logo logo
AI Search

فرشتوں کو نبی کیوں نہیں بنایا گیا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فرشتوں کو انبیاء کی جگہ نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

فرشتوں کو انبیائے کرام کی جگہ نبی بناکر کیوں نہیں بھیجا گیا ؟

جواب

یہ اعتراض کفار کا تھا اور اس کا جواب خود اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرما چکا۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا(۹۴) قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا(۹۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا؟ تم فرماؤ! اگر زمین میں فرشتے ہوتے چَین(اطمینان) سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ اتارتے۔ (پارہ 15، سورہ بنی اسرائیل، آیت 94- 95)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: لوگوں کے پاس ہدایت آچکی ہے مگر انہیں صرف اس بات نے ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا ہے؟ یعنی وہ لوگ رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے اور اُن کے منصب نبوت اور اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے معترف نہ ہوئے، یہی اُن کے کفر کی اصل وجہ تھی اور اسی لئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔

کفار کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ تم ان سے فرما دو کہ اگر انسانوں کی بجائے زمین میں صرف فرشتے رہائش پذیر ہوتے جو یہاں چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن جب زمین میں انسان بستے ہیں تو رسول بھی انسان ہی بنایا جاتا ہے۔ فرشتوں کیلئے فرشتہ ہی رسول بھیجا جاتا کیونکہ وہ اُن کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو اُن کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بے جا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 517، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2320
تاریخ اجراء: 20ذوالحجۃالحرام1446ھ /17جون2025ء