نومولود بچے کے بال اتارنے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نومولود بچے کے اتارے گئے بالوں کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نومولود بچے کے اتارے جانے والے بالوں کا کیا کیا جائے؟
جواب
نومولود بچےکے اتارے جانے والے بالوں کے متعلق حکم شرعی یہ ہے، کہ ان کو ممکنہ صورت میں دفن کردیا جائے، کہ انسانی بدن سے جو چیز جدا ہو، اس کے متعلق یہی حکم ہے، کہ اسے دفن کر دینا چاہئے۔ نیز بعض لوگوں میں ایک فضول رسم پائی جاتی ہے، کہ وہ بچے کے پیدائشی بالوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں، اس کا شریعت میں کوئی حکم نہیں۔
ملا علی قاری علیہ الرحمۃ شرح مسند ابی حنیفہ میں فرماتے ہیں: عق عنہ یوم سابعۃ بکبشین و حلق راسہ یومئذ، و سما ہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم یومئذ و تصدق بزنۃ شعرہ و رقا علی المساکین، و دفنوا شعرہ فی الارض" ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادے، حضرت سیدنا ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ کا عقیقہ ساتویں دن دو مینڈھوں کے ساتھ کیا گیا، اسی دن ان کا سر مونڈا گیا، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے اسی دن ان کا نام رکھا، اور ان کے بالوں کا وزن کر کے چاندی صدقہ کی، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ان کے بال دفن کردئیے۔ (شرح مسند ابی حنیفة، جلد 1، صفحہ 320، دار الكتب العلمية، بيروت)
بہار شریعت میں ہے بال دفن کردیں اور ہمیشہ بدن سے جو چیز بال، ناخن، کھال جُدا ہوں دفن کر دیا کریں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1144، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5055
تاریخ اجراء: 15 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 01 جون 2026ء