logo logo
AI Search

زندگی میں ہی کفن و قبر تیار کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زندگی میں ہی کفن اور قبر تیار کروانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض اوقات لوگ اپنے لیے زندگی ہی میں کفن تیار کروا کر رکھ لیتے ہیں اور بعض لوگ اپنے لیے قبر بھی پہلے سے بنوا لیتے ہیں، تو زندگی میں پیشگی کفن و قبر کا انتظام کر لینا کیسا ہے؟ سائل: محمد احمد حسان رضا (گلشن اقبال، کراچی)

جواب

(1) زندگی میں پہلے سے کفن تیار کرکے رکھ لینا، جائز ہے، اس سے موت کی یاد اور قبر و آخرت کی تیاری کا ذہن بنتا ہے اور اگر کفن متبرک کپڑے کا ہو، مثلا اس پر آبِ زم زم کے قطرے چھڑکے ہوں یا کعبۃ اللہ شریف سے لگایا ہوا کپڑا ہو یا مکۃ المکرمہ و مدینۃ المنورہ سے آیا ہوا کپڑا ہو، تو اسے اپنے کفن کی نیت سے سنبھال لینا ایک اچھا کام ہے، بلکہ متبرَّک اور نسبت والے کپڑے کو کفن کی نیت سے سنبھال لینا جلیل القدْر صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عَوف یا حضرت سعد بن ابی وقّاص رضی اللہ عنہما سے بھی ثابت ہے، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پہنا ہوا تہبند مانگ کر اپنے کفن کے لیے رکھ لیا تھا اور اسی تہبند میں انہیں کفن دیا گیا تھا۔ البتہ اس بات کا بھی خیال ضروری ہے کہ زندگی میں تیار کیا ہوا کفن اس طرح محفوظ کیا جائے کہ وہ رکھے رکھے میلا اور بوسیدہ نہ ہو جائے یا اس کا رنگ نہ بدل جائے، ورنہ کفن پہنانے سے پہلے اسے اچھی طرح دھو کر صاف کر لینا چاہیے، کیونکہ فوت شدہ شخص کے لیے شریعت نے سفید اور صاف ستھرے، اُجلے کفن کو پسند کیا ہے اور مزید بہتر یہ ہے کہ کفن کا کپڑا ایسا ہو کہ جیسا کپڑا مرد اپنی زندگی میں جمعہ و عید وغیرہ بڑے مواقع پر اور عورت اپنے میکے جاتے وقت پہنتی تھی۔

(2) جہاں تک اپنی زندگی میں اپنے لیے پہلے سے قبر بنا لینے کا معاملہ ہے، تو ایسا کرنا بہتر نہیں ہے، کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ وہ کہاں فوت ہو گا۔ اس لیے علما نے پہلے سے قبر بنانے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ پہلے سے قبر تیار کر کے رکھ لینا ، جائز ہے، ناجائز نہیں بلکہ بعض بزرگانِ دین جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز اور حضرت ربیع بن خیثم وغیرہ رضی اللہ عنہم سے موت اور آخرت کی یاد کے لیے زندگی ہی میں قبر بنا لینا بھی ثابت ہے۔

برکت اور نسبت والے کپڑے کو زندگی ہی میں کفن کی نیت سے رکھ لینے کے متعلق صحیح بخاری میں ہے:

عن سھل رضی اللہ عنه أن امرأة جاءت النبی صلى اللہ عليه و سلم ببردة منسوجة فيها حاشيتها، أتدرون ما البردة؟ قالوا: الشملة، قال: نعم، قالت: نسجتُها بيدی فجئتُ لأكسوكَها، فأخذها النبی صلى اللہ عليه وسلم محتاجا إليها، فخرج إلينا و إنها إزاره، فحسّنها فلان فقال: اكسنيها، ما أحسنها، قال القوم: ما أحسنتَ، لبسها النبی صلى اللہ عليه و سلم محتاجا إليها، ثم سألتَه وعلمتَ أنه لا يرد، قال: إنی و اللہ ما سألته لألبسه، إنما سألته لتكون كفنی، قال سهل: فكانت كفنَه

ترجمہ: حضرت سَہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون بُنی ہوئی خوبصورت چادر لے کر حاضر ہوئیں۔ (حضرت سَہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا:) کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ کون سی چادر تھی؟ لوگوں نے جواب دیا: وہ تہبند تھا۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ خاتون نے عرض کی: میں اِسے اپنے ہاتھ سے بُن کر حاضر ہوئی ہوں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پہناؤں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وہ چادر لے لی اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اُس چادر کا تہبند باندھ کر ہمارے پاس تشریف لائے، تو فُلاں صحابی نے اس چادر کی تعریف کی اور عرض کیا: یہ بہت خوبصورت ہے، یہ مجھے پہنا دیجیے۔ لوگوں نے کہا: ”تم نے اچھا نہیں کیا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اپنی ضرورت کے لیے پہنا تھا ۔ پھر بھی تم نے یہ مانگ لی اور تم جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کسی کا سُوال رد نہیں فرماتے۔ اس نے کہا: اللہ پاک کی قسم! میں نے یہ چادر پہننے کے لیے نہیں مانگی، میں نے تو یہ اس لیے مانگی ہے تاکہ یہ میرا کفن بنے۔ حضرت سَہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو وہ چادر ان صحابی رضی اللہ عنہ کا کفن بنی۔ (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب من استعد الكفن فی زمن النبی صلى الله عليه وسلم فلم ينكر عليه، ج 2، ص 78، مطبوعہ مصر)

امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: حدیثِ صحیح میں ہے بعض اجلۂ صحابہ نے کہ غالباً سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف یا سیِّدُنا سعدبن ابی وقّاص رضی اللہ تعالٰی عنہم ہیں، حُضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے تہبند اقدس (جو کہ ایک بی بی نے بہت محنت سے خوبصورت بُن کر نذر کیا اورحُضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اس کی ضرورت تھی) مانگا۔ حُضور اَجوَدُ الاجودِین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے عطا فرمایا۔ صحابہ کِرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اُنہیں ملامت کی کہ اُس وقت اس اِزار شریف کے سوا حُضور اقدس صلوَات اللہ و سلامُہ علیہ کے پاس اور تہبند نہ تھا اور آپ جانتے ہیں حُضور اَکرمُ الْاَکرِما صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کبھی کسی سائل کو رَد نہیں فرماتے، پھر آپ نے کیوں مانگ لیا؟ انہوں نے کہا: واللہ! میں نے استعمال کو نہ لیا بلکہ اس لئے کہ اس میں کفن دیا جاؤں۔ حُضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن کی اِس نیت پر انکار نہ فرمایا۔ آخر اُسی میں کفن دئے گئے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 112 ۔ 113، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

زندگی میں کفن و قبر تیار کرنے کے متعلق درِ مختار میں ہے:

و یحفر قبراً لنفسہ و قیل یکرہ، و الذی ينبغی أنه لا يكره تھیئۃ نحو الكفن، بخلاف القبر

ترجمہ: اور اپنے لئے قبر تیار کر کے رکھ سکتے ہیں اور کہا گیا کہ مکروہ ہے اور مناسب یہ ہے کہ قبر تیار کرنے کے برخلاف کفن جیسی چیز تیار کرنا مکروہ نہ ہو۔

رد المحتار میں و یحفر قبراً لنفسہ کے تحت ہے:

و فی التاترخانیۃ: لابأس بہ، و یؤجر علیہ، ھکذا عمل عمر بن عبد العزیز و الربیع بن خیثم و غیرھما، اھ، قولہ (و الذی ینبغی اِلخ) کذا قالہ فی شرح المنیۃ، و قال: لأن الحاجة إليه متحققۃ غالبا، بخلاف القبر ، لِقَولہٖ تعالٰی: وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ

ترجمہ: فتاوی تاترخانیہ میں ہے: اِس (یعنی قبر پہلے سے تیار کر لینے) میں حرج نہیں ہے، بلکہ اس پر ثواب ملے گا۔ اِسی طرح حضرت عمر بن عبد العزیز اور حضرت ربیع بن خیثم وغیرہ رضی اللہ عنہم کا عمل تھا۔ (درِ مختار کا قول: اور مناسب یہ ہے کہ کفن تیار کرنا مکروہ نہ ہو) اسی طرح شرح مُنیہ میں کہا اور فرمایا: کیونکہ کفن کی حاجت غالب طور پر ثابت ہوتی ہے، قبر کے بر خلاف، کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا: اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 183، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: کفن پہلے سے تیار رکھنے میں حرج نہیں اور قبر پہلے سے بنانا نہ چاہئے کما فی الدر المختار وغیرہٖ (جیسا کہ درِ مختار وغیرہ میں ہے)۔ قال اللہُ تعالٰی (اللہ پاک نے فرمایا):

وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ

(ترجمۂ کنزُ العرفان: اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا)۔ (فتاوی رضویہ، ج9، ص 265، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اپنے ليے کفن تیار رکھے، تو حرج نہیں اور قبر کھودوا رکھنا بے معنیٰ ہے، کیا معلوم کہاں مرے گا۔ (بھارِ شریعت، حصہ 4، ج 1، ص 847، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: کفن اچھا ہونا چاہيے یعنی مرد عیدین و جمعہ کے ليے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی، اُس قیمت کا ہونا چاہيے۔ حدیث میں ہے: ”مُردوں کو اچھا کفن دو کہ وہ باہَم (آپس میں) ملاقات کرتے اور اچھے کفن سے تفاخُر کرتے یعنی خوش ہوتے ہیں۔ سفید کفن بہتر ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مُردے سفید کپڑوں میں کفناؤ۔ (بھارِ شریعت، حصہ 4، ج 1، ص 818، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2896
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم 1447ھ /28 جنوری 2026ء