logo logo
AI Search

گھر کے اخراجات کی واپسی کا مطالبہ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جوائنٹ فیملی میں ایک ہی شخص گھر کے اخراجات چلاتا رہا تو کیا وہ اپنی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہمارے والد وفات پاچکے ہیں۔ ان کے والدین دادا، دادی اور نانی بھی ان سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ ورثا میں ہم چار بہنیں، ایک بھائی اور والدہ حیات ہیں۔ والد کی وفات کے وقت صرف بھائی اور ایک بہن بالغ تھی۔ باقی تین بہنیں نابالغہ تھیں۔ اب ہم سب بالغ ہیں اور سب کی شادی ہو چکی ہے۔ والد صاحب کے بعد ہمارا اکلوتا بھائی ہی گھر کا واحد کفیل تھا۔ وہی سب کچھ کماتا تھا اور گھر کا نظام چلاتا تھا۔ آج سے بیس سال قبل ہمیں والد کی وراثت میں حصہ ملا تھا۔ ان پیسوں سے ہم نے ایک جگہ خرید کر وہاں گھر تعمیر کرکے رہنا شروع کر دیا تھا۔ بھائی نے باری باری سب بہنوں کی شادی کی اور آخر میں بھائی کی شادی ہوئی۔ گھر کی بنیادی تعمیرات کے علاوہ بعد میں گھر میں جو بھی کام ہوا وہ بھائی نے ہی کروایا ہے، مثلا نیا کچن، باتھ روم اور نئی چھتیں وغیرہ جو کام کرنے کی گھر میں حاجت محسوس ہوئی، بھائی نے (یہ سمجھتے ہوئے کہ گھر میرا ہی ہے اس لئے وہ کام بھائی نے) ہی کروایا۔ اس کے علاوہ بجلی، گیس اور پانی کے بلز بھی بھائی ہی دیتے رہے۔ اس دوران ایک بہن کو طلاق ہو چکی ہے اور وہ بھی بھائی کے ساتھ اسی گھر میں انہیں کی کفالت میں رہتی ہے۔ بھائی ملازم پیشہ ہیں۔ اسی سے انہوں نے سب کام کئے۔ بھائی نے اخراجات کرتے وقت یا بہنوں کی شادیاں کرتے وقت کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ یہ پیسے بعد میں لے گا۔ اب والدہ نے گھر بیچ کر سب بہن بھائیوں میں تقسیم کرنے کی بات کی تو بھائی نے کہا کہ میں بیس سال کے پانی، بجلی اور گیس کے بلز گھر کے چھ افراد پر تقسیم کروں گا۔ ہم نے کہا کہ آپ نے اس سے پہلے تو کبھی یہ بات نہیں کی، آپ اسی وقت کہہ دیتے جب یہ گھر لیا تھا۔ بھائی نے کہا کہ پہلے میری کوئی نیت نہیں تھی۔ لیکن جب سے والدہ نے اس گھر کو بیچنے کی بات کی ہے تو اس وقت سے میری نیت بنی ہے۔ اب ہماری اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں کہ شریعت کے حساب سے بھائی ان اخراجات میں سے کس کس کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ اگر کرسکتا ہے تو کس سے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بھائی نے مشترکہ پیسوں سے گھر بننے کے بعد جو اضافی تعمیرات اپنے لئے کروائی ہیں، ان کے ملبے کے پیسے وہ لے سکتا ہے۔ والدہ اور بہنوں پر کئے جانے والے کھانے، پینے کے اخراجات اور بجلی، گیس اور پانی کے اخراجات کا مطالبہ نہیں کرسکتا، یونہی بہنوں کی شادیوں پر کئے جانے والے اخراجات کا مطالبہ بھی کسی سے نہیں کرسکتا۔

اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ مشترکہ گھروں میں کی جانے والی تعمیرات اگر کسی شریک نے اپنے لئے کروائی ہو تو یہ اس کی ملکیت شمار ہوتی ہیں۔ اب وہ تعمیرات اگر اکھیڑی جا سکتی ہیں تو بعینہ وہ یا ان کے ملبہ کی قیمت وہ لے سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اکھڑنے سے گھر کو نقصان ہوگا تو صرف ملبے کی قیمت ہی لے سکتا ہے۔ لہذا بھائی نے جو کچن، باتھ روم اور چھت کا کام کیا ہے، یہ ایسے کام ہیں کہ ان کا ملبہ اکھیڑنے سے گھر کو نقصان پہنچے گا، اس لئے بھائی ان کے ملبے کی قیمت باقی شرکا (بہنوں، والدہ وغیرہ) سے لے سکتا ہے۔

البتہ بھائی نے جو بجلی، پانی اور گیس کے بلز دیے ہیں، یا بہنوں اور والدہ کے کھانے پینے پر خرچ کیا ہے، یا بہنوں کی شادی پر خرچ کیا ہے اور خرچ کرتے وقت ان میں سے کسی کا مطالبہ نہیں کیا تھا تو یہ سب اخراجات بھائی کی طرف سے تبرع و احسان شمار ہوں گے۔ تبرع و احسان کے طور پر کئے جانے والے اخراجات کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مشترکہ مکان کی تعمیرات کرنے والے کی ملکیت شمار ہوتی ہیں، اس حوالے سے امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: زید وحامد نے زمینِ مکانِ مشترک میں جو بنگلے اپنے لیے اپنے روپے سے بنائے وہ خاص انھیں کے ہیں دیگر شرکاء کا ان میں کوئی حق نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 101، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نئی تعمیرات کو سابقہ تعمیرات سے جدا کیسے کیا جائے؟ اس حوالے سے رد المحتار میں ہے ’’فإذا رم حيطانها بالآجر، أو أدخل فيها جذعا ثم مات و لا يمكن نزع ذلك فليس للورثة نزعه، بل يقال لمن له السكنى بعده اضمن لورثته قيمة البناء، ۔۔۔ و إن كان ما رم الأول مثل تجصيص الحيطان، و تطيين السطوح و شبه ذلك لم يرجع الورثة بشيء بحر عن الظهيرية أي لأن ما لا يمكن أخذ عينه، فهو في حكم الهالك بخلاف الآجر، و الجذع و لو بنى الأول ما يمكن رفعه بلا ضرر أمر الورثة برفعه و ليس للثاني تملكه بلا رضاهم كما في الإسعاف.‘‘ ترجمہ: جب وقف کی چاردیواری کی پکی اینٹوں سے مرمت کروائی یا اس میں کوئی شہتیر داخل کیا پھر وہ مرگیا اور اس کو اکھیڑنا ممکن نہ ہو تو ورثا کے لیے اسے اکھیڑنا جائز نہیں بلکہ جن کے لیے اس وقف مکان میں رہائش کا اختیار ہے، اس کے بعد انھیں کہا جائے گا کہ ورثا کو تعمیر کی قیمت کا ضمان دیں۔۔۔۔ اور اگر پہلے نے جو مرمت کروائی وہ دیواروں کو چونا کروانے اور چھتوں پر مٹی کا لیپ کروانے وغیرہ کی مثل ہو تو ورثہ کسی چیز میں رجوع نہیں کرسکتے، بحر عن الظھیریہ۔ یعنی اس وجہ سے کہ اس کے عین کو لینا ممکن نہیں ہے تو یہ ہلاک ہوجانے والی چیز کے حکم میں ہے بخلاف پکی اینٹوں اور شہتیر کے۔ اور اگر پہلے نے کچھ ایسا تعمیر کیا جس کو بلا ضرر اٹھانا ممکن ہے تو ورثہ کو اسے اٹھانے کا حکم دیا جائے گا اور دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر اس کا مالک بن جائے جیساکہ اسعاف میں ہے۔ (رد المحتار، کتاب الوقف، ج 6، ص 571، مطبوعہ کوئٹہ)

اکٹھے رہنے کی صورت میں کیے جانے والے اخراجات کا مطالبہ نہیں ہو سکتا ہے، اس حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے: بالجملہ مدار عرف پر ہے اور یہاں عرف قاضی اباحت کہ جو بھائی باہم یکجا رہتے اور اتفاق رکھتے اور خورد و نوش وغیرہا مصارف میں غیریت نہیں برتتے، ان کی سب آمدنی یکجا رہتی ہے، اور جسے جو حاجت پڑے بے تکلف خرچ کرتا اور دوسرا اس پر راضی ہوتا اور واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا، نہ وہ آپس میں یہ حساب کرتے ہیں کہ اس دفعہ تیرے خرچ میں زائد آیا اتنا مجرا دے، نہ صرف کے وقت ایک دوسرے سے کہتا ہے میں نے اس روپے سے اپنے حصے کا تجھے مالک کردیا بلکہ یہی خیال کرتے ہیں کہ باہم ہمارا ایک معاملہ ہے جس کا مال جس کے خرچ میں آجائے کچھ پروا نہیں، اور یہ عین معنی اباحت وتحلیل ہے توجب تک اس کا خلاف دلیل سے ثابت نہ ہوگا اباحت ہی قرار دیں گے اور زر صرف شدہ کا نصف محمود بیگ کو نہ ملے گا، و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 93، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

شادی پر کئے جانے والے اخراجات کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے "واقعی ہمارے بلاد میں مصارف شادی کنّواریوں سے پُوچھ کر نہیں ہوتے نہ اُن سے ا س امر میں کوئی اذن لیا جاتا ہے پس اگر بیانِ مذکور صحیح ہے تو جو کچھ مصارف بالائی جس قاصرہ کی شادی میں ہُوئے وہ دُلہن کے حصّہ سے مجرا نہیں ہوسکتے ۔۔۔۔ تو ان مصارف میں جو کچھ بکر نے صرف کیا بہنوں کے ساتھ تبرع و احسان ہوا جو کسی سے مُجرا نہ پائے گا سب صرف اسی کے حصہ پر پڑے گا۔" (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 215، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دوسرے مقام پر ہے: صَرف شادی کا مطالبہ صرف دختر سے نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ اس سے ٹھہرا لیا ہو کہ ہم یہ سارا صَرف تیرے حساب میں مجرا لیں گے۔ "و ذٰلک لان ما کانوا مضطرین فی ذٰلک و ما سبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت او قضی دین غیرہ بلا اذنہ و المسئلتان فی الدر المختار و العقود الدریۃ۔" (ترجمہ: یہ اس لئے ہے کہ وہ اس میں مجبور نہیں تھے اور جہاں ایسی صورت ہو تو وہاں ایسا کرنے والا متبرع قرار پاتا ہے سوائے اس کے کہ اس نے رجوع کی شرط کی ہو جیسا کہ کوئی اجنبی میت کو کفن پہنائے یا کسی کی اجازت کے بغیر اس کا قرض ادا کردے۔ اور یہ دونوں مسئلے در مختار اور عقود الدریہ میں مذکور ہیں۔) (فتاوی رضویہ، ج 26، ص 131، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-12001
تاریخ اجراء: 07 رمضان المبارک 1444ھ / 29 مارچ 2023ء