جنات کیا کھاتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گوبر ناپاک ہے تو یہ جنات کی خوراک کیسے ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ جنات کی خوراک ہڈی اور گوبر ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جنات اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ان کی خوراک ناپاک چیز گوبر رکھی گئی ہے، اس بارے میں کچھ رہنمائی فرمائیں؟
جواب
جنات کی خوراک کے متعلق نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے مختلف طرح کی احادیث مروی ہیں، بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہڈی اور گوبر دونوں، جنات کی خوراک ہیں، جبکہ بعض احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہڈی جنات کی اور گوبر ان کے جانوروں کی خوراک ہے، تو علماء کرام رَحِمَھُمُ اللہُ نے ان احادیث مبارکہ میں تطبیق (Compatibility)دیتے ہوئے فرمایا کہ ہڈی جنوں کی خوراک ہے، البتہ گوبر کےبارے میں تفصیل ہے کہ گوبر، اگر انسان کی کھائی جانے والی چیز وں سے بنا ہے، تو وہ جنوں کی خوراک ہے اور اگر کسی بھی چیز کا بنا ہوا ہے، تو وہ اُن کے جانوروں کی خوراک ہے، لیکن کھاتے وقت ہڈی اور گوبر اپنی اصلی حالت پر نہیں رہتے، بلکہ غذاکی صورت اختیار کرلیتے ہیں، جیسا کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ جنات جب ہڈی کھاتے ہیں، تو اُس پر گوشت پیدا ہوجاتا ہے اور گوبر، دانے یا چارہ وغیرہ بن جاتاہے۔
لہذا اس سے یہ اشکال دور ہوگیا کہ ناپاک گوبر جنات کی خوراک کیسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ ماہیت (حقیقت) بدلنے سے ناپاک چیز پاک ہوجاتی ہے، جیسا کہ گوبر، اگر جل کر راکھ بن جائے، تو وہ راکھ پاک ہے، اسی طرح گوبر جب خوراک میں تبدیل ہو جائے گا، تو ماہیت بدلنے سے پاک قرار پائے گا۔
مسئلہ سے متعلق جزئیات بالترتیب درج ذیل ہیں:
ہڈی اور گوبردونوں، جنات کی خوراک کے متعلق سننِ ابوداؤد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے: قدم وفد الجن على النبي فقالوا يا محمد صلی اللہ علیہ و سلم انه أمتك أن يستنجوا بعظم أو روثة أو حممة فإن اللہ عز وجل جعل لنا فيها رزقا فنهى النبي صلی اللہ علیہ و سلم" ترجمہ: جنات کا وفد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ! آپ اپنی امت کو ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہمارا رزق رکھا ہے، تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے منع فرمادیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ، باب ما ينهى عنه أن يستنجى به، جلد 1، صفحہ 13، رقم الحدیث 35، مطبوعہ ہند)
ہڈی جنات کی اور گوبر اُن کے جانوروں کی خوراک ہونے کے متعلق حضرت عبد اللہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: لا تستنجوا بالروث ولا بالعظام فإنها زاد إخوانكم من الجن" ترجمہ: نہ گوبر سے استنجاء کرو، نہ ہڈی سے، کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔ ( السنن الترمذی، جلد 1، صفحہ 67، مطبوعہ دار الغرب، بیروت)
حدیث مبارک کے ان الفاظ "فإنها زاد إخوانكم من الجن" کے تحت مفتی محمداحمدیار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 1391ھ / 1971ء)لکھتےہیں: یعنی ہڈیاں جنات کی خوراک ہے اور گوبر ان کے جانوروں کی غذا۔ اسی لئے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اِنَّھَاواحد فرمایا، یہ ضمیر ہڈیوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ، حدیث شریف میں ہے کہ جب جنات ہڈی اٹھاتے ہیں، تو اس پر گوشت پاتے ہیں اور جب ان کےجانور گوبر میں منہ لگاتے ہیں، تواس میں دانے پاتے ہیں جن سے وہ گوبر بنا۔ (مرآۃ المناجیح، کتاب الطھارت، جلد 1، صفحہ 264، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات)
اسی طرح علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) دلائل النبوۃ کے حوالے سے ایک حدیثِ مبارک لکھتے ہیں: أن الجن سألوا هدية منه صلی اللہ علیہ و سلم فأعطاهم العظم و الروث العظم لهم و الروث لدوابهم" ترجمہ: جنوں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے( کھانے کے لئے)تحفہ مانگا، تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نےان کو ہڈی اور گوبر دیا، ہڈی ان کے ( کھانے کے)لئے اور گوبر ان کے جانوروں کے لئے۔ ( مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الطہارۃ، باب آداب الخلاء، جلد 2، صفحہ 61، مطبوعہ کوئٹہ)
ان احادیث میں مطابقت:
فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: جنوں کی خورا ک ہڈی اور روث دونوں ہیں، یا ہڈی جنوں کی خوراک ہے اور روث ان کے جانوروں کی، میرا ظن غالب یہ ہے کہ ہڈی تو جنوں کی خوراک ہے اور روث میں تفصیل ہے، اگر وہ کسی ایسی چیز کی مینگنی یا گوبر ہے جو انسان کھاتے ہیں، تو جنوں کی بھی خوراک ہو سکتی ہے، وہ اس پر وہ دانہ پائیں گے جس کے کھانے سے مینگنی بنی ہےاور ان کے جانوروں کی مطلقاغذا ہے کسی بھی چیز کی ہو۔ (نزھۃ القاری شرح بخاری، جلد 1، صفحہ 537، مطبوعہ فرید بک سٹال لاھور)
ہڈی کے غذا بننے کے متعلق صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے مجھے حکم فرمایا: ابغني أحجارا أستنفض بها و لا تأتني بعظم و لا بروثة فأتيته بأحجار أحملها في طرف ثوبي حتى وضعت إلى جنبه ثم انصرفت حتى إذا فرغ مشيت فقلت ما بال العظم و الروثة قال هما من طعام الجن و إنه أتاني وفد جن نصيبين و نعم الجن فسألوني الزادفدعوت الله لهم أن لا يمروا بعظم ولا بروثة إلا وجدوا عليها طعاما" ترجمہ: میرے لئے پتھر تلاش کرو تاکہ میں اس سے استنجاء کروں، لیکن ہڈی اور لید مت لانا۔ میں نے آپ کی خدمت میں وہ پتھر لے کرآیا جو میں نے پلے باندھ رکھے تھے، یہاں تک کہ میں نے انہیں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی ایک جانب رکھ دئیے، پھر میں پلٹ آیا، جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فارغ ہوگئے، تو میں نے عرض کی: ہڈی اورلید سے منع کرنے میں کیا حکمت ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: یہ دونوں چیز یں جنات کی خوراک ہیں، میرے پاس نصیبین (ایک شہرکا نام ہے) کے جنوں کا ایک وفد آیاتھا،وہ بہت نیک جن تھے، انہوں نے مجھ سے خوراک مانگی، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے ان کیلئے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس جب بھی گزریں، اس پر اپنی غذا موجود پائیں۔ (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ذکر الجن، جلد 5، صفحہ 46، مطبوعہ دار طوق النجاۃ بیروت)
گوبر کےجَو اورچارہ بننے کے متعلق امام ابو نعیم الاصبہانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 430ھ) اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں ایک حدیث پاک لکھتے ہیں: أنهم طلبوا الزاد منه ليلة الجن فجعل العظم زادا لهم فإذا وجدوا عظما يجعله اللہ تعالى كأن لم يؤکل منه لحم والروث زادا لدوابهم ويكون شعيرا إن كانت تلك الدابة أكلت الشعيروتبناإن كانت أكلت التبن و غير ذلك من العلوفة فيعلفون دوابهم" ترجمہ: جنوں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے لیلۃ الجن میں کھانے کا سوال کیا، تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہڈیوں کو ان کی خوراک بنادیا، لہذا جب وہ ہڈی کو پاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو ایسا بنا دیتا ہے گویا اس سے گوشت کھایا ہی نہیں گیا۔ اور گوبر کو ان کے جانوروں کی خوراک بنادیا، اگر جانور جَو کھاتا ہے، تو گوبر جَو بن جاتا ہے اور اگر وہ توڑی کھاتا ہے، تو وہ توڑی بن جاتا ہے اور اس کے علاوہ چارہ بن جاتا ہے جو ان کے جانور چارہ کھاتے ہیں۔ (دلائل النبوۃ، جلد 1، صفحہ 595، مطبوعہ دار النفائس بیروت)
اشکال کے جواب پر جزئیات:
حقیقت بدلنے سے ناپاک چیز کے پاک ہونے کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ما يطهر به النجس عشرةمنهاالإحراق السرقين إذا أحرق حتى صار رمادا فعند محمد يحكم بطهارته و عليه الفتوى" ترجمہ: ناپاک چیز کو پاک کرنے کے دس (طریقے) ہیں ان میں سے ایک گوبر کو جلانا ہے، جب وہ جل گیا یہاں تک کہ راکھ بن گیا، تو وہ امام محمد عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے نزدیک پاک ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسة و أحكامها، جلد 1، صفحہ 49، مطبوعہ کراچی)
فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: یہ اعتراض کہ گوبر وغیرہ ناپاک ہیں اور ناپاک چیزوں کا کھانا حرام ہے اور ناپاک چیز کا کھانا، انسان کی طرح جنوں کے لیے بھی حرام ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جب وہ گوبر ان کے ہاتھ میں جاتا ہے، گوبر نہیں رہتا، بلکہ بدل کر دانہ ہو جاتا ہے، تو اب ناپاک بھی نہ رہا۔ قلبِ ماہیت کے بعد ناپاک، پاک ہو جاتا ہے، جیسے یہی گوبر مٹی میں مل کر جب مٹی ہو جاتا ہے تو پاک ہو جاتا ہے۔ (نزھۃ القاری شرح بخاری، جلد 1، صفحہ 537، مطبوعہ فرید بک سٹال لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10067
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1445ھ / 27 جون 2026ء