logo logo
AI Search

گھر میں رہنے والی بلی کو چھوڑنے کا کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گھر شفٹ کرنے کی صورت میں گھر میں رہنے والی بلی کا کیا کریں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم جس گھر میں رہ رہے ہیں یہاں کچھ عرصہ پہلے ایک بلی آ کر رہنے لگی ہے اور اس نے چار بچے بھی دئیے ہیں۔ بلی کو کھانا بھی ہم دیتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ اب ہم گھر خالی کر کے کہیں اور شفٹ ہورہے ہیں،تو کیا بلی کو بھی ساتھ لے کر جانا ضروری ہے؟

جواب

بلی جب خود چل پھر سکتی ہے اور اپنا کھانا خود تلاش کرسکتی ہےتو اسے ساتھ لے جانا کوئی ضروری نہیں ، نہ ہی اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔ ہاں ! اگر چل پھر کر خود اپنا کھانا تلاش نہیں کرسکتی تو اس کے لئے کھانے، پینے کا بندوست کرلیا جائے تاکہ بھوک سے نہ مرے، اگر ثواب کی نیت ہوگی تو ان شاء اللہ ثواب کے بھی حقدار ہوں گے۔

بخاری شریف میں ہے: ”قالوا يا رسول الله و إن لنا في البهائم لأجرا؟ فقال في كل ذات كبد رطبة أجر“ یعنی صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہمارے لئے جانوروں میں بھی اجر (ثواب) ہے؟، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر تر جگر والی میں اجر (ثواب) ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 2363، صفحہ 376، مطبوعہ: ریاض)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2451

تاریخ اجرا: 18ربیع الاول1447ھ/12ستمبر2025ء