logo logo
AI Search

بخل کی تعریف اور وضاحت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بخل کے حوالے سے وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بخیل کے متعلق حدیث پاک میں ہے کہ وہ جنت میں نہیں جائے گا، تو کیا اگر میں کچھ پیسے گھر بھیجوں، اور کچھ اپنے پاس رکھوں، تاکہ ضرورت کے وقت کسی طرح کی محتاجی نہ ہو، توکیا ایسا کرنا بخل میں آئے گا، جبکہ میں گھروالوں پر خرچہ کرتا رہتا ہوں، ضرورت مند کو قرض بھی دیتا ہوں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ اہل و عیال کا ضروری نفقہ (ضروری اخراجات) پورا کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ جہاں خرچ کرنا، شریعت اور مروت کے اعتبار سے ضروری ہے، وہاں بھی خرچ کرتے ہیں، تو آپ بخیل نہیں ہیں، اور ضروری اخراجات کرنے کے بعد مستقبل میں کسی پیش آمدہ ضرورت کے لیے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لینے میں حرج نہیں۔

قرآن کریم میں ہے ﴿وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں، تونہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔ (پ 19، سورۃ الفرقان، آیت 67)

مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خازن میں ہے "والإقتار منع حقوق اللہ تعالى وهو قول ابن عباس۔۔۔ والإقتار التقصير عما لا بد منه وهو أن لا يجيع عياله ولا يعريهم" ترجمہ: اور کمی کرنے سے مراد اللہ تعالی کے حقوق کو روکنا ہے، اور یہی ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ اور کمی کرنے سے مراد ضروری اشیا میں کوتاہی برتنا ہے، یعنی آدمی اپنے اہل و عیال کو نہ بھوکا رکھے اور نہ انہیں بے لباس کرے۔ (تفسیر خازن، جلد 3، صفحہ 318، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

تفسیر صراط الجنان میں ہے ”تنگی کرنے کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کے مقرر کئے ہوئے حقوق ادا کرنے میں کمی کرے۔ مروی ہے کہ جس نے کسی حق کو منع کیا اُس نے اِقتار یعنی تنگی کی اور جس نے ناحق میں خرچ کیا اس نے اسراف کیا۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 56، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امام غزالی رحمہ اللہ تعالی بخل کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "بخیل وہ ہے جو اس مقام پر خرچ کرنے سے باز رہے جہاں خرچ کرنا شریعت اور مروت کے اعتبار سے لازمی ہو اور اس کی کوئی مقدار معین کرنا ممکن نہیں۔ بخل کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کسی ایسے مقصد کے لئے مال خرچ نہ کرنا جو مال کی حفاظت سے زیادہ اہم ہو جیسے دین کی حفاظت، مال کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے، لہٰذا زکوٰۃ اور اہل وعِیال کا نفقہ روکنے والا بخیل ہے۔ اسی طرح مروت کی حفاظت مال کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے تو جو شخص معمولی چیزوں میں ان لوگوں کے ساتھ تنگی اختیار کرے جن کے ساتھ ایسا سلوک مناسِب نہیں ہے تو وہ مال کی محبت میں بے مروتی اختیار کرنے والا ہے اوربخیل ہے۔" (احیاء العلوم مترجم، جلد 3، صفحہ 781، 782، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5349

تاریخ اجراء: 17 ربیع الاول 1448ھ/31 اگست 2026ء