سلام میں تعالیٰ کا اضافہ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سلام کرتے وقت و رحمۃ اللہ کے بعد تعالی کا اضافہ کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ میں تعالی کا اضافہ کر کے سلام کہنا کیسا، یونہی و علیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ میں تعالی کا اضافہ کر کے کہنا کیسا؟
جواب
سلام میں تعالی کا اضافہ کرنا جائز ہے کہ یہ اسم جلالت کی تعظیم کے سبب ہے، نہ کہ سلام میں اضافہ اور اس کا ثبوت اسلاف سے ثابت ہے۔
مصنف ابن شیبہ میں ہے: عن ميمون، أن رجلا سلم على سلمان الفارسي، فقال: السلام عليكم و رحمة اللہ تعالى و بركاته، فقال: سلمان: «حسبك»، ثم رد على الذي قال، ثم أراد أخرى فقال له الرجل: أتعرفني يا أبا عبد اللہ؟ فقال: «أما روحي فقد عرف روحك» ترجمہ: حضرت میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھے کافی ہے پھر آپ نے سلام کہنے والے شخص کو جواب دیا، پھر آپ نے دوسری مرتبہ جواب دینے کا ارادہ کیا، تو ان کو ایک آدمی نے کہا کہ اے عبد اللہ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو تو آپ نے فرمایا: میری روح نے تیری روح کو پہچان لیا۔ (مصنف ابن شیبہ، ج 6، ص 133، مطبوعہ کوئٹہ)
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالہ بنام ٹی وی اور مووی رسالہ میں ہے: حضرت غزالی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جائز ویڈیو فلم کے جواز کے قائل تھے۔ اور آپ علیہ الرحمۃ نے ٹی، وی اور مووی کے جواز پر لکھی گئی کتاب کی زور دار انداز میں تصدیق فرمائی۔ چنانچہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف شہزادہ محدث اعظم ہند کچھوچھوی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) حضرت علامہ محمد مَدَنی میاں اشرفی مدظلہ العالیٰ کی ویڈیو اورٹی وی کے شرعی استعمال سے متعلق تحقیق کی تصدیق فرمائی بلکہ اس تحقیق پر انھیں رئیس المحققین کے شاندار لقب سے بھی نوازا۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: رئیس المحققین حضرت علامہ سید محمد مَدَنی الاشرفی الجیلانی دامت معالیہم و علیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ۔ مزاج اقدس؟۔ (ٹی وی اور مووی، ص 26، 27، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4952
تاریخ اجراء: 20 شوال المکرم 1447ھ / 09 اپریل 2026ء