logo logo
AI Search

نو مسلم کے لیے کیا کیا چیزیں سیکھنا ضروری ہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام قبول کرنے کے بعد کیا کیا چیزیں سیکھنی ہوتی ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اسلام قبول کیا ہے، اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے کون کون سی چیزیں سیکھنی چاہیے ؟

جواب

دینِ اسلام کی تعلیمات اور احکام اُس خالقِ کائنات عزوجل کی طرف سے نازل کردہ ہیں جنہیں سیکھنے اور اِن پر خلوصِ نیت سے عمل کرنے والوں کے لیے قرآن وحدیث میں دونوں جہاں کی کامیابی اور سر بلندی کی واضح بشارتیں موجود ہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ

 ترجمہ کنزالعرفان: اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا۔ (القرآن، پارہ28، سورۃ المجادلۃ، آیت11)

علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی کو ماپنا ناممکن ہے، بالخصوص اگر قرآن و سنت کے حصولِ علم کی بات کی جائے، تو انسان کی پوری زندگی بھی اس راہ میں صَرف ہو (لگ)جائے، تب بھی وہ علومِ اسلامیہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ تاہم اسلام چونکہ ایک فطری اور آفاقی دین ہے، اس لیے اس نے انسان کی فطر ت اور استعداد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اتنے ہی احکام کا مکلف بنایا ہے جتنا وہ بآسانی ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اسی حقیقت کو قرآن پاک میں یوں بیان کیا گیا ہے:﴿ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاترجمہ کنزالعرفان: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے۔ (القرآن، پارہ03، سورۃ البقرۃ، آیت286)

یعنی شریعتِ اسلامیہ ایک نو مسلم سے ہر گز یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ ایک ہی وقت میں تمام کے تمام احکامِ دین سیکھ کر ان پر مکمل طور پر عمل شروع کر دے، بلکہ اسلام کی حقانیت اور اس کے جملہ عقائد کو اجمالی طور پر درست اور برحق تسلیم کرنے کے بعد اپنی موجودہ حالت کے مطابق دینِ اسلام کی ضروری تفصیلات کا علم سیکھتے ہوئے  اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالتا رہے، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، وہ فرماتے ہيں:

 ”قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم لمعاذ بن جبل، حين بعثه الى اليمن: انك ستأتي قوما اهل كتاب، فاذا جئتهم فادعهم الى: ان يشهدوا ان لا اله الا اللہ، وان محمدا رسول اللہ، فإن هم أطاعوا لك بذلك، فأخبرهم أن اللہ قد فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فان هم أطاعوا لك بذلك، فأخبرهم أن اللہ قد فرض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد على فقرائهم“

ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو ان سے فرمایا: تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں، تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں، تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ (صحیح البخاری، جلد2، صفحہ 131، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)

٭... ایک نو مسلم کے لیے سب سے پہلے جس علم کا سیکھنا ضروری ہے وہ بنیادی عقائد کا علم ہے، مثلاً اللہ پاک کی ذات و صفات، رسالت و نبوت، ملائکہ وجن، قبر و حشر، دوزخ و جنت اور تقدیر وغیرہ کا علم تاکہ ان میں سے کسی کا انکار یا مخالفت اُسے کفر و گمراہیت کی طرف نہ دھکیل دے۔

٭... قبولِ اسلام کے بعد نماز جیسے اہم ترین فرض کے مسائل یعنی اس کے فرائض، شرائط اور مفسدات (یعنی نماز توڑنے والی چیزیں) سیکھے تاکہ نماز درست طریقے سے پر ادا ہو۔

٭... جب رمضان المبارک آئے، تو روزے کے ایسے مسائل سیکھے جس سے روزہ احسن انداز میں پورا ہوسکے۔

٭... اگر صاحبِ مال ہے، تو زکوۃ کے ضروری مسائل سیکھے تاکہ زکوۃ درست طریقے سے ادا ہو سکے۔

٭... صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت میں حج کے ارکان اور اس سے متعلق اہم مسائل سیکھے تاکہ حج صحیح طریقے سے مکمل ہو۔

٭... اگر نکاح کا ارادہ ہو، تو نکاح، حق مہر، طلاق اور دیگر متعلقہ احکام سیکھے۔

٭... اگر کوئی کاروبار کرتا ہے، تو خرید وفروخت کے مسائل سیکھے تاکہ روزی حلال طریقے سے حاصل ہو۔

الغرض اسلام کے دیگر احکام کا علم بتدریج (مرحلہ وار) حاصل کرتا رہے  جن کی ضرورت اس کو اپنی زندگی میں پڑتی رہے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے متعلق ہو، جیسا کہ شمس الاَئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483ھ/1090ء) لکھتے ہیں:

”افضل العلم علم الحال وافضل العمل حفظ الحال “

یعنی افضل تر ین علم مو جو دہ درپیش امور سے آ گاہی حا صل کر نا ہے اور افضل تر ین عمل اپنے احو ال کی حفا ظت کر نا ہے۔ (المبسوط، جلد30، صفحہ260، مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت)

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:

”فرض على كل مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين والهداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم، وعلم الزكاة لمن له نصاب، والحج لمن وجب عليه والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبهات والمكروهات في سائر المعاملات۔ وكذا اهل الحرف، وكل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه وحكمه ليمتنع عن الحرام فيه“

ترجمہ: دینی علم اور ہدایت حاصل کرنے کے بعد ہر مکلف (عاقل بالغ) مرد و عورت پر وضو، غسل، نماز اور روزہ کے مسائل سیکھنا لازم ہے۔ جو صاحبِ نصاب ہو اُس پر مسائلِ زکوۃ کا جاننا، جس پر حج فرض ہو، اُس پر حج کے مسائل سیکھنا فرض ہے۔ کاروبار کرنے والوں پر خرید وفروخت کے مسائل سیکھنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے تمام معاملات میں شبہات اور مکروہ کاموں سے بچ سکے۔ اسی طرح پیشہ ور (کاریگر) اور ہر وہ شخص جو کسی کام میں مشغول ہو، اُس پر اس کام کا علم سیکھنا ضروری ہے تاکہ وہ اس میں حرام سے بچ سکے۔ (حاشیۃ ابن عابدین، جلد1، صفحہ107، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا کہ ”جس ملک کے نو مسلم اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہوں، کفار کی صُحبت کی وجہ سے کُفر و اسلام کی بہت ساری باتوں کا فرق بھی نہ جانتے ہوں، اُن کو پہلے پہل کیا سکھایا جائے؟ عقائدِ اسلامیہ و احکاماتِ شرعیہ کی تعلیم دی جائے یا تصوف کی باریکیاں وغیرہ سمجھائی جائیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: بدیہیاتِ دینیہ (یعنی وہ مشہور ومعروف دینی احکام جن کو عوام وخواص سب جانتے ہوں) سے ہے کہ اولاً عقائدِ اسلام و سنت، پھر احکامِ صلوٰۃ و طہارت و غیرہا ضروریاتِ شرعیہ سیکھنا سکھانا فرض ہے اور انہیں چھوڑ کر دوسرے کسی مستحب و پسندیدہ علم میں بھی وقت ضائع کرنا حرام۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد12، صفحہ146-158، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-9689

تاریخ اجراء: 27جمادلی الاخریٰ 1447ھ/19 دسمبر 2025 ء