logo logo
AI Search

کعبہ کے چاروں کونوں کے نام اور پہچان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کعبہ کے چاروں کونوں کے نام اور پہچان کیا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ خانہ کعبہ کے چاروں کونوں کے کیا نام ہیں اور کیسے پتہ چلے کہ کون سے کونے کا کیا نام ہے؟

جواب

کعبہ شریف کے چار مبارک کونے ہیں: (۱) رکن اسود (۲) رکن عراقی (۳) رکن شامی (۴) رکن یمانی۔

کعبہ مشرفہ کے جنوب مشرقی (South-East) کونے کو رکنِ اسود کہتے ہیں، اسی کونے میں حجرِ اسود شریف نصب ہے اور یہیں سے طواف شروع ہوتا ہے۔

رکن اسود سے دائیں جانب بابِ کعبہ کی طرف بڑھنے پر شمال مشرقی(North-East)کونا آتا ہے، جسے رکنِ عراقی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ عراق کی سمت واقع ہے۔

رکنِ عراقی سے دائیں جانب آگے بڑھنے پر شمال مغربی(North-West) کونا آتا ہے، جسے رکنِ شامی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ملکِ شام کی سمت ہے۔

رکنِ شامی سے دائیں جانب بڑھنے پر آخر میں جنوب مغربی (South-West) کونا آتا ہے، جسے رکنِ یمانی کہتے ہیں، کیونکہ یہ یمن کی سمت واقع ہے۔

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”رکن مکان کا گوشہ جہاں اس کی دو دیواریں ملتی ہیں جسے زاویہ کہتے ہیں۔ ... کعبہ معظمہ کے چار رکن ہیں: رکنِ اسود جنوب مشرق کے گوشہ میں، اسی میں زمین سے اونچا سنگ اسود شریف نصب ہے۔ رکن عراقی مشرق و شمال کے گوشہ میں، دروازۂ کعبہ انہی دونوں رکنوں کے بیچ کی شرقی دیوار میں زمین سے بہت بلند ہے۔ ... رکن شامی شمال مغرب کے گوشہ میں، میزاب رحمت، سونے کا پرنالہ، رکن شامی و عراقی کے بیچ کی شمالی دیوار پر چھت میں نصب ہے۔ ... رکن یمانی مغرب و جنوب کے گوشہ میں (ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 738، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

شیخ طریقت امیر اہل سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ” رکن اسود: جنوب و مشرق کے کونے میں واقع ہے، اِسی میں جنتی پتھر ’’ حجر اسود ‘‘ نصب ہے۔ رکن عراقی: یہ عراق کی سمت شمال مشرقی کونا ہے۔ رکن شامی: یہ ملکِ شام کی سمت شمال مغربی کونا ہے۔ رکن یمانی: یہ یمن کی جانب مغربی کونا ہے۔“ (رفیق الحرمین، صفحہ 60-61، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر:FAM-1050

تاریخ اجراء:17  رجب المرجب 1447ھ/7 جنوری 2026ء