة بلفظ: ما ضرب على مؤمن عرق قط، إلا حط الله عنه به خطيئة، و كتب له حسنة، و رفع له درجة، و سنده جيد

ترجمہ: امام مسلم رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ اس مصیبت کے ذریعے درجہ بلند فرماتا ہے اور خطا بھی مٹاتا ہے۔ حافظ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ تقاضا کرتا ہے کہ دونوں چیزیں ہی ایک ساتھ حاصل ہوں، ثواب کا حصول بھی ہو اور سزا کا دور ہونا بھی ہو، اس کا شاہد وہ روایت ہے جو امام طبرانی رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے ایک دوسری سند کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ مومن پر کوئی بھی مشقت ڈالی جاتی ہے تو اللہ پاک اس کے ذریعے اس کا ایک گناہ معاف فرماتا ہے، اس کیلئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے۔ اس حدیث کی سند، جیّد ہے۔ (شرح الزرقانی علی الموطا جلد 4، صفحہ 435، مطبوعہ قاہرہ)

نابالغ بچے، سوال میں مذکور آیت کا مخاطب ہی نہیں ہیں۔ تفسیرمدارک میں ہے:

الآية مخصوصة بالمكلفين بالسباق و السياق

ترجمہ: سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ یہ آیت مکلفین کے ساتھ خاص ہے۔ (تفسیرمدارک جلد 2، صفحہ 509، مطبوعہ بیروت)

تفسیر خزائن العرفان میں فرمایا: یہ خطاب مومنین مکلفین سے ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں، مراد یہ ہے کہ دنیا میں جوتکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں، اکثر ان کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں۔ ان تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف، اس کے رفعِ درجات کیلئے ہوتی ہے جیساکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں وارد ہے۔ انبیاء علیھم السلام جو گناہوں سے پاک ہیں اور چھوٹے بچے جو مکلف نہیں ہیں،اس آیت کے مخاطب نہیں۔ (خزائن العرفان، صفحہ 895، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

نابالغ بچوں پرآنے والی مصیبتوں کے بارے میں، امام قرطبی اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں اورامام ابوالحسن الماوردی تفسیر النکت و العیون میں فرماتے ہیں:

النظم للآخر ثم فيها قولان: أحدهما: أنها خاصة فی البالغين أن تكون عقوبة لهم، وفی الأطفال أن تكون مثوبة لهم۔ الثانی: عقوبة عامة للبالغين فی أنفسهم و للأطفال فی غيرهم من والدٍ أو والدة ، قاله العلاء بن زيد۔

ترجمہ: مصائب کے بارے میں دو قول ہیں: ایک یہ کہ سزا کے طورپرمصیبتیں آنا، صرف بالغ افراد کے ساتھ خاص ہے ،بچوں میں پرمصیبتیں آنا، ان کے ثواب کیلئے ہوتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بالغ افراد میں مصیبتیں، بالغ افراد کے اپنے اعمال کی وجہ سے اور بچوں میں مصیبتیں، ان کے اپنے اعمال نہیں بلکہ ان کے والدین کے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔ اس قول کے قائل علاء بن زید ہیں۔ (النکت و العیون جلد 5، صفحہ 204، مطبوعہ بیروت)

تفسیر اشرفی میں اس آیت کے تحت فرمایا: مصائب کے آنے کے اسباب کے سلسلے میں عطرِ تحقیق یہ ہےکہ عام بندہ مومن پردنیا میں جو مصائب آتے ہیں، وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں، البتہ انبیاء کرام علیھم السلام پر جو مصائب آتے ہیں، وہ ان کے درجات میں ترقی کیلئے ہوتے ہیں، اور صالحین پر جو مصائب آتے ہیں، وہ ان کے امتحان کیلئے ہوتے ہیں، اوردیوانوں اوربچوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کے والدین کیلئے اجروثواب کا باعث ہیں بشرطیکہ وہ صبرکریں۔ (تفسیر اشرفی جلد 9، صفحہ 38، مطبوعہ لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0196
تاریخ اجراء: 22 رجب المرجب 1447ھ / 12 جنوری 2026ء