logo logo
AI Search

بلّی کا نام ہُریرہ رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بلی کا نام ہریرہ رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس بارے میں کہ بلی کا نام ہریرہ رکھنا کیسا جبکہ ابو ہریرہ، تو صحابی رسول کا نام ہے؟ اِس میں کوئی بے ادبی تو نہیں ہے؟

جواب

ہریرہ عربی زبان میں ہرۃ کی تصغیر ہے، اِس کا مطلب ہے چھوٹی بلی۔ جس طرح انگلش میں بلی کو Cat کہتے ہیں، اِسی طرح عربی میں بلی کو ہرۃ کہتے ہیں، اور چھوٹی بلی کو ہریرہ کہتے ہیں، لہذا بلی کو ہریرہ کہہ کر پکارنے میں کوئی حرج و بے ادبی نہیں ہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت کی وجہ بھی یہی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو بلی بڑی پیاری تھی، ایک مرتبہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے آپ کی آستین میں ایک بلّی کو دیکھا، تو آپ کو یوں پکارا یا ابا ہریرۃ یعنی اے بلی والے، تو اُس دن سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ ابو ہریرہ کی کنیت سے ہی لوگوں میں مشہور و معروف ہو گئے، ورنہ زمانہ اسلام میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام اصح قول کے مطابق عبد الرحمن بن صخر ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

كنت أحمل يوما هرة في كمي، فرآني رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال: (ما هذه؟): فقلت: هرة، فقال: (يا أبا هريرة)

ترجمہ: میں نے ایک دن اپنی آستین میں بلی کو اٹھایا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے دیکھا اور فرمایا: یہ کیا ہے، تو میں نے عرض کیا: بلی ہے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

یا ابا ھریرۃ

(یعنی اے بلی والے)۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 1، صفحہ 69، مطبوعہ: بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے

قال الحاكم أبو أحمد: أصح شيء عندنا في اسم أبي هريرة عبد الرحمن بن صخر، و غلبت عليه كنيته فهو كمن لا اسم له

ترجمہ: حاکم ابو احمد نے فرمایا: ہمارے نزدیک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان کا نام عبد الرحمٰن بن صخر تھا، اور ان کی کنیت ہی اتنی مشہور ہو گئی کہ گویا ان کا کوئی نام ہی نہ رہا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 1، صفحہ 69، مطبوعہ: بیروت)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق مراۃ المناجیح میں ہے آپ کا نام کفر میں عبد الشمس اور اسلام میں عبد الرحمن بن صخر دوسی ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ28، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

القاموس الوحید میں ہے الھر: نر بلی۔۔۔ مادہ: الھرۃ۔۔۔ تصغیر: ھریرۃ (القاموس الوحید، صفحہ 1757، مطبوعہ: کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4661
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم 1447ھ / 23 جنوری 2026ء