logo logo
AI Search

اصلاح کرنے کا انداز کیسا ہونا چاہیے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کسی شخص کی اصلاح کرتے وقت انداز کیسا ہونا چاہیے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی شخص کی اصلاح کرتے وقت انداز کیسا ہونا چاہیے؟ ہمارے ہاں ایک شخص ہمیں سمجھاتا ہے، تو اس کا انداز ایسا ہوتا ہے، جیسے وہ ہم پر تنقید کر رہا ہے، اور ہم میں سے ہر بندہ یہ سمجھتا ہے کہ اب ہماری کلاس لی جا رہی ہے، اور ہماری تذلیل ہو رہی ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیجئے کہ اس طرح اصلاح کرنا کیسا؟

جواب

تبلیغ دین اور اصلاح امت ایسا عظیم اور مبارک عمل ہے کہ جس کے لیے اللہ پاک نے اپنے سب سے برگزیدہ اور سب سے افضل و اعلی بندے یعنی انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ نیز انبیا کرام علیہم الصلوۃ و السلام کو انسانوں کی ہدایت اور دین کی تبلیغ کے لیے بھیجنے کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کے اصولوں کو بھی بیان فرمایا ہے، لہذا اگر ایک مبلغ موقع محل کی مناسبت سے ان اصولوں کے مطابق دین کی تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح کرے گا، تو بے شمار فوائد ملیں گے وگرنہ فوائد ملنے کی بجائے، نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ لہذا ہر مبلغ اور مصلح کو تبلیغ کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تبلیغ اور اصلاح کرنی چاہیے۔ نیز جہاں تک عوام پر تنقید اور ان کی تذلیل کرنے کا معاملہ ہے، تو مبلغ کو یہ بات یاد ر کھنی چاہیے کہ ہر شخص کو اپنی عزت عزیز ہوتی ہے، تو مبلغ کو سامنے والے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے، بازاری لہجے اور تنقید و تذلیل والے انداز کو اختیار کیے بغیر، نرمی کے ساتھ اس طرح اصلاح کرنی چاہیے کہ مبلغ کی وہ بات سامنے والے کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوجائے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرعون جیسے کافر و گناہگار بلکہ خدائی کا دعوی کرنے والے شخص کی طرف بھی جب حضرت موسی علیہ السلام کو تبلیغ کے لیے بھیجا گیا، تو نرمی کے ساتھ بات کرنے کا ہی ارشاد فرمایا گیا، تو جب خدائی کا دعوی کرنے والے انسان کو بھی نرمی کے ساتھ تبلیغ کرنے کا حکم ہے، تو جو مسلمان ہے، اس کی بلاوجہ شرعی تذلیل اورعزت نفس کو مجروح کر کے تبلیغ کی کیسے اجازت مل سکتی ہے؟ نیز نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں بھی اس کےمتعلق کئی پہلو موجود ہیں، کہ جب کسی کی اصلاح کرنی ہوتی، تو عام مجمع میں اس کا نام لے کر اس کی اصلاح نہ فرماتے، بلکہ مطلقاً ارشاد فرماتے کہ ایسے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں؟ جس سے بات بھی بیان ہو جاتی، اور سامنے والے کی اصلاح بھی ہو جاتی، اور اس کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہوتی، البتہ! بعض اوقات موقع کی مناسبت سے سخت کلام کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے، مگر ایسی صورت میں بھی جو اہل ہوبس وہی سختی کرے، اوربقدر ضرورت ہی سختی کرے۔

تبلیغ دین کے حوالے سے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ (پارہ 14، سورۃ النحل، آیت 125)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین طریقوں سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم فرمایا۔ ( 1) حکمت کے ساتھ۔ اس سے وہ مضبوط دلیل مراد ہے جو حق کو واضح اور شُبہات کو زائل کردے۔ ( 2 ) اچھی نصیحت کے ساتھ۔ اس سے مراد ترغیب و ترہیب ہے یعنی کسی کام کو کرنے کی ترغیب دینا اور کوئی کام کرنے سے ڈرانا۔۔۔۔ اس آیت کی مناسبت سے یہاں امر بالمعروف کے آداب اور اس سے متعلق 6 شرعی مسائل ملاحظہ ہوں (1) … امر بالمعروف یہ ہے کہ کسی کو اچھی بات کا حکم دینا مثلاً کسی سے نماز پڑھنے کو کہنا۔ اور نَہی عَنِ الْمُنْکَر کا مطلب یہ ہے کہ بری باتوں سے منع کرنا۔ ( 2) … کسی کو گناہ کرتے دیکھے تو نہایت مَتانت اور نرمی کے ساتھ اسے منع کرے اور اسے اچھی طرح سمجھائے پھر اگر اس طریقہ سے کام نہ چلا اور وہ شخص باز نہ آیا تو اب سختی سے پیش آئے، اس کو سخت الفاظ کہے، مگر گالی نہ دے، نہ فحش لفظ زبان سے نکالے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو جو شخص ہاتھ سے کچھ کرسکتا ہے کرے۔ لیکن اس صورت میں فتنے اور قانونی پہلو کو سامنے رکھے یعنی نہ خلافِ قانون کرے اور نہ ایسا طریقہ اختیار کرے جس سے فتنہ ہو۔ ( 3) … امر بالمعروف کے لیے پانچ چیزوں کی ضرورت ہے: ( ۱) علم کیونکہ جسے علم نہ ہو وہ اس کام کو اچھی طرح انجام نہیں دے سکتا۔ ( ۲) اس سے مقصود رضائے الٰہی اور دینِ اسلام کی سربلندی ہو۔ ( ۳) جس کو حکم دیتا ہے اس کے ساتھ شفقت و مہربانی کرے اور نرمی کے ساتھ کہے۔ ( ۴) حکم کرنے والا صابر اور بُردبار ہو۔ ( ۵) حکم کرنے والا خود اس بات پر عامل ہو، ورنہ قرآن کے اس حکم کا مِصداق بن جائے گا، کیوں کہتے ہو وہ جس کو تم خود نہیں کرتے۔ اللہ عزوجل کے نزدیک ناخوشی کی بات ہے یہ کہ ایسی بات کہو، جس کو خود نہ کرو۔ اور یہ بھی قرآنِ مجید میں فرمایا کہ کیا لوگوں کو تم اچھی بات کا حکم کرتے ہو اور خود اپنے کو بھولے ہوئے ہو۔“ (صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 403، 404، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فرعون کی اصلاح کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى﴾ ترجمہ کنز الایمان: توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔ (پارہ 16، سورۃ طہ، آیت 44)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت سے معلوم ہو اکہ دین کی تبلیغ نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے اور تبلیغ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ پیار محبت سے نصیحت کرے کیونکہ اس طریقے سے کی گئی نصیحت سے یہ امید ہوتی ہے کہ سامنے والا نصیحت قبول کر لے یا کم از کم اپنے گناہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے۔ نیز یاد رہے کہ دین کی تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی اور دُنْیَوی معاملات میں بھی جہا ں تک ممکن ہو نرمی سے ہی کام لینا چاہئے کہ جو فائدہ نرمی کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے وہ سختی کرنے کی صورت میں حاصل ہو جائے یہ ضروری نہیں۔“ (صراط الجنان، جلد 6، صفحہ 193، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ اصلاح کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرمائی ہیں: ”كان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم إذا بلغه عن رجل شيء، لم يقل له قلت: كذا وكذا، بل قال: ما بال أقوم يقولون كذا وكذا؟“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کے متعلق کوئی بات پہنچتی تو اُس سے یوں نہ فرماتے تھے کہ ”تم نے ایسا ایسا کیا بلکہ فرماتے تھے:”اُن لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو ایسا ایسا کہتے ہیں۔ (اخلاق النبی وآدابہ لابی الشیخ، جلد 1، ص 419، حدیث: 153، مطبوعہ: ریاض )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5424

تاریخ اجراء: 03 ربیع الثانی 1448ھ/16 ستمبر 2026ء