یا حی یا قیوم اسم اعظم ہے ؟ اس کا مطلب کیا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا یا حیّ، یا قیّوم اسم اعظم ہے ؟ نیز اس کا معنی کیا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا یا حیّ، یا قیّوم اسم اعظم ہے؟ نیز اس کا معنی کیا ہے؟
جواب
جی ہاں! بعض علما کے نزدیک "یاحی، یاقیوم" اسم اعظم ہے۔ اور اس کے معنی سے متعلق تفسیر صراط الجنان میں ہے : "اللہ تعالیٰ کی صفات میں "حی" دائم و باقی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اس کا معنیٰ (یہ) ہے کہ ایسا ہمیشہ رہنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو۔ جبکہ "قیوم" وہ ہے جو قائم بِالذّات یعنی بغیر کسی دوسرے کی محتاجی اور تَصَرُّف کے خود قائم ہو اور مخلوق کی دنیا اور آخرت کی زندگی کی حاجتوں کی تدبیر فرمائے۔" (تفسیر صراط الجنان، پارہ 03، آل عمران، تحت الایت 02، ج 01، ص 498، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تفسیر خازن میں ہے ”قال تعالى: (الحي القيوم) أما الحي في صفة اللہ تعالى فهو الدائم الباقي الذي لا يصح عليه الموت. وأما القيوم فهو القائم بذاته والقائم بتدبير الخلق ومصالحهم فيما يحتاجون إليه في معاشهم ومعادهم“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’الْحَيُّ الْقَيُّومُ‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت میں ’’حی‘‘ سے مراد وہ ذات ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، جس پر موت کا آنا محال ہے۔ اور ’’قیوم‘‘ سے مراد وہ ذات ہے، جو بذات خود قائم ہے، اور مخلوق کی تدبیر اور ان کے ان مصالح کا انتظام کرنے والی ہے، جن کی انہیں اپنی دنیاوی زندگی اور آخرت کے معاملات میں ضرورت ہوتی ہے۔ (تفسیر خازن، ج 1، ص 223، دار الكتب العلمية، بيروت)
سنن الترمذی میں ہے "عن أنس بن مالك قال: كان النبي صلى اللہ عليه وسلم إذا كربه أمر قال: يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث" ترجمہ: روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم کو کوئی چیز غمگین کرتی، تو آپ پڑھتے: اے دائمی زندہ! اے قائم بالذات اور مخلوق کی حاجتوں کی تدبیر فرمانے والے! میں تیری رحمت کے وسیلے سے (تجھ سے) مدد مانگتا ہوں۔ (سنن الترمذي، ص 1287، رقم: 3524، دار ابن کثیر، دمشق)
اس کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے "یعنی تو حیّ و قیّوم ہے میری مدد کر، مجھے اس مصیبت سے نجات دے، تیرے سواء میرا کون ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ حیّ و قیّوم اسم اعظم ہے، قرآن کریم میں یہ نام صرف تین جگہ مذکور ہوئے۔" (مراۃ المناجیح، باب: خاص وقتوں کی دعائیں، جلد 04، صفحہ 55، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سنن أبي داود میں ہے "عن أسماء بنت يزيد، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: اسم اللہ الأعظم في هاتين الآيتين {وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم} [البقرة: 163] وفاتحة سورة آل عمران {الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم} " ترجمہ: روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے: تمہارا معبود ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ رحم والا مہربان ہے۔ اور سورۂ آل عمران کے شروع میں: ﷲ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ، قائم رکھنے والا۔ (سنن أبي داود، صفحہ 244، رقم: 1496، دار الکتب العلمية، بیروت)
اس کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے: "اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ رب تعالٰی کا اسم اعظم لا الہ الا ھوہے کیونکہ ان دونوں آیتوں میں یہ ہی مشترک ہے۔ امام فخر الدین رازی نے فرمایا کہ اسم اعظم الحی القیوم ہے ۔" (مراۃ المناجیح، اللہ کے ناموں کا بیان، جلد 03، صفحہ 333، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5422
تاریخ اجراء: 03 ربیع الثانی 1448ھ/16 ستمبر 2026ء