ہمبستری کے آداب میں سے ہے کہ: میاں بیوی دونوں مکمل برہنہ نہ ہوں، کیونکہ حدیث شریف میں اس طرح مکمل برہنہ ہونے سے منع فرمایا گیا ہے، اور برہنگی کی حالت میں گفتگو کرنا مکروہ ہے، اسی طرح ہمبستری کے دوران بات چیت کرنا مکروہ ہے، اور اس سے اولاد گونگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، لہذا ان تمام چیزوں سے بچناچاہیے۔
سنن ترمذی میں حدیث پاک ہے:
”اياكم والتعري، فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط وحين يفضي الرجل إلى أهله، فاستحيوهم وأكرموهم “
ترجمہ: برہنگی سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ ایسے (فرشتے) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے، سوائے اس وقت کے جب تم قضائے حاجت کرتے ہو یا جب مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے، لہٰذا ان سے حیا کرو اور ان کی عزت کرو۔ (سنن الترمذی، جلد5، صفحہ112، رقم الحدیث2800، مطبوعہ مصر)
السنن الکبری للبیہقی میں حدیث پاک ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”إذا أتى أحدكم أهله فليستتر، ولا يتجردان تجرد العيرين“
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو پردہ کرے اور دونوں، گدھوں کی طرح بالکل ننگے نہ ہو جائیں۔ (السنن الکبری للبیھقی، جلد7، صفحہ313، رقم الحدیث14095، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہمبستری کے سنت طریقے کو بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یاد الہی واعمال صالحہ کے لیے اپنے قلب کااُس تشویش سے فارغ کرنا یوں کہ نہ اپنی برہنگی ہو نہ عورت کی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد23، صفحہ385-386، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
مرآۃ المناجیح میں ہے: ”بعض لوگ کہتے ہیں کہ بوقت صحبت دونوں کے بالکل ننگے ہونے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر صحبت کرنے سے اولاد بے شرم پیدا ہوتی ہے۔ “ (مرآۃ المناجیح، جلد5، صفحہ24، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
در مختار میں ہے: ”يكره الكلام۔۔۔في حالة الجماع “ ترجمہ: ہمبستری کے وقت بات چیت کرنا مکروہ ہے۔
مذکورہ عبارت کے تحت رد المحتار میں ہے:
”لأن حالۃ مبني على الستر، وكان يأمر صلى الله عليه وسلم فيه بالأدب ط.وذكر في الشرعة: أن من السنة أن لا يكثر الكلام في حالة الوطء فإن منه خرس الولد“
ترجمہ: یہ حالت پردے پر مبنی ہے اور اس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادب کے ساتھ رہنے کی تلقین فرماتے تھے، ط۔شرعہ میں ذکر کیا کہ سنت ہے کہ ہمبستری کے دوران زیادہ بات نہ کی جائے، کیونکہ اس سے اولاد گونگی پیدا ہوسکتی ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 9، ص 690، مطبوعہ کوئٹہ)
مرآۃ المناجیح میں ہے: ”صحبت کی حالت میں باتیں کرنے سے اندیشہ ہے کہ اولاد گونگی ہو۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد5، صفحہ24، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
برہنگی کی حالت میں بات کرنا مکروہ ہے، چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے: ”ويكره مع كشف العورة “ ترجمہ: برہنگی کے ساتھ بات کرنا مکروہ ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، ص 74، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4592
تاریخ اجراء: 09رجب المرجب1447ھ/30دسمبر2025ء