logo logo
AI Search

صحابہ کرام کے نام پر کنیت رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نام پر کنیت رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا ہم صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نام پر کنیت رکھ سکتے ہیں؟

جواب

جی ہاں! صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ناموں سے برکت و تبرک لینے کی نیت سے ان کے ناموں پر کنیت رکھنا جائز ہے۔

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے: ”كان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يعجبه أن يدعو الرجل بأحب أسمائه إليه و أحب كناه“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ کسی بھی شخص کو اس کے پسندیدہ نام اور محبوب کنیت سے پکارا جائے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 04، صفحہ 13، رقم الحدیث 3499، مطبوعہ: قاھرہ)

بہار شریعت میں ہے بچہ کی کنیت ابوبکر، ابوتراب، ابوالحسن، وغیرہ رکھنا جائز ہے، ان کنیتوں سے تبرک مقصود ہوتا ہے کہ ان حضرات کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ (بہار شریعت، حصہ 16، صفحہ 603، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4961
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1447ھ / 15 اپریل 2026ء