logo logo
AI Search

شادی کی رسموں میں دانے پھینکنا اور قرآن رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دولہن کے دانے پھینکنے اور اس کے سر پر قرآن رکھنے کی رسم کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اسلام میں شادی کے رسم و رواج کی کیا حیثیت ہے؟۔ اکثر شادیوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جب دلہن کو رخصت کیا جا رہا ہوتا ہے تو دلہن دروازے میں کھڑی ہو کے ہاتھ میں مکئی کے دانے لیتی ہے اور دروازے سے نکلتے نکلتے دانے تین بار پیچھے پھینکتی ہے اور اس کے سر پر قرآن بھی رکھا جاتا ہے۔ ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب

رسم و رواج خواہ شادی بیاہ کے ہوں یا بچے کی پیدائش کے موقع پر ہوں یا کسی دیگر موقع سے متعلقہ ہوں، بہرحال رسم ورواج کے متعلق اصول یہ ہے کہ وہ رسم ورواج جو شریعت کے مخالف ہوں،وہ شرعاً جائز نہیں، ان کی پیروی حرام ہے، لہذا ان سے بچنا لازم ہے۔ اور وہ رسم و رواج کہ جو شرعاً ناجائز و حرام نہ ہوں تو وہ شرعاً جائز و مباح ہیں۔ اُن رسم و رواج کی پیروی کرنا بھی اگرچہ لازم نہیں لیکن اگر کوئی پیروی کرلے تو شرعاً حرج بھی نہیں۔

اب سوال میں مذکور دو رسموں کے حوالے سے حکم بیان کیا جارہا ہے:

(1) رخصتی کے وقت دلہن کا مکئی یا چاول کے دانے پھینکنا: اس رسم میں دلہن رخصتی کے وقت مکئی یا چاول اٹھاتی اور پیچھے کی جانب پھینکتے ہوئے آگے چلتی ہے۔ یوں یہ دانے زمین پر گرتے، پاؤں میں آتے، روندے جاتے اور آخر کار ضائع ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں رزق کی بے حرمتی اور بلا وجہ شرعی مال کو ضائع کرنا بھی ہے جو کہ ناجائز و گناہ ہے، لہذا شرعی اعتبار سے یہ ایک فضول اور ناجائز رسم ہے، اس سے بچنا لازم و ضروری ہے۔

(2) قرآن کے سائے میں دلہن کی رخصتی: رخصت کرتے وقت دلہن کے سر پر قرآن پاک رکھنا شرعاً جائز ہے، بلکہ اس سے مقصد برکت حاصل کرنا ہوتا ہے تو اس نیت سے یہ باعث ثواب بھی ہوگا۔ البتہ یہ خیال رکھا جائے کہ گانے باجے، آتش بازی اور دیگر خلاف شرع کام کرنا اولاً تو ویسے ہی جائز نہیں چاہے قرآن پاک ساتھ ہو یا نہ ہو، مگر قرآن پاک کی موجودگی میں اس کی عظمت واہمیت کے پیش نظر خاص طور پر گناہوں بھرے کاموں سے بچنا ضروری ہے۔ دوسرا یہ عمل برکت کے بھی خلاف ہے کہ ایک طرف قرآن مجید سے برکت لینے کا ارادہ ہے اور دوسری طرف اسی قرآن کے احکام کی خلاف ورزی بھی ساتھ ساتھ ہورہی ہے تو برکت کیسے حاصل ہوگی؟۔ مزید یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ اگر قرآنِ پاک جُزدان میں نہ ہو تو اُسے باوضو شخص ہی پکڑے، کیونکہ بغیر وضو قرآنِ مجید کو چھونا جائز نہیں۔ ہاں جُزدان یا باکس وغیرہ میں ہو تو بے وضو شخص بھی پکڑسکتا ہے۔

رسم و رواج کہ جو خلاف شرع نہ ہوں اس پرعمل کرنے میں شرعاً حرج نہیں، چنانچہ حجۃ الاسلام امام محمد بن محمدغزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء علوم الدین میں فرماتے ہیں:

و لكل قوم رسم ولا بد من مخالقة الناس بأخلاقهم كما ورد فی الخبر لا سيما إذا كانت أخلاقاً فيها حسن العشرة والمجاملة وتطييب القلب بالمساعدة وقول القائل ان ذلك بدعة لم يكن فی الصحابة فليس كل ما يحكم باباحته منقولاً عن الصحابة رضی الله عنهم و إنما المحذور ارتكاب بدعة تراغم سنة مأثورة۔۔۔ و كذلك سائر أنواع المساعدات إذا قصد بها تطييب القلب واصطلح عليها جماعة فلا بأس بمساعدتهم عليها بل الأحسن المساعدة الا فيما ورد فيه نهی لا يقبل التأويل

ترجمہ: ہر قوم کی ایک رسم ہوتی ہے، لوگوں کے افعال کی موافقت لازمی ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا، خصوصا جبکہ ایسے افعال ہوں کہ اس میں حسنِ معاشرت وحسن سلوک ہو اور ان کی موافقت میں دل کو خوش کرنا پایا جائے۔ اور کسی کا یہ کہنا کہ یہ بدعت ہے کہ صحابہ کرام میں ایساعمل نہیں تھا تواس کا جواب یہ ہے کہ بہت سارے ایسے مباح و جائز کام ہیں جو صحابہ سے منقول نہیں ہیں۔ ناجائز ایسی بدعت ہے جو سنت ماثورہ کے خلاف ہو۔۔۔ اسی طرح تمام افعال میں موافقت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ موافقت کرنا بہترین ہے، جو افعال لوگوں کی عادت میں شامل ہوچکے ہوں، جبکہ اس سے مقصود دل کو خوش کرنا ہو، سوائے ان افعال کے جن میں ایسی نہی وارد ہوئی ہو جس میں تاویل نہ ہوسکتی ہو۔ (احیاء علوم الدین، جلد 2، صفحہ 305، دار المعرفۃ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور رسوم دنیویہ سے ا یک رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں، نہ شرع میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، تو مثل اور تمام عادات ورسوم مباحہ کے مباح رہے گا۔ شرع شریف کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا ورسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برافرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے، نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل وترک میں ثواب نہ عقاب، یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 319، 320، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جائز رسموں اور کاموں میں کسی غیر شرعی کام کے ارتکاب کے بغیر لوگوں کی موافقت کرلینی چاہئے، جیسا کہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:  ائمہ دین ارشاد فرماتے ہیں لوگوں میں جو امررائج ہو جب تک اس سے صریح نہی ثابت نہ ہو ہر گز اس میں اختلاف نہ کیا جائے، بلکہ انھیں کی عادات واخلاق کے ساتھ ان سے برتاؤ چاہئے۔ شریعت مطہرہ سنی مسلمانوں میں میل پسند فرماتی ہے اور ان کو بھڑ کانا، نفرت دلانا، اپنا مخالف بنانا، ناجائز رکھتی ہے۔ بے ضرورت تامہ لوگوں کی راہ سے الگ چلنا سخت احمق جاہل کا کام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 310، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: علمائے محققین مسلمان کا دل رکھنے کو رعایتِ آداب اور ترک مکروہات پر بھی مقدم جانتے اور ان کے رسوم و عادات میں مخالفت کو مکروہ و باعث شہرت مانتے ہیں، ولہذا تصریح فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی نہی صریح، غیرقابلِ تاویل نہ آئی ہو، عادات اناس میں موافقت ہی کرکے ان کا دل خوش کیا چاہیے اگرچہ وہ فعل بدعت (قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت نہ) ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 636، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسراف سے بچنے کے بارے میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے

وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ

ترجمہ کنز الایمان: اور بے جا نہ خرچوبے شک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔ (پارہ 8، سورۃ الانعام: 141)

صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نےارشاد فرمایا:

إن اللہ كره لكم ثلاثا: قيل وقال، و إضاعة المال و كثرة السؤال

ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرماتا ہے: فضول باتیں، مال ضائع کرنا اور سوالات کی کثرت۔ (صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 537، رقم الحدیث: 1477، مطبوعہ دمشق)

فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے ایک شخص کےمتعلق سوال ہوا کہ جس نے بکری کی کلیجی کو قبر میں دفن کردیا، تو آپ علیہ الرحمۃ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: کلیجی دفن کرنامال ضائع کرنا ہے اور اضاعتِ مال ناجائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 455، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

خیر و برکت کی نیت سے قرآن پاک کے سائے میں دلہن کی رخصتی کرنا شرعاً جائز بلکہ باعث ثواب ہے، جیسا کہ خیر وبرکت سے نیت گھر میں قرآن پاک رکھنے پر امیدِ ثواب ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

رجل أمسك المصحف في بيته، و لا يقرأ قالوا: إن نوى به الخير و البركة لا يأثم بل يرجى له الثواب، كذا في فتاوى قاضي خان

ترجمہ: کوئی شخص جو اپنے گھر میں قرآن پاک رکھے ہوئے ہو اور اسے پڑھتا نہ ہو، تو فقہائے کرام نےارشاد فرمایا کہ اگر اس نے قرآن پاک رکھنے سے (گھر میں) خیر و برکت کا ارادہ کیا ہو تو وہ گناہگار نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے ثواب کی امید ہے۔ یونہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 5، صفحہ 322،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-988
تاریخ اجراء: 03 جمادی الاخری1447ھ / 25 نومبر 2025ء