logo logo
AI Search

بچے کو قبلہ رخ پیر کر کے سلانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نابالغ بچہ یا بچی کو قبلہ رخ پیر کر کے سلانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

کعبہ معظمہ دینِ اسلام میں انتہائی عزت و اہمیت کا حامل ہے، اسے شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) میں شمار کیا جاتا ہے، اس کی تعظیم کرنا اور ادب بجا لانا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، اس کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی جانب پاؤں نہ پھیلائے جائیں، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے فرمایا (بغیر عذرِ صحیح) قبلہ شریف کی طرف پاؤں پھیلانا، ممنوع و مکروہ ہے کہ اس میں قبلہ شریف کی بےادبی ہے لہٰذا نابالغ بچے کو بھی اس طرح نہیں لٹا سکتے ہیں کہ اس کے پاؤں قبلہ رُو ہوں۔

اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ﴾ ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے، تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 32)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: کرہ (مد رجلیہ فی نوم او غیرہ الیھا) ای عمدالانہ اساءۃ ادب“ ترجمہ:جان بوجھ کر قبلہ کی طرف پاؤں کر کے سونا یا اس کے علاوہ جان بوجھ کر قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا، مکروہ ہے، کیونکہ اس میں قبلہ کی بے ادبی ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر، جلد 2، صفحہ 515 تا 516، مطبوعہ پشاور)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: کعبہ معظّمہ کی طرف پاؤں کر کے سونا، بلکہ اُس طرف پاؤں پھیلانا، سونے میں ہو خواہ جاگنے میں، لیٹے ہو خواہ بیٹھے میں، ہر طرح ممنوع و بے ادبی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 385، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2560
تاریخ اجراء: 23 ربیع الآخر 1447ھ / 17 اکتوبر 2025ء