logo logo
AI Search

کان میں اذان نہ دی اور بچہ فوت ہوگیا تو حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بچے کے کان میں اذان دینے کاموقع نہ ملا اوروہ فوت ہوگیا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان و اقامت کہنا مستحب ہے، بلکہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت کے موقع پر خود اُن کے کان میں اذان دی۔ بہتر یہ ہے کہ دائیں (سیدھے) کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں کان میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ پوچھی گئی صورت میں آپ نے ایک مستحب کام کو ترک کیا ہے، اور مستحب کام کو جان بوجھ کر ترک کرنے سےبھی بندہ گناہ گار نہیں ہوتا، اور یہاں تو جان بوجھ کر ترک کرنا نہیں پایا جارہا، لہٰذا آپ بچے کے کان میں اذان نہ دینے کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوئے۔ رد المحتار میں ہے "فيندب للمولود" ترجمہ: پس بچے کی ولادت پہ اذان دینا مستحب ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 62، مطبوعہ: کوئٹہ)

سنن ترمذی میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم أذن في أذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة“ ترجمہ: جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسن ابن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کان میں نماز والی اذان دیتےہوئے دیکھا۔ (سنن ترمذی، صفحہ 594، حدیث: 1514،دار ابن کثیر، دمشق)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب بچّہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان، بائیں میں تکبیر (اقامت) کہے کہ خَلَلِ شیطان و اُمُّ الصِّبْیان سے بچے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 452، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے۔ اذان کہنے سے ان شاء اللہ تعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 355، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مستحب کے ترک پہ گناہ نہیں، چنانچہ عبد الرحمن آفندی شيخی زاده رحمۃ اللہ تعالی علیہ مجمع الانہر میں ارشاد فرماتے ہیں: أن ترك المستحب لا يوجب المعصية" ترجمہ:بیشک مستحب کا ترک گناہ کو ثابت نہیں کرتا۔ (مجمع الأنهر، جلد 2، صفحہ 82، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مستحب کی تعریف اور حکم بیان فرماتےہوئے لکھتے ہیں: مُستَحب: وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگر ترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کِرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنے پر مطلقاً کچھ نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 283، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5276
تاریخ اجراء: 20 صفر المظفر 1448ھ / 04 اگست 2026ء