منگنی توڑنا اور پھر جرمانہ لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
منگنی توڑنا اور اس پر جرمانہ لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
(1) جب لڑکا و لڑکی کی آپس میں منگنی کر دی جائے، تو فریقین میں سے کسی ایک کا منگنی توڑ دینا شرعاً کیسا ہے اور کیا منگنی توڑنے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا؟
(2) فریقین میں سے کسی نے منگنی توڑ دی، تو اس پر مالی جرمانہ ڈالنا کیسا ہے؟
جواب
منگنی (یعنی یہ بات پکی کرنا کہ فلاں کی شادی فلاں سے کی جائے گی، اس) کی شرعی حیثیت وعدہ کی ہوتی ہے اور منگنی کر کے توڑ دینا وعدہ خلافی ہے، لیکن اس کی مندرجہ ذیل تین صورتیں بنتی ہیں:
(۱) اگر منگنی توڑنے والوں کا منگنی (نکاح کا وعدہ) کرتے وقت ہی یہ ارادہ تھا کہ اسے پورا نہیں کریں گے، تو بغیر عذرِ شرعی اس نیت سے وعدہ کرنا حرام اور گناہ ہے اور ایسے وعدہ کی خلاف ورزی کو ہی منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے ( لیکن منگنی وغیرہ کے معاملات میں یہ صورت ہونا مشکل ہے)۔
(۲) اگر وعدہ سچے دل سے کیا تھا، پھر کوئی معقول عذر پیدا ہوا، جس کی پاسداری وعدہ پورا کرنے کے مقابلے میں ترجیح رکھتی ہو، جیسے دوسرے فریق کے متعلق کردار کی خرابیاں سامنے آجائیں، تو ایسے عذر و مصلحت کی بناء پر منگنی توڑ دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
(۳) اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہ ہو،تو بلا وجہ منگنی توڑ دینا مکروہ تنزیہی و خلافِ مروت ہے، چاہئے کہ حتی الامکان اس وعدہ کو پورا کیا جائے تاکہ بلاوجہ طعن و تشنیع، غیبتوں اور دیگر مفاسد کا دروازہ نہ کھلے، ورنہ فریقِ ثانی کو اعتماد میں لے کر راضی کر لیا جائے، اگر وہ بخوشی اجازت دیدیں، تو کراہت بھی باقی نہ رہے گی اور مفاسد کا دروزاہ بھی بند ہو جائے گا۔
اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ- اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو، بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت 34)
وعدے کی خلاف ورزی علاماتِ نفاق میں سے ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: آیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب و اذا وعد اخلف و اذا اؤتمن خان‘‘ ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے، تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرے، تو توڑ دے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے، تو خیانت کرے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، جلد 1، صفحہ 16، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)
اس کی مزید وضاحت دوسری حدیث پاک میں کچھ یوں ہے: المنافق الذی اذا حدث و ھو نفسہ انہ یکذب و اذا وعد و ھو یحدث نفسہ انہ یخلف و اذا اؤتمن و ھو یحدث نفسہ انہ یخون‘‘ ترجمہ: منافق وہ ہے جب بات کرے، تو جانتا ہو کہ جھوٹ بول رہا ہے اور جب وعدہ کرے، تو جانتا ہو کہ اس کی خلاف ورزی کرے گا اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے، تو جانتا ہو کہ وہ خیانت کرے گا۔ (مسند بزار، جلد 6، صفحہ 504، مطبوعہ مدینہ منورہ)
کنز العمال میں ہے: لیس الخلف ان یعد الرجل و من نیتہ ان یفی و لکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لا یفی‘‘ ترجمہ: وعدے کی خلاف ورزی یہ نہیں کہ کوئی بندہ وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو، بلکہ خلاف ورزی یہ ہے کہ بندہ وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا نہیں کرے گا۔ (کنز العمال، جلد 3، صفحہ 347، مطبوعہ بیروت)
عمدۃ القاری میں ہے: (اذا وعد اخلف) نبه على فساد النية، لان خلف الوعد لا يقدح الا إذا عزم عليه مقارنا بوعده، اما اذا كان عازما ثم عرض له مانع او بدا له راي فهذا لم توجد فيه صفة النفاق، ۔ ۔ ۔ و قال العلماء: يستحب الوفاء بالوعد بالهبة وغيرها استحبابا مؤكدا و يكره إخلافه كراهة تنزيه لا تحريم‘‘ ترجمہ: (جب وعدہ کرے، تو خلاف ورزی کرتا ہے) یہ فسادِ نیت پر تنبیہ فرمائی ہے، کیونکہ وعدے کی خلاف ورزی اسی صور ت میں معیوب ہے، جب توڑنے کا ارادہ وعدہ کرنے کے ساتھ ملا ہوا ہو، بہر حال جب اسے پورا کرنے کا ارادہ ہے، پھر کوئی مانع در پیش ہوا یا دوسری رائے ظاہر ہوئی، تو اس صورت میں نفاق والی صفت نہیں پائی جائے گی، اور علماء فرماتے ہیں: تحفہ دینے کا یا اس کے علاوہ کوئی وعدہ پورا کرنا مستحب ہے اور اس کی تاکید بھی ہے اور اسے توڑ دینا مکروہ تنزیہی ہے، تحریمی نہیں۔ (عمدۃ القاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ منگنی کی شرعی حیثیت اور اسے توڑنے کے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نسبت(منگنی) صرف ایک اقرارو وعدہ ہے اور ایک جگہ نسبت کر کے چھڑا لینا خلف وعدہ، جس کی تین صورتیں ہیں: اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے، تو بے ضرورت شرعی وحالت مجبوری سخت گناہ و حرام ہے، ایسے ہی خلاف وعدہ کو حدیث میں علامات نفاق سے شمار کیا ۔ ۔ اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا، پھر کوئی عذرِ مقبول و سببِ معقول پیدا ہوا، تو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنیٰ کراہت بھی نہیں، جبکہ اس عذرو مصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی و فضیلت پر ترجیح ہو، خصوصاً امرِ نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازک معاملہ ہے، خصوصاً بے چاری شریف زادیوں کے لیے، خصوصاً بلاد ہندوستان میں۔ پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج و نقصان ظاہر ہو، نسبت چھڑا لی جائے، ورنہ اپنی زبان پالنے کے لیے ایک بیکس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنسانا ہو گا،۔ ۔ لڑکی والوں کو تو لحاظِ مصالح و احترازِ مفاسد زیادہ اہم ہے، لڑکے والے بھی اگر ترک میں مصلحت سمجھیں، ترک کر دیں، ۔۔اور اگر کوئی عذر و مصلحت نہیں بلا وجہ نسبت چھڑا ئی جاتی ہے تو یہ صورت مکروہ تنزیہی ہے، ۔ ۔ یہ بات اس تقدیر پر بے جا وخلاف مروت ہے مگر حرام و گناہ نہیں، ۔ ۔ اس صورت میں یہ کراہت جب ہی دفع ہو گی کہ پہلے جہاں نسبت کی تھی، وہ بخوشی اجازت دیدیں۔ (ملتقطاً از فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 281 تا 283، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
(2) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں منگنی توڑنا گناہ ہے، البتہ بعض صورتوں میں گناہ بھی نہیں، لیکن بہر حال منگنی توڑنے پر مالی جرمانہ کرنا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ ہے، کیونکہ مالی جرمانہ اسلام میں منسوخ ہو چکا ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے، نیز یہ دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے کے مترادف ہے، جس کی مذمت قرآن کریم میں واضح طور پر موجود ہے۔ لہذا منگنی توڑنے میں بالفرض گناہ والی صورت بھی ہو، تو اس کا وبال انہی پر ہو گا، شریعت مطہرہ کی طرف سے کسی فرد کو دوسر ے کی شرعی یا معاشرتی غلطی پر مالی جرمانہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے کے متعلق اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاؤ، اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھا لو جان بوجھ کر۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 188)
اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے: الخطاب بھذہ الایۃ یتضمن جمیع امۃ محمد صلی اللہ علیہ و سلم، و المعنی: لا یاکل بعضکم مال اخیہ بغیر حق، فیدخل فی ھذا: القمار و الخداع و الغصوب و جحد الحقوق و ما لا تطیب بہ نفس مالکہ او حرمتہ الشریعۃ و ان طابت بہ نفس مالکہ کمھر البغی و حلوان الکاھن و اثمان الخمور و الخنازیر و غیر ذلک‘‘ ترجمہ: اس آیت میں خطاب سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام امت کو شامل ہے، اور معنی یہ ہے کہ: تم میں سے کوئی بھی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے، اس عموم میں جوا، دھوکہ دہی، غصب، حقوق کی انکاری، جس چیز کے دینے پر مالک راضی نہ ہو اور جس کی حرمت شریعت سے ثابت ہو، اگرچہ مالک دینے پر راضی ہو، جیسے غلط عورت کی کمائی، کاہن کا نذرانہ اور خنزیر وشرابوں کی قیمتیں وغیرہ سب داخل ہیں۔ (تفسیر قرطبی، جلد 2، صفحہ 338، مطبوعہ قاھرہ)
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا یحل لامرء ان یاخذ مال اخیہ بغیر حقہ وذلک لما حرم اللہ مال المسلم علی المسلم‘‘ ترجمہ: مرد کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال کھائے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام فرمایا۔ (مسند امام احمد بن حنبل، جلد 39، صفحہ 19، مطبوعہ بیروت)
مالی جرمانہ منسوخ ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کان فی صدر الاسلام تقع العقوبات فی الاموال ثم نسخ‘‘ ترجمہ: شروع اسلام میں مالی سزائیں دی جاتی تھیں، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ (شرح نسائی شریف، کتاب الزکوٰۃ، عقوبۃ مانع الزکوٰۃ، جلد 5، صفحہ 17، مطبوعہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے:ان المذھب عدم التعزیر باخذ المال‘‘ ترجمہ: صحیح مذہب کے مطابق مالی جرمانہ جائز نہیں۔ (البحر الرائق، کتاب الحدود، باب حد القذف، فصل فی التعزیر، جلد 5، صفحہ 68، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطا کے عوض لے لیا جائے، منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 13، صفحہ 505، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
نوٹ: یہاں مالی جرمانے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ منگنی ٹوٹ جانے پر فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کو دئیے گئے تحائف وغیرہ کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے، تو ان چیزوں کی واپسی ہونے نہ ہونے کی تفصیل جدا ہے، اگر ان تحائف وغیرہ کے متعلق تفصیل جاننی ہو، تو اپنے علاقے و برادری کا عرف و رواج اور متعلقہ وضاحت دیکر جداگانہ فتوی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6885
تاریخ اجراء: 09 جمادی الثانی 1443ھ/ 13 جنوری 2022ء