logo logo
AI Search

کیا فرشتے لوگوں کو جادو کا علم سکھاتے تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا جادو کا علم فرشتوں نے سکھایا تھا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے سنا ہے کہ جادو کا علم دو فرشتوں نے سکھایا تھا، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

ہاروت و ماروت دو فرشتے ہیں ، وہ اللہ پاک کے حکم سے انسانی شکل میں لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور یہ جادو  سکھانا لوگوں کی آزمائش کے لئے تھا وہ فرشتے پہلے انہیں جادو سیکھنے سے منع کرتے تھے کہ جادو سیکھ کر اور اس پر عمل کرکے اور اس کوجائز و حلال سمجھ کر اپنا ایمان ضائع نہ کرو، جو مان جاتا اسے نہ سکھاتے  اور جو نہ مانتا اس کو سکھا دیتے، تو ان کا سکھانا اللہ پاک کی اطاعت تھا اور لوگوں کا سیکھنا نافرمانی تھا، لہٰذا اس سے جادو سیکھنے کا جائز ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

قرآن پاک میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ ۚ- وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰـكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۗ- وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ؕ- وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ؕ- فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ ؕ- وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ- وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ ؕ- وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ - وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ ؕ- لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(102)

 ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ سلیمان کے عہدِ حکومت میں اس جادو کے پیچھے پڑگئے جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہ کیابلکہ شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (یہ تو اس جادو کے پیچھے بھی پڑگئے تھے)جو بابل شہر میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پراتارا گیاتھا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقیناً  انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔(سورۂ بقرہ، آیت 102)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:’’راجح یہی ہے کہ ہاروت و ماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحر سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ  اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْؕ۔ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ  397، رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر:Web-2342

تاریخ اجراء:19محرم الحرام 1447ھ / 15 جولائی 2025ء