logo logo
AI Search

پہلی امتوں سے بھی قبر میں سوال ہوتا تھا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سوالاتِ قبر کب سے شروع ہوئے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا پہلی امتوں سے بھی قبر میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں سوال ہوتا تھا؟

جواب

راجح قول کے مطابق حسابِ قبر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی امت کے ساتھ خاص ہے، پچھلی امتوں سے قبر میں سوالات نہیں ہوتے تھے، لہذا ان سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں بھی سوال نہیں ہوتا تھا۔

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

و نقل العلقمي في شرحه على الجامع الصغير أن الراجح أيضا اختصاص السؤال بهذه الأمة

ترجمہ: علامہ علقمی نے جامع صغیر پر اپنی شرح میں یہ نقل کیا کہ راجح یہ ہے کہ سوالات قبر اس امت کے ساتھ خاص ہیں۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 95، مطبوعہ: کوئٹہ)

مفسر شہیر، حکیم الامت، مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: حساب قبر ہمارے حضور کے زمانہ سے شروع ہوا پچھلی اُمتوں میں نہ تھا نہ اُن سے اپنے نبی کی پہچان کرائی جاتی تھی۔ (مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 125، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4685
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم1447ھ / 27 جنوری2026ء