ظالم کو معاف نہ کرنا یا دھوکے سے بدلہ لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ظالم کو معاف کرنا یا دھوکہ دینے والے سے دھوکہ کے ذریعے بدلہ لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
دھوکے یا ظلم کا شکار شخص پر ظالم کو معاف کرنا عمومی طور پر شرعاً لازم نہیں ہوتا کہ جس کے ترک پر اس کی گرفت ہو۔ ظالم خود اپنے ظلم کا ذمہ دار اور حق اللہ و حق العبد دونوں میں گرفتار ہے، جن سے خلاصی نہ ہونے کی صورت میں وہ دنیا میں نہیں تو آخرت میں سزا پائے گا۔ تاہم ذاتی ظلم پر ظالم کو معاف کر دینا اور انتقام نہ لینا بڑے اجر و ثواب کا باعث اور افضل عمل ہے؛ کہ قرآن و حدیث میں اس کی ترغیب و فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رہا ظالم سے بدلہ لینا تو یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے جس کی شریعت نے بھی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی بدلہ لینا چاہے تو جتنا ظلم ہوا اتنا بدلا لے سکتا ہے، ہاں اس سے زیادہ بدلہ لینا یا اضافی ظلم کرنا ہرگز جائز نہیں۔ نیز بدلے کے نام پر ایسی راہ اپنانا جو شرعاً یا قانوناً جرم ہو، اس کی بھی اجازت نہیں؛ لہذا بدلے کے لیے جائز قانونی طریقہ ہی اپنایا جائے۔ پس بدلہ لینے کے لیے خود دھوکا دہی کے مرتکب نہ ہوں؛ کیونکہ کسی بھی شخص کو دھوکا دینا شرعاً حرام اور سخت گناہ کا کام ہے، نیز حدیث پاک میں بھی خیانت کا بدلہ خیانت کے ذریعے لینے سے منع کیا گیا ہے، اگرچہ یہ حدیث مکارم اخلاق کی ترغیب پر بھی محمول ہے، مگر اس پر عمل فرمان نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی برکات کے حصول کا موجب اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۴۳)﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور بے شک جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔ (پارہ 25، سورۃ الشوری 42، آیت 43)
تفسیر صراط الجنان میں مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت ہے: یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتا ہے، لہذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر ظالم سے بدلہ نہ لینے میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو ظلم پر صبر کر لینا اور ظالم کو معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 9، صفحہ 87، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
شعب الایمان کی حدیث پاک میں ہے: عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: صل من قطعك وأعف عمن ظلمك“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تم سے رشتہ توڑے، تم اس سے جوڑو اور جو تم پر ظلم کرے، اسے معاف کر دو۔ (شعب الإيمان، باب في صلة الأرحام، جلد 6، صفحہ 222، حدیث 7957، دار الكتب العلمية، بيروت)
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ- وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تم (کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بے شک صبر والوں کے لیے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پارہ 14، سورۃ النحل 16، آیت 126)
نیز ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ- فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (۴۰) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ(۴۱)﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور بے شک جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا ان کی پکڑ کی کوئی راہ نہیں۔ (پارہ 25، سورۃ الشوری 42، آیت 40- 41(
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس کا معنی یہ ہے کہ بدلہ جرم کے برابر ہونا چاہیے اور اس میں زیادتی نہ ہو، اور بدلے کو برائی سے صورۃً مشابہ ہونے کی وجہ سے مجازی طور پر برائی کہا جاتا ہے کیونکہ جس کو وہ بدلہ دیا جائے اسے برا معلوم ہوتا ہے اور بدلے کو برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن معاف کر دینا اس سے بہتر ہے۔ . . . اس آیت سے معلوم ہوا کہ برائی کے برابر بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن بدلہ نہ لینا اور معاف کر دینا افضل ہے۔ . . . یاد رہے کہ ظالم سے بدلہ لینا ایک فطرتی تقاضا ہے اور شریعت نے اس کی اجازت بھی دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی نے تھپڑ مارا تو اسے دو تھپڑ مارے جائیں، کسی نے سر پھاڑا تو اس کے سر کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی ادھیڑ کر رکھ دیا جائے ،کسی نے بازو توڑا تو اس کے بازو کو جسم سے ہی اتار دیا جائے، کسی نے ٹانگ توڑی تو اس کی ٹانگ ہی کاٹ دی جائے ،کسی نے قتل کر دیا تو ا س کے پورے خاندان کو ہی موت کی نیند سلا دیا جائے، بلکہ جتنا اس پر ظلم ہوا اتنا ہی بدلہ لینے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ بدلہ ہرگز نہیں لے سکتا۔ . . . بدلہ لینے میں اس کی حد سے ہرگز تجاوز نہ کیا جائے، بلکہ کوشش یہی کی جائے کہ جس نے ظلم کیا اسے معاف کر دیا جائے تاکہ آخرت میں کثیر اجر و ثواب حاصل ہو۔ نیز جہاں بدلہ لینا بھی ہے وہاں بھی حاکم وقت کے ذریعے لیا جائے گا، نہ یہ کہ خود ہی قاضی بن گئے اور خود ہی جلاد۔ (ارشاد ہوا: اور بے شک جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا) یعنی جنہوں نے ظالم کے ظلم کے بعد اس سے اپنی مظلومی کا بدلہ لیا ان پر کوئی سزا نہیں کیونکہ انہوں نے وہ کام کیا ہے جو ان کے لیے جائز تھا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مظلوم کا ظالم سے بدلہ لینا ظلم نہیں اور نہ ہی اس پر سزا ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ جن ظلموں کی سزا دینے کا اختیار صرف حاکم اسلام کے پاس ہے ان کی سزا کوئی اور از خود نہیں دے سکتا، جیسے قاتل سے قصاص لینا وغیرہ۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 9، صفحہ 84-86 ملتقطاً، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) سے بدلہ لینے کے حوالے سے سوال ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں پر اپنی جان، اپنی عزت و آبرو کی حفاظت فرض ہے۔ اگر مسلمان ان (بد مذہب افراد سے کہ جن سے بدلہ لینے کے متعلق سوال ہوا، ان) سے اس طرح بدلہ لے گا جو قانون کے خلاف ہو تو اس کی عزت آبرو محفوظ نہ رہے گی، اس لیے اتنی حد تک ان سے بدلہ لے سکتا ہے جس میں یہ قانوناً ماخوذ نہ ہو سکے۔ . . . مار پیٹ یا قتل جائز نہیں کہ اس سے یہ خود قانونی طور پر مجرم ہوگا۔ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 4، صفحہ 179، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)
صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: و اللفظ لابن ماجہ فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: ليس منا من غش“ ترجمہ: پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ابن ماجه، كتاب التجارات، باب النهي عن الغش، جلد 2، صفحہ 749، حدیث 2224، دار إحياء الكتب العربية)
مسند بزّار، المعجم الصغیر للطبرانی، کنز العمال وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: واللفظ للاول عن أبي هريرة رضي اللہ عنه قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم المكر و الخديعة في النار“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکر و فریب اور دھوکہ دہی جہنم میں (لے جانے والے کام) ہیں۔ (مسند البزار، جلد 16، صفحہ 303، حدیث 9517، مطبوعہ مدینہ منورہ)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ان ترک الغدر و الغلول فریضۃ فانھما حرام“ ترجمہ: دھوکہ دہی اور خیانت کو ترک کرنا فرض ہے؛ کیونکہ یہ دونوں حرام ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 28، صفحہ 151، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: غدر (دھوکا دہی) و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن دارمی، سنن دار قطنی، مستدرک للحاکم وغیرہ میں ہے: عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى اللہ عليه و سلم: أد الأمانة إلى من ائتمنك و لا تخن من خانك“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تمہیں امین بنائے، اس کی امانت ادا کرو اور جو تم سے خیانت کرے، تم اس سے خیانت نہ کرو۔ (جامع ترمذی، کتاب البیوع، جلد 2، صفحہ 543، حدیث 1264، دار الغرب الإسلامي، بيروت)
شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ / 1642ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: تنبيه على رعاية مكارم الأخلاق، والإحسان إلى من أساء، و عدم مقابلة السيئة بالسيئة“ ترجمہ: یہ عمدہ اخلاق کی رعایت کرنے، برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرنے اور برائی کا جواب برائی سے نہ دینے پر تنبیہ ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، کتاب البیوع، باب الشركة والوكالة، جلد 5، صفحہ 614، دار النوادر، دمشق)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: علما ءفرماتے ہیں کہ (مذکورہ) حدیث فتوی پر شامل ہو سکتی ہے اور تقوی پر بھی، فتوی یہ ہے کہ خائن سے بقدر خیانت بدلہ لے سکتے ہیں، (مثلاً) اگر کسی نے تمہارے سو روپے مار لیے تو جب کبھی وہ تمہارے پاس اپنی کچھ رقم امانت یا قرض دے تو اپنا حق وضع کر کے باقی مال اسے دو کہ یہ وضع خیانت نہیں بلکہ اپنا حق وصول کرنا ہے، مگر تقوی یہ ہے کہ ایسے شخص سے بھی بدلہ میں یہ معاملہ نہ کرے، اپنا حق علیحدہ مانگے، مگر اس کا یہ حق پورا ادا کرے، یہ اعلیٰ درجہ کا اخلاق ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 359، مکتبہ اسلامیہ، لاہور(
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1276
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ / 22 جولائی 2026ء