جنات انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا جنات انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی ہاں! جنات انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جس طرح انسانوں میں اچھے برے ہر طرح کے افراد ہوتے ہیں، اسی طرح جنات میں بھی بعض نیک و صالح ہوتے ہیں، جو انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے اور کچھ شریر ہوتے ہیں، جو انسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جنات کا انسانوں کو نقصان پہنچانا دو طرح سے ہوتا ہے۔
چنانچہ کتاب قوم جنات اور امیر اہلسنت میں ہے: جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دیتے ہیں: (1) اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے (2) اس کے جسم میں داخل ہوکر۔
{1} جسم سے باہر رہ کر تکلیف دینا:
حضرت سیدناابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا: میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم! طعن کے بارے میں تو ہم نے جان لیا مگر یہ طاعون کیا ہے؟ فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کے نیزوں کی چبھن ہے، ان کا مارا ہوا شہید ہے۔ (مسند امام احمد، جلد 7، صفحہ 131، حدیث19545)
(2) جنات کا جسم میں داخل ہو کر نقصان پہنچانا
جن کا انسان کے بدن میں داخل ہونا بھی قراٰن واحادیث سے ثابت ہے، سورۃ البقرۃ میں ہے: لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ“ ترجمۂ کنزالایمان: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو۔ (پارہ 2، سورہ بقرہ، آیت 375)
علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی علیہ رحمۃ اللہ القوی (المتوفی ۶۷۱ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ اسے چھوتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، جلد 2، صفحہ 269)
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے پاس اپنے بیٹے کو لائی اور عرض گزار ہوئی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلم! میرے بیٹے کو جنون عارض ہوتا ہے اور یہ ہم کو تنگ کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔ اس نے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔ (مسند دارمی، جلد 1، صفحہ 24، الحدیث 19) (قوم جنات اور امیر اہلسنت، صفحہ 116 تا 118، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2527
تاریخ اجراء: 20 ربیع الآخر 1447ھ / 14 اکتوبر 2025ء