logo logo
AI Search

غیر مسلم کے بچے کا نسب ثابت ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر مسلم کے بچے کے نسب کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ غیر مسلم کا بچہ، ولد الزنا ہوگا یا نہیں؟ دلیل کے ساتھ بتائیں۔

جواب

غیر مسلم نے کم از کم اپنے مذہب کے مطابق شادی کی، تو شادی کے بعد اس کی زوجہ سے پیدا ہونے والا بچہ ولد الزنا نہیں ہوگا، بلکہ اس کا نسب ثابت ہو گا، کیونکہ غیر مسلم کا اپنے مذہب کے طریقے کے مطابق کیا جانے والا نکاح صحیح ہوتا ہے اور اس کے دیگر احکام مثلا نفقہ عدت اور نسب وغیرہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔ البتہ! اگر اس نے اپنے مذہب کے مطابق بھی نکاح نہیں کیا، پس بغیر نکاح کے کسی عورت سے ہمبستری کی، تو یہ زنا ہوگا، اور اس سے پیدا ہونے والا بچہ، ولد الزنا ہوگا۔ تنویر الابصار میں ہے ”(كل نكاح صحيح بين المسلمين فهو صحيح بين أهل الكفر وكل نكاح حرم بين المسلمين لفقد شرطه يجوز في حقهم إذا اعتقدوه )“ ترجمہ: ہر وہ نکاح جو مسلمانوں کے مابین صحیح ہے تو وہ کفار کے درمیان بھی درست ہے اور ہر وہ نکاح جو کسی شرط کے مفقود ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں حرام ہے، اگر کفار اسے جائز سمجھتے ہوں تو ان کے حق میں جائز ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 4، صفحہ 347، 348، مطبوعہ: کوئٹہ)

در مختار میں ہے"(نكح ذمي) أو مستأمن (ذمية أو حربي حربية ثمة بميتة أو بلا مهر بأن سكتا عنه أو نفياه و) الحال أن (ذا جائز عندهم فوطئت أو طلقت قبله أو مات عنها فلا مهر لها) ولو أسلما أو ترافعا إلينا لأنا أمرنا بتركهم وما يدينون (وتثبت) بقية(أحكام النكاح في حقهم كالمسلمين من وجوب النفقة في النكاح ووقوع الطلاق ونحوهما) كعدة ونسب وخيار بلوغ"

ترجمہ: اگر کسی ذمی یا مستامن نے کسی ذمیہ یا حربی نے حربیہ عورت سے ایسا نکاح کیا جو ان کے مذہب میں جائز سمجھا جاتا ہو، خواہ وہ مردار (بطور مہر) پر ہو، یا بغیر مہر کے ہو اس طرح کہ دونوں نے مہر کا ذکر ہی نہ کیا ہو یا اس کی نفی کر دی ہو، پھر اس عورت سے صحبت ہو گئی، یا صحبت سے قبل طلاق ہو گئی، یا شوہر اس کے پاس مر گیا، تو اس عورت کے لیے مہر لازم نہ ہوگا، اگرچہ بعد میں دونوں مسلمان ہو جائیں یا اپنا مقدمہ ہمارے پاس لے آئیں ؛ کیونکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے دینی معاملات کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔البتہ نکاح کے باقی احکام ان کے حق میں مسلمانوں ہی کی طرح ثابت رہیں گے، جیسے نکاح میں نفقہ واجب ہونا، طلاق واقع ہونا، اور اسی طرح عدت، نسب، اور بلوغ کے بعد اختیار وغیرہ کے احکام۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 4، صفحہ 309، 310، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5006
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 14 مئی 2026ء