logo logo
AI Search

سات زمینیں ایک ساتھ ہیں یا الگ؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا ساتوں زمینیں ایک ساتھ ملی ہوئی ہیں یا ہر ایک کے درمیان فاصلہ ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

زمین و آسمان ایک دوسرے سے الگ ہیں اور ساتوں زمینیں ایک ساتھ جُڑی ہوئی ہیں، جیسے پیاز کی مختلف تہیں ایک ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں ، جبکہ سات آسمان آپس میں چمٹے نہیں ہوئے بلکہ ہر آسمان دوسرے آسمان سے الگ ہے اور درمیان میں بہت فاصلہ ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا۔ (پارہ 12، سورہ ھود، آیت 07)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے ”آسمان بھی سات ہیں اور زمین بھی سات، لیکن آسمانو ں کی حقیقتیں مختلف ہیں، جیسے کوئی لوہے کا، کوئی تانبے کا، کوئی چاندی کا اور کوئی سونے کا ہے اور تمام زمینوں کی حقیقت صرف مٹی ہے۔ نیز آسمانوں میں فاصلہ ہے اور زمین کے طبقات میں فاصلہ نہیں، یہ ایک دوسرے سے ایسی چمٹی ہیں جیسے پیاز کے چھلکے کہ دیکھنے میں ایک معلوم ہوتی ہے، اس لئے آسمان جمع فرمایا جاتا ہے اور زمین واحد بولی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ آسمانوں کی پیدائش دو دن میں، زمین کی پیدائش دو دن میں اور حیوانات، درخت وغیرہ کی پیدائش دو دن میں ہوئی اور دن سے مراد اتنا وقت ہے، ورنہ اس وقت دن نہ تھا کیونکہ دن تو سورج سے ہوتا ہے اور اس وقت سورج نہ تھا۔ قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں آسمان و زمین کو چھ دن میں بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مفسرین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چھ دنوں سے مراد چھ اَدوار ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان، ج 4، ص 398، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5343
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1448ھ / 29 اگست 2026ء