عمرہ کیلئے پیسوں کا سوال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کرنے کے لئے سوال کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عمرے کے لیے سوال کرنا جائز ہے؟ معاشرے میں عمومی طور پر یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے، کہ کئی افراد سوال کرتے ہیں، کہ ہم عمرہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مالی طور پر کمزور ہیں، آپ ہمیں عمرہ کروا دیں، یا عمرے کی رقم دے دیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب
عمرہ باوجود ہزار نعمت و سعادت ہونے کے، ضروریات زندگی میں سے نہیں ہے، لہذا اس مقصد کے لیے اپنی ذات کے لیے سوال کرنا، کسی صورت جائز نہیں، کہ یہ بلاضرورت سوال کرنا ہے، اور بلاضرورت سوال کرنا، حرام و گناہ ہے۔
احسن الوعاء لآداب الدعاء میں ہے غرض اصل کُلِّی وہی ہے کہ جو حاجت و ضرورت واقعی و شرعی ہو اور طریقہ تحصیل سِوا سوال کے دوسرا نہ ہو (مانگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تو) اس کے لیے بقدرِ حاجت، تا وقتِ حاجت سوال جائز ہے ورنہ حرام۔ (احسن الوعاء لآداب الدعاء، بنام فضائل دعا، صفحہ 270، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سیدی و مرشدی امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم القدسیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: مدنی قافلے میں سفر یا سالانہ اجتماع میں شرکت کی خاطر اپنی ذات کے لیے کرائے وغیرہ اخراجات کا سوال کرنا مسکین کو بھی حلال نہیں کیونکہ یہ کام ضروریات میں شامل نہیں یہاں تک کہ حج و عمرہ اور سفر مدینہ کے لیے بھی سوال کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (چندے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 91، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4750
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم1447ھ / 18فروری2026ء