logo logo
AI Search

پاؤں کے ناخن چالیس دن میں کاٹنا ضروری ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

پاؤں کے ناخن بھی چالیس دن سے زیادہ نہ کاٹنا گناہ ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

چالیس دن سے زائد ناخن بڑھانا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، اس حکم میں ہاتھ اور پاؤں دونوں کے ناخن شامل ہیں، کیونکہ حدیث پاک میں ناخنوں کا ذکر مطلق (یعنی ہاتھ یا پاؤں کی قید کے بغیر) ہے اور مطلق لفظ میں جب تک کسی دلیلِ شرعی سے تخصیص نہ ہو، اسے از خود کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے جس حدیث پاک میں ناخن کاٹنے کو فطرت کے کاموں میں شمار کیا گیا ہے، اس کے تحت محدثین نے فرمایا کہ اس اطلاق و عموم میں ہاتھ اور پاؤں دونوں کے ناخن شامل ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں ہاتھوں کی طرح پاؤں کے ناخن بھی چالیس دن سے زائد بڑھانا، ناجائز و گناہ ہے۔ البتہ پاؤں کے ناخن دیر سے بڑھتے ہوں، تو یہ رخصت ہے کہ انہیں پندرہ یا بیس دن بعد یا پھر چالیس دن مکمل ہونے سے پہلے کاٹ لیا جائے، لیکن چالیس دن سے زائد چھوڑے رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔

صحیح مسلم شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں: وقت لنا فی قص الشارب و تقلیم الاظفار و نتف الابط و حلق العانة، ان لا نترک اکثر من اربعین لیلة“ ترجمہ: ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن کترنے، (موئے) بغل اکھیڑنے اور زیر ناف کے بال مونڈھنے کے متعلق وقت یہ مقرر کیا گیا، کہ ہم چالیس شب سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ (صحیح المسلم، کتاب الطھارت، باب خصال الفطرة، جلد 1، صفحہ 129، مطبوعہ کراچی)

در مختار پھر رد المحتار میں ہے: و کرہ ترکہ وراءالاربعین، ای تحریما لقول المجتبی: و لا عذر فیما وراءالاربعین و یستحق الوعید“ ترجمہ: ( ناخن وغیرہ) چالیس دن سے زائد چھوڑنا مکروہ ہے، یعنی مکروہ تحریمی ہے، مجتبی کے اس قول کی بناءپر کہ چالیس دن سے زائد چھوڑے رکھنے میں کوئی عذر نہیں اور وعید کا مستحق ہوگا۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع، جلد 9، صفحہ 670، مطبوعہ پشاور)

فتاوی رضویہ میں ہے: چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں، بعد چالیس روز کے گنہگار ہوں گے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 678، رضا فاونڈیشن، لاہور)

حدیث پاک میں ناخن کا ذکر مطلق ہے اور مطلق کو بغیر دلیلِ شرعی مقید نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ان الاصل في اللفظ المطلق ان يجري على اطلاقه ولا يجوز تقييده الا بدليل‘‘ ترجمہ: مطلق لفظ میں اصل یہ ہے کہ اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور بغیر کسی دلیل کے اسے مقید کرنا، جائز نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوکالۃ، جلد 6، صفحہ 27، مطبوعہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: اورشک نہیں کہ عام و مطلق ضرور اپنے عموم و اطلاق پر رہیں گے، جب تک دلیلِ صحیح سے تخصیص و تقیید نہ ثابت ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 74، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اسی لئے محدثین نے اظفار (ناخنوں) کے عموم میں ہاتھ اور پاؤں دونوں کے ناخنوں شامل ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:الفطرة خمس: الختان و الاستحداد وقص الشارب و تقليم الاظفار ونتف الآباط‘‘ ترجمہ: پانچ چیزیں فطرت (یعنی انبیائے کرام کی سنت) سے ہیں: ختنہ کرنا، موئے زیر ناف مونڈنا، مونچھیں پست کرنا، ناخن کاٹنا اور بغلوں کے بال اکھیڑنا۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، جلد 2، صفحہ 875، مطبوعہ کراچی)

تقلیم الاظفار کے تحت ارشاد الساری میں ہے: و انما جمع الاظفار و وحد السابق، لانها متعددة في اليدين و الرجلين‘‘ ترجمہ: یہاں ناخن کی جمع اظفار اور پہلے والی چیزوں کے لئے واحد کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن متعدد ہوتے ہیں۔ (ارشاد الساری شرح صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، جلد 8، صفحہ 463، مطبوعہ مصر)

یونہی فیض القدیر میں ہے: و شمل العموم اصابع اليدين و الرجلين‘‘ ترجمہ: (ناخنوں کے ذکر میں عموم ہے) اور یہ عموم دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کو شامل ہے۔ (فیض القدیر، جلد 3، صفحہ 455، مطبوعہ مصر)

اگر پاؤں کے ناخن دیر سے بڑھتے ہوں، تو انہیں کاٹنے میں تاخیر کی جا سکتی ہے لیکن چالیس دن تک، اس سے زیادہ بڑھانا، ناجائز ہے۔ جیسے موئے بغل وزیر ناف کا معاملہ ہے۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے: في شرح السنة عن ابي عبد اللہ الاغر: ان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم كان يقص شاربه وياخذ من اظفاره في كل جمعة ومفهومه ان حلق العانة و نتف الابط كان يؤخرهما و هو الظاهر لعدم اطالتهما في اسبوع، قال ابن الملك: و قد جاء في بعض الروايات، عن ابن عمر:ان النبي صلى اللہ عليه وسلم كان ياخذ اظفاره و يحفي شاربه في كل جمعة ويحلق العانة في عشرين يوما و ينتف الابط في كل اربعين يوما و في القنية: الافضل ان يقلم اظفاره و يحفي شاربه و يحلق عانته و ينظف بدنه بالاغتسال في كل اسبوع مرة، فان لم يفعل ذلك ففي كل خمسة عشر يوما و لا عذر في تركه و راء الاربعين

 ترجمہ: شرح السنہ میں حضرت ابو عبد اللہ الاغر (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کو مونچھیں پست کرتے اور ناخن کاٹتے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ موئے زیرِ بغل و ناف کو مؤخر کرتے، اور ظاہر ہے ان کے ایک ہفتے میں طویل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا فرماتے۔ (بلکہ) ابن الملک فرماتے ہیں کہ بعض روایات میں اس کا ذکر موجود ہے، (چنانچہ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہر جمعہ کو ناخن کاٹتے اور مونچھیں پست کرتے، بیس دن میں موئے زیر ناف مونڈتے اور ہر چالیس دن میں موئے بغل کاٹتے، اور قنیہ میں ہے: بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتے میں ایک بار ناخن کاٹنے، مونچھیں پست کرنے، موئے زیر ناف مونڈتے اور غسل کے ذریعے بدن کی صفائی حاصل کی جائے، اگر ہر ہفتے نہ کریں، تو ہر پندرہ دن بعد کرے، لیکن چالیس دن کے بعد چھوڑنے میں کوئی عذر (قبول) نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب اللباس، جلد 7، صفحہ 2816، مطبوعہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Pin-6858
تاریخ اجراء: 21 ربیع الثانی 1443ھ / 27 نومبر 2021ء