logo logo
AI Search

حشر میں بھی کہتا ہے جانا ہے مدینے میں اس شعر کا حکم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کون ہے یہ دیوانہ کس کا ہے یہ دیوانہ، حشر میں بھی کہتا ہے جانا ہے مدینے میں، اس شعر کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا یہ شعر پڑھنا درست ہے

’’    کون ہے یہ دیوانہ کس کا ہے یہ دیوانہ۔۔۔۔۔۔۔ حشر میں بھی کہتا ہے جانا ہے مدینے میں‘‘

جواب

شرعی اعتبار سے اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ دراصل یہ مصرع عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور شوقِ مدینہ کے بھرپور جذباتی اظہار پر مشتمل ہے۔ اس میں شاعر تعجب اور حیرت کے انداز میں کہتا ہے کہ وہ شخص کون ہوگا جو قیامت کے ہولناک مرحلے میں بھی مدینے کی حاضری ہی کا خواہاں ہوگا ؟ یقیناً یہ کوئی عام شخص نہیں ہوگا بلکہ پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا دیوانہ ہوگا کہ جو اُن کی محبت کی وجہ سے ہی آخرت میں بھی مدینے جانے کی خواہش کر رہا ہوگا۔ اس شعر میں آخرت سے متعلق کسی حقیقی معاملے کی خبر دینا مقصد نہیں، بلکہ یہ محض تخیل، جذباتی کیفیت اور ادبی اسلوب ہے جو شاعری میں محبت اور وارفتگی کو خوبصورت انداز سے ظاہر کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اہل سنت و جماعت کے اکابر بزرگان دین کے اشعار میں بھی کچھ اسی انداز سے مدینے کی محبت کو مبالغے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ خلیفہ اعلیٰ حضرت، مولانا محمد جمیل الرحمن قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے نعتیہ دیوان’’قبالۂ بخشش‘‘ میں فرماتے ہیں:

کوئی جائے گا دوزخ کو کوئی جنت میں جائے گا

                                              مدینے کی طرف دوڑے گا دیوانہ محمد کا

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-1008

تاریخ اجراء: 16جمادی الاخری1447ھ/08دسمبر 2025ء