کیا دیکھے بغیر بھی نظرِ بد لگ سکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی چیز کو دیکھے بغیر نظر بد لگ سکتی ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کیا نظر بد دیکھنے سے ہی لگتی ہے یا کسی شے کو دیکھا نہ ہو اور دیکھے بغیر اس کی تعریفیں کریں اس سے بھی نظر لگ سکتی ہے؟
جواب
ایک شخص سے کسی دوسرے کو ضرر کئی طرح پہنچ سکتا ہے، جیسے ہاتھ پاؤں سے باقاعدہ کسی کو مارنا، زخمی کرنا، یا زبانی جیسے گالی دینا، یا غیر مرئی انداز سے جیسے جادو یا نظر بد یا کسی اور طرح سے۔ ان اقسام میں جو نظر بد کی صورت ہے اس کے متعلق ائمہ امت رحمھم اللہ نے صراحت فرمائی ہے کہ نظر دیکھنے والے کی آنکھ کی تاثیر سے لگتی ہے یعنی جب کسی شے کو پسندیدہ نظروں سے دیکھے اور اللہ کا ذکر نہ کرے یا ضرر ہی کی نیت سے دیکھے، لہٰذا نظربد والی صورت میں تو دیکھنا ہی ضروری ہے، دیکھے بغیر محض تعریف کرنے سے نظر نہیں لگتی البتہ غیر مرئی نقصان پہنچنا نظر بد ہی پر موقوف نہیں بلکہ ممکن ہے کہ نظر بد نہ ہو لیکن کسی اور وجہ سے ضرر پہنچے۔ عاملین کو ان چیزوں کی کامل پہچان نہیں ہوتی، لہٰذا وہ بہت سی چیزوں اور اثرات کو آپس میں مکس کردیتے ہیں۔
نظر بد، دیکھنے ہی سے لگتی ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ عمدة القاری میں ہے:
روى النَّسَائِيّ من حَدِيث عَامر بن ربيعَة أَن النَّبِي صلی اللہ علیہ و سلم قَالَ: إِذا رأى أحدكُم من نَفسه أَو مَاله أَو أَخِيه شَيْئا يُعجبهُ فَليدع بِالْبركَةِ، فَإِن الْعين حق
ترجمہ: امام نسائی نے عامر بن ربیعہ سے حدیث روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود میں، اپنے مال میں یا اپنے مسلمان بھائی میں کوئی ایسی شے دیکھے جو اسے پسند آئے تو برکت کی دعا کرے، کیونکہ نظر لگنا حق ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 21، ص 266، ط:دار إحياء التراث العربي)
امام ابو الفرج ابن الجوزی حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
العين: نظر باستحسان يشوبه شيء من الحسد، و يكون الناظر خبيث الطبع كذوات السموم فيؤثر في المنظور إليه۔۔۔ فكذلك الآدمي
ترجمہ: نظر لگنا: کہتے ہیں کسی شے کو پسندیدہ نظروں سے دیکھنے کو جس میں حسد کا کچھ حصہ شامل ہو، اور دیکھنے والا خبیث الطبع ہوتا ہے جیسے زہریلے جاندار تو وہ جسے دیکھے اس میں اثر انداز ہوتا ہے۔۔۔ اسی طرح آدمی کا معاملہ ہے۔ (کشف المشکل من حدیث الصحیحین، ج 2، ص 445، 446، مطبوعہ ریاض)
علامہ علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
و في النهاية يقال: أصابت فلانا عين إذا نظر إليه عدو أو حسود، فأثرت فيه، فمرض بسببها۔۔۔ و مذهب أهل السنة أن العين يفسد و يهلك عند نظر العائن بفعل اللہ تعالى أجرى العادة أن يخلق الضرر عند مقابلة هذا الشخص بشخص آخر
ترجمہ: نہایہ میں ہےکہا جاتا ہے کہ فلاں کو نظر لگ گئی، جب اسے کوئی دشمن یا حاسد دیکھتا ہے تو اس میں اس کا دیکھنا اثر اندار ہوتا ہے جس کے سبب وہ مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔۔۔ اور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ نظر لگانے والے کے دیکھنے کے وقت آنکھ فساد پیدا کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فعل کی وجہ سے کہ اس نے عادت جاری فرمائی کہ ایک شخص کے دوسرے کے سامنے آنے کے وقت نقصان پیدا فرماتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 7، ص 2820، 2870،دار الفکر)
امام نووی الشافعی شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:
أما العين فهي إصابة العائن غيره بعينه
ترجمہ: نظر لگنا یہ ہےکہ نظر لگانے والا اپنی آنکھوں سے دوسرے کو مصیبت پہنچائے۔ (شرح النووی علی مسلم، ج 3، ص 93، دار إحياء التراث العربي)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0447
تاریخ اجراء: 25 ربیع الثانی 1446ھ / 29 اکتوبر 2024ء