رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرنا سنت ہے؟
رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرنا سنت ہے اور ایک قدم کی کتنی مقدار ہے؟
جواب
اس عمل کے سنت ہونے کی صراحت کتبِ حدیث میں نہیں ملی، لہٰذا بغیر ثبوت اسے سنت نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ! بعض بزرگوں نے اطباء کے حوالے سے لکھا ہے کہ رات کے کھانے کے بعد کچھ چہل قدمی کرنی چاہیے، اگرچہ سو قدم ہی ہو۔ اور بعض متاخرین نے چالیس قدم کو مستحسن (اچھا) کہا ہے۔ ایک قدم کی مقدارعام حالت میں جس طرح چلا جاتا ہے، اسی کے مطابق ہوتی ہے۔
احیاء العلوم میں ہے:
”قال الحجاج لبعض الأطباء: صف لی صفة آخذ بها ولا أعدوها، قال: لا تنكح من النساء إلا فتاة، ولا تأكل من اللحم إلا فتياً، ولا تأكل المطبوخ حتى يتم نضجه، ولا تشربن دواء إلا من علة، ولا تأكل من الفاكهة إلا نضيجا، ولا تأكلن طعاماً إلا أجدت مضغه، وكل ما أحببت من الطعام، ولا تشربن عليه، فإذا شربت فلا تأكلن عليه شيئاً، ولا تحبس الغائط والبول، وإذا أكلت بالنهار فنم، وإذا أكلت بالليل فامش قبل أن تنام، ولو مائة خطوة. وفی معناه قول العرب: تغد تمد، تعش تمش، يعنی: تمدد“
ترجمہ: حجاج نے ایک طبیب سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جسے میں اختیار کروں اور اس سے تجاوز نہ کروں۔ طبیب نے کہا: جوان عورت سے نکاح کرو، جو ان جانور کا گوشت کھاؤ، کسی چیز کو اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک وہ اچھی طرح پک نہ جائے، بغیر بیماری کے دوانہ پیو، پھل خوب پکا ہوا کھاؤ، کھانا اچھی طرح چبا کر کھاؤ، اپنی پسند کا کھانا کھاؤ، کھانے کے بعد پانی نہ پیو اور جب پانی پیو تو اس پر کچھ نہ کھاؤ، پیشاب پاخانہ نہ رو کو، دن میں کھاؤ تو سو جاؤ اور رات کو کھانےکے بعد کچھ چہل قدمی کر لو اگر چہ 100 قدم ہی ہو۔ عربوں کے مقولے: ”تَغَدَّ تَمَدَّ تَعش تَمش یعنی دن کا کھانا کھا کر سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر کچھ دیر چل لو کا یہی مطلب ہے۔ (احیاء علوم الدین، ج 2، ص 19، دار المعرفۃ، بیروت)
اس کی شرح میں علامہ محمد بن محمد حسینی زبیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”واستحسن بعض المتأخرين الاقتصار على أربعين خطوة“
ترجمہ: اور بعض متاخرین نےچالیس قدم چلنے پر اکتفاء کرنے کو مستحسن قرار دیا ہے۔ (إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين، ج 5، ص 269، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2359
تاریخ اجراء: 29 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ/26 جون 2025ء