کیا کسی پر بزرگ یا شہید کی سواری آسکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی پر بزرگ یا شہید کی سواری آنے کی حقیقت کیا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کیا کسی شخص پر کسی بزرگ کی سواری آسکتی ہے، کیونکہ بعض افراد اس کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر ان کے پاس لوگ جمع ہو کر آئندہ پیش آنے والی مختلف چیزوں سے متعلق سوال کرتے رہتے ہیں۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس کی کیا حقیقت ہے اور ایسے موقع پر ان سے سوالات کرنا کیسا ہے؟
جواب
کسی بھی مرد یا عورت پر کسی بزرگ کی سواری آنے کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں، لہذا اگر کوئی اس کا دعویٰ کرتا ہے، تو اس پر اعتماد کرنا، جائز نہیں اور نہ ہی اس سے آئندہ کی باتیں پوچھنا جائز ہے، کیونکہ بسا اوقات تو یہ محض مکر و فریب ہوتا ہے اور سادہ لوح مسلمان اسے سچ تصور کرلیتے ہیں اور پھر ایسے افراد کے پاس جمع ہوکر طرح طرح کی خرافات اور کئی ناجائز امور کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ کامل و اکمل دین کی روشن شریعت کا ایسی چیزوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ کبھی واقعی کسی شخص پر جنّات کا اثر ہوتا ہے اور وہ جنّات جھوٹ بول کر اپنے آپ کو کسی بزرگ یا شہید کی جانب منسوب کرتے ہیں (یعنی یہاں بھی حقیقت میں کسی بزرگ کی سواری نہیں آتی، بلکہ فقط جنّات کا اثر ہوتا ہے) اور یاد رہے کہ جنّات غیب سے نِرے جاہل ہیں، ان سے بھی آئندہ کی باتیں معلوم کرنا، ناجائز و گناہ ہے اور اگر اعتقاد یعنی اس یقین کے ساتھ ہو کہ یہ جو کچھ بتائیں گے، وہ سچ ہی ہوگا، تو یہ کفر ہے، لہذا بہر صورت اس طرح کا دعوٰی کرنے والے افراد سے دور رہنا ضروری ہے اور کسی بھی قسم کی بات نہ پوچھیں کہ یہ مستقبل کے متعلق غیب کا دعوی بنتا ہے اور وہ حرام ہے، جبکہ ماضی وحال کے متعلق خبر دینے میں بھی جنات پر اعتماد نہیں کہ شر پھیلانا ان کی عادت و خصلت ہے۔
جنات غیب نہیں جانتے، اس بارے میں اللہ تعالی قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: پھر جب سلیمان زمین پر آیا، جنّوں کی حقیقت کُھل گئی، اگر غیب جانتے ہوتے، تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے۔ (پ 22، س سبا، آیت 14)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کی وفات کا حال جنّات پر ظاہر نہ ہو، تاکہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ جن غیب نہیں جانتے۔۔۔ حتّٰی کہ آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جنات آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفات پر مطلع نہ ہوئے ۔۔۔ معلوم ہوا کہ جنّا ت کو غیب کا علم حاصل نہیں ہے۔ فی زمانہ عوام کی اکثریت اس جہالت میں مبتلا ہے کہ وہ عاملوں کے ذریعے جنّات سے آئندہ کے احوال معلوم کرتے ہیں، اسی طرح بعض مرد اورعورتیں بزرگوں کی سواری آنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور لوگ عقیدت میں ان سے اپنے معاملات کے بارے میں دریافت کرتے اوران کی بتائی ہوئی باتوں کو یقین کی حد تک سچا تصور کر لیتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ جنّات سے غیب کی بات پوچھنی حماقت اور اشد حرام ہے اور ان کی دی ہوئی خبر پر یقین رکھنا کفر ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان، تحت ہذہ الآیہ، ج 8، ص 128 تا 129، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ہاں! جن اور ناپاک روحیں مرد و عورت احادیث سے ثابت ہیں اور وہ اکثر ناپاک موقعوں پر ہوتی ہیں۔۔۔ وہ سخت جھوٹے کذّاب ہوتے ہیں، اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں اور کبھی کچھ، اس وجہ سے جاہلانِ بے خرد میں شہیدوں کا سر پر آنا مشہور ہوگیا، ورنہ شہداء کرام ایسی خبیث حرکات سے منزہ و مبرا ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 218، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: یہ سب مکرو فریب ہے، کوئی بزرگ کسی پر نہیں آتا، اس پر اعتماد کرنا جائز نہیں، ہاں! خبیث ہمزاد اور جنات آتے ہیں۔ (فتاوی شارح بخاری، ج 2، ص 148، مطبوعہ کراچی)
مفتی اعظم پاکستان، مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: کسی مرد یا عورت پر کسی بزرگ کی سواری نہیں آتی، یہ دعویٰ فریب ہے، صرف جنات کا اثر ہوتا ہے، وہ بھی کسی کسی پر، مگر ان جنات سے سوال کرنا یا آئندہ کا حال معلوم کرنا، ناجائز ہے۔۔۔ ان سے سوال کرنا، جو خود نہیں جانتے، عقل کے خلاف ہے اور اس وعید میں داخل ہے، جو حدیث میں بیان کی گئی کہ: ’’عن بعض ازواج النبی صلی اللہ علیہ و سلم عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: من اتی عرافاً فسالہ عن شیء لم تقبل لہ صلوٰۃ اربعین لیلۃ‘‘ کاہن کے پاس جو شخص جائے گا اور سوال کرے گا تو چالیس دن تک اللہ تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ (وقار الفتاویٰ، ج 1، ص 177 تا 178، مطبوعہ بزمِ وقار الدین، کراچی)
فتاوی فقیہِ ملت میں ایک سوال کے جواب میں ہے: صورتِ مسئولہ میں بنے ہوئے مکار و فریب کار بابا کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہم کو شہیدوں، ولیوں اور بڑے پیر وغیرہ کی سواری آتی ہے، ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا، البتہ شیطان اور اس کی ذریات اس پر مکمل طور سے ضرور مسلط ہیں ۔۔۔ شہید، ولی اور بڑے پیر، تو اللہ تعالی کے محبوب بندے ہیں، ان کو ایک بے نمازی فاسق و فاجر اور مکار بنے ہوئے بابا سے کیا تعلق۔ (فتاوی فقیہِ ملت، ج 1، ص 293، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-75776
تاریخ اجراء: 15 شوال المکرم 1446ھ / 14 اپریل 2025ء