logo logo
AI Search

منگنی کے بعد منگیتر سے بات چیت جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منگنی کے بعد منگیتر سے بات چیت کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کہ اگر لڑکا لڑکی کا رشتہ طے ہوجائے تو وہ ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں؟ اگر لڑکی علم حاصل کر رہی ہو اور رشتہ عام لڑکے سے ہوا ہو تو کیا وہ اس لڑکے سے رابطہ کر کے اُسے بھی علم دین اور نماز وغیرہ کے بارے میں تلقین کر سکتی ہے؟

جواب

اجنبی مرد و عورت کوبلاوجہ شرعی آپس میں بات چیت کرنے اور رابطہ رکھنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ منگنی محض وعدۂ نکاح ہوتی ہے، نکاح نہیں۔ جس طرح منگنی سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کیلئے نا محرم ہوتے ہیں، یوں ہی منگنی کے بعد بھی ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کا نکاح ہوجائے۔ لہذا منگنی کے بعدمنگیتر سے براہ راست یا میسج، وٹس ایپ، فون وغیرہ پر کسی قسم کی دینی، دنیوی بات چیت اور رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں۔ اجنبی مردوں سے گفتگو کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا

ترجمہ کنزُ العِرفان: اے نبی کی بیویو!تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اور تم اچھی بات کہو۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب: 32)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے معلوم ہو اکہ اپنی عفت اور پارسائی کی حفاظت کرنے والی خواتین کی شان کے لائق یہی ہے کہ جب انہیں کسی ضرورت، مجبوری اور حاجت کی وجہ سے کسی غیر مرد کے ساتھ بات کرنی پڑ جائے تو ان کے لہجے میں نزاکت نہ ہو اور آواز میں بھی نرمی اور لچک نہ ہو بلکہ ان کے لہجے میں اَجنبیت ہو اور آواز میں بیگانگی ظاہر ہو، تاکہ سامنے والا کوئی بُرا لالچ نہ کر سکے اور اس کے دل میں شہوت پیدا نہ ہو اورجب سیّد المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے والی امت کی ماؤں اور عفت و عصمت کی سب سے زیادہ محافظ مقدس خواتین کو یہ حکم ہے کہ وہ نازک لہجے اور نرم انداز سے بات نہ کریں تاکہ شہوت پرستوں کو لالچ کا کوئی موقع نہ ملے تو دیگر عورتوں کے لئے جو حکم ہو گا اس کا اندازہ ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ لگا سکتا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 16 - 17، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں:

و لا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ و لا تمطيطها ولا تليینها و تقطيعها لما في ذلك من استمالةالرّجال إليهنّ وَ تحريك الشَهوَات منهم و من ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ

ترجمہ:ہم عورتوں کیلئے اپنی آوازیں بلند کرنے، اسےمخصوص میلان والے لہجے میں لمبا کرنے، اس میں نرم لہجہ اختیار کرنے اور اس میں طرز بنانے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ان سب باتوں میں مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے، اسی وجہ سے یہ جائز نہیں کہ عورت اذان دے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، مطلب فی ستر العورۃ، صفحہ 97، دار المعرفۃ، بیروت)

وقار الفتاوی میں مفتی وقارالدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور غیر محرم ہیں۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 134، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)

وقار الفتاوی ہی میں ایک دوسرے مقام پر فرمایا: رشتہ جوڑنے کے بعد بھی غیر محرم شخص کے احکام باقی رہیں گے، نہ اس سے بات کرسکتی ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ تنہائی میں جمع ہوسکتی ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 148، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-987
تاریخ اجراء: 02 جمادی الاخری1447ھ/24 نومبر 2025ء