کیا زبان کا قفل مدینہ بھی خاموشی کا روزہ ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا دعوت اسلامی کے ماحول میں زبان کا قفل مدینہ خاموشی کے روزے کے حکم میں داخل ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ خاموشی کا روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر ممنوع ہے، تو دعوت اسلامی میں زبان کے قفلِ مدینہ کی جو ترغیب دلائی جاتی ہے۔ اس کا کیا جواب ہوگا۔ اس حوالے سے رہنمائی فرما دیجئے؟
جواب
اچھی باتیں کرنا اور بری باتوں سے خاموش رہنا اچھا عمل اور شرعاً مطلوب ہے کہ حدیث مبارک میں گناہوں اور فضولیات سے باز رہنے کے لیے خاموشی کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، جیسا کہ ایک حدیث مبارک میں ہے: ”من صمت نجا“ یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔ اسی طرح اس حوالے سے بزرگانِ دین سے اقوال بھی منقول ہیں، لیکن خاموشی کا روزہ رکھنا یعنی پورا دن روزے کی وجہ سے کسی سے کوئی بھی بات نہ کرنا شرعاً مکروہ تنزیہی و ناپسندیدہ عمل ہے، بالخصوص اگر کوئی عبادت سمجھتے ہوئے ایسے خاموش رہے، تو کراہتِ تحریمی کا حکم ہوگا۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں میں بالکلیہ (مکمل طور پر) خاموشی بھی ان کی عبادت شمار ہوتی تھی، پھر ان میں خاموش رہنے کے مختلف طریقے رائج تھے، جیسے روزے، اعتکاف وغیرہ میں خاموشی اختیار کرنا، اس دوران وہ کسی سے کسی بھی قسم کا کلام نہیں کرتے تھے، حتی کہ نیکی و بھلائی کی بات کہنے سے بھی اجتناب کرتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
علمائے کرام نے صومِ صمت کا مفہوم یہ ذکر فرمایا ہے کہ روزہ رکھ کر صبح سے شام تک کھانے پینے سے بچنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کرنے سے خاموش رہا جائے، حتی کہ نیکی و بھلائی کی بات بھی نہ کی جائے، سابقہ شریعتوں اور دورِ جاہلیت میں روزے کے اندر ایسی خاموشی بطور عبادت رائج و مشروع تھی، لیکن احادیث میں اس سے منع کر دیا گیا اور ایسی خاموشی کا عبادت ہونا منسوخ قرار دے دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ گناہوں اور فضولیات پر مشتمل گفتگو سے بچیں اور خیر و بھلائی کی بات کریں۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ اس وجہ سے بھی ممنوع ہوا کہ اس میں اہلِ کتاب اور مجوسیوں اور ہنود کی مشابہت ہے، جبکہ شرعی اعتبار سے کفار کی مشابہت ممنوع ہے۔
اس وضاحت کے بعد سوال میں مذکور اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دعوت اسلامی کے ماحول میں زبان کے قفلِ مدینہ اور حدیث مبارک میں ممنوع صمت کے مابین واضح فرق ہے، کیونکہ دعوت اسلامی کی اصطلاح میں زبان کے قفل مدینہ سے مراد یہ ہے کہ زبان کو اللہ عزوجل کی ناراضگی والے کاموں اور فضول گوئی کی عادت سے بچایا جائے، ضروری باتیں بھی کم الفاظ میں یا لکھ کر یا اشاروں میں کی جائیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر درود شریف پڑھ لیا جائے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہو گیا کہ خاموشی کے روزے اوردعوت اسلامی کی اصطلاح زبان کے قفلِ مدینہ کے مابین واضح فرق ہے، مثلاً:
(۱) سابقہ شریعتوں کے خاموشی کے روزے میں بالکلیہ (مکمل طور پر) ہر طرح کی بات سے اجتناب کیا جاتا تھا، حتی کہ نیکی و بھلائی کی باتوں سے بھی بچا جاتا تھا، جبکہ قفلِ مدینہ میں صرف شرعاً ممنوع اور فضول باتوں سے بچنے کی ترغیب ہوتی ہے، جبکہ نیکی کی بات کرنا قفلِ مدینہ کے خلاف نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اس دوران نیکی و بھلائی کی باتیں کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
(۲) خاموشی کے روزے میں صبح سے شام تک خاموشی اپنانا ضروری ہوتی تھی، یعنی اگر کوئی اس دوران بات کر لیتا، تو اس کا خاموشی کا روزہ ٹوٹ جاتا، جبکہ دعوتِ اسلامی میں جو زبان کے قفلِ مدینہ کی اصطلاح بولی جاتی ہے، اس میں پورا دن خاموش رہنا ضروری نہیں، بلکہ کچھ وقت کی خاموشی بھی زبان کے قفلِ مدینہ کے تحت داخل ہے اور اگر اس دوران بلا ضرورت بھی کوئی بات کرلے، تو دوبارہ خاموشی اختیار کرنے سے قفل مدینہ جاری رہے گا۔
(۳) خاموشی بھی ان کی عبادت شمار ہوتی تھی، جبکہ قفلِ مدینہ میں محض خاموشی کو عبادت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اس خاموشی کے ذریعے گناہوں اور فضولیات سے بچنے کو عبادت سمجھا جاتا ہے۔
جب ان دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے، تو معاملہ واضح ہے کہ خاموشی کے روزے کی ممانعت کا حکم قفلِ مدینہ پر منطبق کرنا درست نہیں۔
اوپر بیان کردہ مسائل کے جزئیات درج ذیل ہیں:
اچھی باتیں کرنا اور بری باتوں سے خاموش رہنا اچھا عمل اور شرعاًمطلوب ہے۔ جامع ترمذی کی حدیث مبارک میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من صمت نجا“ ترجمہ: جو خاموش رہا، اس نے نجاست پائی۔ (جامع ترمذی، ج 4، ص 274، رقم الحدیث: 2501، دار الغرب الاسلامی، بیروت)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”من سرہ ان یسلم فلیلزم الصمت“ ترجمہ: جسے پسند ہو کہ وہ سلامت رہے، تو اسے چاہیے کہ خاموشی کو لازم پکڑ لے۔ (الصمت و آداب اللسان لابن ابی الدنیا، ص 49، دار الکتاب العربی، بیروت)
خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ما عقل دینہ من لم یحفظ لسانہ“ ترجمہ:جس نے اپنی زبان کی حفاظت نہ کی، اس نے اپنے دین کو نہ سمجھا۔ (الصمت و آداب اللسان لابن ابی الدنیا، ص 61، دار الکتاب العربی، بیروت)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”الصمت حکم و قلیل فاعلہ“ ترجمہ: خاموشی حکمت ہے اور اس کو اپنانے والے کم ہیں۔ (جامع بیان العلم و فضلہ، ج 1، ص 552، مطبوعہ السعودیۃ)
اہلِ کتاب وغیرہ کفار کے ہاں بالکلیہ خاموش رہنا بطور عبادت مشروع تھا اور دورانِ اعتکاف خاموشی رہتے یا روزے کی حالت میں صبح سے شام تک نہ تو کچھ کھاتے پیتے اور نہ ہی کوئی کلام کرتے تھے۔ معالم السنن میں ہے: ”كان أهل الجاهلية من نسكهم الصمات و كان الواحد منهم يعتكف اليوم و الليلة فيصمت و لا ينطق“ ترجمہ: خاموشی اختیار کرنا اہلِ جاہلیت کے ہاں عبادت تھا اور ان میں سے کوئی دن رات کا اعتکاف بیٹھتا، خاموشی اختیار کرلیتا اور کچھ نہ بولتا تھا۔ (معالم السنن شرح سنن ابی داؤد، جلد 4، صفحۃ 87، المطبعة العلمية، حلب)
علامہ عابد سندی حنفی رحمۃ اللہ علیہ خاموشی کے روزے کے متعلق فرماتے ہیں: ”قالوا إن صوم الصمت من فعل المجوس اخزاھم اللہ تعالى و خصه الإمام حميد الدين الضرير بما إذا اعتقده قربة وذلک کما فعلہ ابن الخازن فی تفسیرہ ان بنی اسرائیل من أراد منهم أن يجتهد صام عن الكلام كما يصوم عن الطعام فلا يتكلم حتي يمسي وهذا بناء منهم علي أنه قربة“ ترجمہ: فقہاء فرماتے ہیں کہ چپ کا روزہ مجوسیوں کا عمل ہے۔ اللہ تعالی ان کو رسوا کرے اور امام حمید الدین ضریر نے یہ قیدذکر کی ہے کہ اگر روزے کے دوران چپ اور خاموش رہنے کو ثواب سمجھے تو مکروہ ہے، اور یہ بات واقعی ایسی ہے جیسا کہ علامہ ابنِ خازن نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جب کوئی مجاہدہ کرنے کا ارادہ کرتا تو جس طرح وہ کھانے سے رک کر روزہ رکھتا اسی طرح بات چیت سے بھی رک جاتااور پھر شام تک بات چیت نہ کرتا اور یہ وہ اس کی وجہ سے کرتے تھے کہ یہ ثواب کا کام ہے۔ (المواھب اللطیفۃ شرح مسند ابی حنیفۃ، ج 4، ص 40، دار النوادر)
خاموشی کے روزے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”صوم الصمت و هو أن يمسك عن الطعام و الكلام جميعا“ ترجمہ: خاموشی کے روزے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی کھانے اور گفتگو سب سے رکا رہے۔ (بدائع الصنائع، ج 2، ص 79، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ”معناه أن ينوي الصوم المعهود وهو الإمساك عن المفطرات الثلاث مع زيادة نية أن لا يتكلم، و هذا موافق للتعليل المذكور في الكتاب بقوله (لأن صوم الصمت ليس بقربة) فإنه روي عن أبي حنيفة عن عدي بن ثابت عن أبي حازم عن أبي هريرة «أن النبي ﷺ نهى عن صوم الوصال وصوم الصمت» فقال الراوي و هو زكريا بن أبي زائدة: قلت لأبي حنيفة: ما صوم الصمت؟ قال: أن يصوم ولا يكلم أحدا في يوم الصوم“ ترجمہ: خاموشی کے روزے کا معنیٰ یہ ہے کہ آدمی معروف طریقے سے روزہ رکھے اور اس سے مراد روزے کو توڑنے والی تینوں چیزوں(کھانے، پینے اور جماع) سے بچنا ہے، اس نیت کے اضافے کے ساتھ کہ وہ کسی سے کوئی بات نہیں کرے گا اور یہ کتاب میں مذکور تعلیل کہ موافق ہے، جو انہوں نے اپنے اس قول سے بیان کی کہ ”کیونکہ خاموشی کا روزہ قربت یعنی نیکی نہیں ہے۔“ امام اعظم علیہ الرحمۃ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عدی بن ثابت سے، انہوں نے ابو حازم سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وصال کے روزے اور خاموشی کے روزے سے منع فرمایا۔ راوی زکریا بن ابی زائدہ نے کہا کہ میں نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی کہ خاموشی کا روزہ کیا ہے؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: خاموشی کا روزہ یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھے اور روزے کے دن میں کسی سے کچھ بات نہ کرے۔ (العنایۃ شرح الھدایۃ، ج 2، ص 398، دار الفکر، بیروت)
ممانعت کی اصل وجہ عملِ جاہلیت سے منع کرنا تھا اور وہ بطور عبادت بالکلیہ (مکمل طور پر) طویل خاموشی (صبح سے شام تک خاموشی) اختیار کرنا ہے، خواہ بنیتِ عبادت ایسی خاموشی مطلق ہو یا کسی عبادت میں ہو۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں حضرت قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ”دخل أبو بكر على امرأة من أحمس يقال لها زينب فرآها لا تكلم فقال: ما لها لا تكلم؟ قالوا: حجت مصمتة قال لها: تكلمي فإن هذا لا يحل هذا من عمل الجاهلية فتكلمت“ ترجمہ: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت کے پاس تشریف لائے، اسے زینب کہا جاتا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: بات کرو! یہ حلال نہیں کہ یہ تو جاہلیت کا عمل ہے، پھر اس نے بات کرنا شروع کر دی۔ (صحیح بخاری، ج 5، ص 41، رقم الحدیث: 3834، مطبوعہ مصر)
اس حدیث پاک کی شرح میں علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: (فان ھذا) ای: ترک الکلام (لا یحل) قولہ ھذا ای الصمات من عمل الجاھلیۃ“ ترجمہ: بیشک یہ یعنی ترکِ کلام حلال نہیں ہے، یہ خاموش رہنا عملِ جاہلیت میں سے ہے۔ (عمدۃ القاری، ج 16، ص 399، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ ابن رجب حنبلی جامع العلوم و الحکم میں صمت کے متعلق فرماتے ہیں: فالتزام الصمت مطلقا، و اعتقاده قربة إما مطلقا، أو في بعض العبادات، كالحج و الاعتكاف و الصيام منهي عنه و روي من حديث أبي هريرة عن النبي صلى اللہ عليه و سلم أنه نهى عن صيام الصمت. و خرج الإسماعيلي من حديث علي قال: «نهانا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم عن الصمت في العكوف»، و في "سنن أبي داود" من حديث علي، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: «لا صمات يوم إلى الليل» . و قال أبو بكر الصديق رضي اللہ عنه لامرأة حجت مصمتة: إن هذا لا يحل هذا من عمل الجاهلية و روي عن علي بن الحسين زين العابدين أنه قال: صوم الصمت حرام۔
ترجمہ: مطلقاً خاموشی کا التزام اور اسے عبادت سمجھنا مطلق (کسی بھی حال میں) ہو یا بعض عبادات جیسے حج، اعتکاف اور روزے کے ساتھ، یہ سب ممنوع ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خاموشی کے روزے سے منع فرمایا اور امام اسماعیلی نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں اعتکاف میں خاموش رہنے سے منع فرمایا۔ اسی طرح سنن ابی داود میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ آلہ و سلم نے فرمایا: دن سے رات تک خاموش رہنے کی کوئی حیثیت نہیں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی عورت سے فرمایا، جو خاموش رہ کر حج کر رہی تھی کہ یہ حلال نہیں، یہ تو جاہلیت کا عمل ہے۔ (جامع العلوم و الحکم، جلد 1، صفحہ 343، مطبوعہ بیروت)
ممانعت کا مورد طویل خاموشی ہے، اس لیے کہ ان روایات میں لفظ ”صمت“ وارد ہوا، جس سے مراد طویل خاموشی ہے، جس کی وضاحت اوپر والے کلام میں موجود ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”(قوله و صمت) عدل عن السكوت للفرق بينهما وذلك أن السكوت ضم الشفتين، فإن طال سمي صمتا“ ترجمہ: صمت فرمایا، سکوت کا لفظ اختیار کرنے سے عدول کیا، اس وجہ سے کہ ان دونوں میں فرق ہے اور وہ یہ کہ ہونٹوں کو ملا لینے کو سکوت کہتے ہیں، پھر اگر ہونٹوں کو ملائے رکھنا طویل ہو، تو اسے صمت کہا جاتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 449، دار الفکر، بیروت)
ہماری شریعت میں ایسی خاموشی کے عبادت ہونے کی مشروعیت کو ختم کر دیا گیا۔ علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”(و يكره له الصمت) أي الصمت بالكلية تعبدا به فإنه ليس في شريعتنا“ ترجمہ: عبادت سمجھتے ہوئے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لینا مکروہ ہے، کیونکہ یہ ہماری شریعت میں مشروع نہیں ہے۔ (فتح القدیر، ج 2، ص 398، دار الفکر، بیروت)
یوں روزہ رکھنا مکروہ ہے کہ کھانے پینے وغیرہ کے ساتھ ساتھ بولنے سے بچا جائے۔ النِّہایَة شرحُ الہِدایَة میں ہے: ”و يكره أن ينوي الصوم المعهود و هو الإمساك عن المفطرات الثلاث مع زيادة نية أن لا يتكلم“ ترجمہ: یہ مکروہ ہے کہ کوئی شخص معہود(معروف) روزے یعنی کھانے، پینے اور جماع سے رکنے کی نیت کرنے کے ساتھ ساتھ مزید یہ نیت بھی کرے کہ کسی سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ (النهاية، ج 5، ص 213، مركز الدراسات الإسلامية، جامعة أم القرى)
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”(و صوم صمت) و هو أن لا يتكلم فيه لأنه تشبه بالمجوس فإنهم يفعلون هكذا“ ترجمہ: خاموشی کے روزے کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھ کر اس میں کلام نہ کرے، کیونکہ یہ مجوس کے ساتھ مشابہت ہے کہ وہ ایسا کیا کرتے تھے۔ (رد المحتار، ج 2، ص 376، دار الفکر، بیروت)
اگر ایسی خاموشی بنیتِ عبادت نہ ہو، تو مکروہِ تنزیہی ہے، جبکہ عبادت سمجھ کر ہو، تو مکروہِ تحریمی کا حکم ہے۔ چنانچہ تحفۃ الفقہاء میں ہے: ”و كذا صوم الصمت مكروه في الأوقات كلها بأن يصوم و يمسك عن الكلام و الطعام جميعا لأن هذا تشبه بالمجوس“ ترجمہ: اسی طرح تمام اوقات میں خاموشی کا روزہ رکھنا مکروہ ہے، اس طور پر کہ وہ روزہ رکھے اور بولنے اور کھانے دونوں سے باز رہے، اس وجہ سے کہ یہ مجوس کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے۔ (تحفۃ الفقھاء، ج 1، ص 343، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
درمختار میں ہے: (و المکروہ ۔۔۔ تنزیھا کعاشوراء وحدہ و سبت وحدہ ۔۔۔ و صوم صمت“ ترجمہ: تنہا عاشوراء کا روزہ، تنہا ہفتے کا روزہ اور خاموشی کا روزہ مکروہ ہے۔ (در مختار، ملتقطا، ج 2، ص 375، دار الفکر، بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے: مکروہِ تنزیہی جیسے ۔۔۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے) ۔۔۔ یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، صفحۃ 966، 967، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے: معتکف اگر بہ نیّت عبادت سکوت کرے یعنی چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھے، تو مکروہِ تحریمی ہے اور اگر چُپ رہنا ثواب کی بات سمجھ کر نہ ہو، تو حرج نہیں۔ (بھارِ شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 1026 تا 1027، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
ہمیں حکم دیا گیا کہ گناہوں اور فضولیات پر مشتمل گفتگو سے بچیں اور خیر و بھلائی کی بات کریں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من کان یؤمن باللہ و الیوم الآخر فلیقل خیرا او لیصمت“ ترجمہ: جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (جامع ترمذی، ج 4، ص 274، رقم الحدیث: 2501، دار الغرب الاسلامی، بیروت)
معالم السنن میں ہے: ”فنهوا عن ذلك و أمروا بالذكر و النطق بالخير“ ترجمہ: تو خاموشی کے روزے سے مسلمانوں کو منع کر دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اللہ کا ذکر کریں اور اچھی باتیں بولیں۔ (معالم السنن شرح سنن ابی داؤد، ج 4، ص 87، المطبعة العلمية، حلب)
ثواب سمجھے بغیر خاموش رہنے یا فضول باتوں سے بچنے کی نیت سے خاموش رہنے میں حرج نہیں۔ چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے: ”و كره الصمت إن اعتقده قربة و التكلم إلا بخير» لأنه منهي عنه لأنه صوم أهل الكتاب و قد نسخ و أما إذا لم يعتقده قربة فيه و لكنه حفظ لسانه عن النطق بما لا يفيد فلا بأس به و لكنه يلازم قراءة القرآن و الذكر و الحديث و العلم و دراسته و سير النبي ﷺ و قصص“ ترجمہ: نیکی کا اعتقاد رکھ کر خاموشی اپنانا مکروہ ہے اور خیر کے علاوہ بات کرنا مکروہ ہے، کیونکہ خاموشی کے روزے سے سے منع کر دیا گیا، اس وجہ سے کہ یہ اہل کتاب کا روزہ ہے، جو منسوخ کر دیا گیا اور جب وہ اس میں نیکی کا اعتقاد رکھے بغیر اپنی زبان کوبے فائدہ (فضول) باتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خاموشی اختیار کرنے میں حرج نہیں، لیکن اسے قراءتِ قرآن، ذکر، حدیث اور علم سیکھنے نیز علمی کتب، سیرت النبی اور قصص (دینی واقعات و حکایات) کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (المراقی علی نور الایضاح، ج 1، ص 267، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
مرآۃ المناجیح میں ہے: اسلام میں چپ کا روزہ نہیں، پچھلے دینوں میں تھا۔ اگرچہ بری باتوں سے خاموشی بہتر ہے، مگر خاموشی ہمارے ہاں عبادت نہیں بلکہ اس میں ہندوؤں اور عیسائیوں سے مشابہت ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ج 5، ص 113، نعیمی کتب خانہ، لاھور)
بہارِ شریعت میں ہے: معتکف اگر بہ نیّت عبادت سکوت کرے یعنی چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھے تو مکروہِ تحریمی ہے اور اگر چُپ رہنا ثواب کی بات سمجھ کر نہ ہو، تو حرج نہیں اور بری بات سے چُپ رہا، تو یہ مکروہ نہیں، بلکہ یہ تو اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ (بھارِ شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 1026 تا 1027، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
زبان کے قفلِ مدینہ کے بارے میں دعوت اسلامی کی طرف سے شائع کردہ کتاب بنام جنت کے طلبگاروں کیلئے مدنی گلدستہ میں ہے: دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں زبان کو اللہ عزوجل کی ناراضگی والے کاموں سے بچانے اور فضول گوئی کی عادت نکالنے کے لیے ضروری باتیں بھی کم لفظوں میں لکھ کر یا اشاروں میں کرنا اورفضول بات منہ سے نکل جانے کی صورت میں نادم ہوکر درود شریف پڑھ لینا زبان کا قفل مدینہ کہلاتا ہے۔ (جنت کے طلبگاروں کیلئے مدنی گلدستہ، ص 118، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7730
تاریخ اجراء: 21 رمضان المبارک 1447ھ / 11 مارچ 2026ء