لڑکا بارہ سال اور لڑکی نو سال سے پہلے بالغ ہو سکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا لڑکا بارہ سال سے پہلے اور لڑکی نو سال سے پہلے بالغ ہو سکتی ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ احناف کے نزدیک لڑکے یا لڑکی کے بالغ ہونے کی ابتدائی عمر کیا ہے؟ اگر کوئی لڑکا بارہ سال سے پہلے یا لڑکی نو سال سے پہلے بالغ ہونے کا دعوی کرے تو کیا ان کی بات مانی جائے گی؟
جواب
احناف کے نزدیک لڑکے کے بالغ ہونے کی ابتدائی عمر قمری اعتبار سے بارہ سال ہے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی ابتدائی عمر نو سال ہے۔ اس سے پہلے بلوغت کے آثار ظاہر ہونا، ممکن نہیں ہے۔ اگر کوئی دعوی کرتا ہے تو اس کا یہ دعوی جھوٹا شمار ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں لڑکے کا بارہ سال سے پہلے اور لڑکی کا نو سال سے پہلے بلوغت کا کیا جانے والا دعوی قابل قبول نہیں ہو گا۔
درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام میں ہے: ”(مبدأ سنّ البلوغ في الرجل اثنتا عشرة سنةً، وفي المرأة تسع سنوات، ومنتهاه في كليهما خمس عشرة سنةً۔۔۔۔۔إن أقل سنّ يمكن أن يحتلم فيها الذكور ويبلغوا هي اثنتا عشرة سنةً، والإناث تسع سنوات، و منتهى السن في الاثنين خمس عشرة سنةً عند الإمامين، وعليه فمتى أتم الذكر الثانية عشرة من عمره يمكن أن تظهر عليه آثار البلوغ المذكورة في المادة الآنفة؛ لأنه قد شوهدت علامة البلوغ في هذه السن، ولقد كان عبد الله بن عمرو بن العاص أصغر من أبيه باثنتي عشرة سنةً فقط، كذلك يمكن أن تظهر آثار البلوغ على الأنثى متى اكتملت السنة التاسعة من عمرها؛ لأن البنت أسرع بلوغًا من الغلام ... الصغير الذي لم يدرك مبدأ سن البلوغ إذا ادعى البلوغ لايقبل منه )...مثلًا لو قال غلام لم يكمل الثانية عشرة: إنه بالغ، فلايقبل ذلك منه، كما أنه لايقبل قول بنت لم تتم التاسعة: بأنها بالغة، كما لو كانت في الخامسة من عمرها، ولو جاءها الدم لايعتبر حيضًا، ( الطحطاوي) ؛ لأن ظاهر الحال يكذبها، وفي هذه الصورة لاتجوز معاملاتهما كالبيع والشراء والقسمة“
ترجمہ: مرد کے بالغ ہونے کی ابتدا بارہ سال ہے اور عورت کی بلوغت کی عمر کی ابتدا نو سال ہے۔ دونوں کے بالغ ہونے کی انتہائی عمر پندرہ سال ہے۔ بالغ ہونے کی کم از کم عمر کہ جس میں مردوں کو احتلام ہونا ممکن ہے وہ بارہ سال ہے اور عورتوں میں نو سال ہے۔ جبکہ دونوں کے بالغ ہونے کی انتہائی عمر صاحبین کے نزدیک پندرہ سال ہے۔ اسی پر فتوی ہے۔ لہذا جب مرد کی عمر بارہ سال کی ہو جائے تو آنے والے قاعدے کے مطابق اس میں بلوغت کے آثار ظاہر ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ اس عمر میں بلوغت کی علامت پر شاہد موجود ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے صرف بارہ سال چھوٹے تھے۔ اسی طرح عورتوں کے عمر کا نواں سال پورا ہوتے ہی بلوغت کے آثار ظاہر ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ لڑکی بچے کے مقابلہ میں جلد ی بالغ ہو جاتی ہے۔ ایسا چھوٹا بچہ کہ جو بلوغت کی ابتدائی عمر تک نہیں پہنچا، وہ اگر بالغ ہونے کا دعوی کرتا ہے تو اس کا دعوی قبول نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر بارہ سال سے کم عمر لڑکا کہتا ہے وہ بالغ ہو چکا ہے تو اس کا یہ قول نہیں مانا جائے گا۔ جس طرح کہ اس لڑکی کا بالغ ہونے کا قول نہیں مانا جاتا جو ابھی تک مکمل نو سال کی نہ ہوئی ہو۔ جیسے کہ پانچ سال کی عمر والی لڑکی کو جب خون آئے تو وہ حیض شمار نہیں ہوگا۔(طحطاوی) کیونکہ ظاہر حال اس لڑکی کی تکذیب کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں ان دونوں کے معاملات جیسے بیع، شرا، اور قسمت وغیرہ درست نہیں ہیں۔ ملتقطا از (دررالحکام شرح مجلة الأحکام، ج2، ص 633، 634، دارالکتب العلمیة، بیروت)
البحر الرائق میں ہے: "قال رحمه اللہ: (وأدنى المدة في حقه اثنتا عشرة سنةً وفي حقها تسع سنين) يعني لو ادعيا البلوغ في هذه المدة تقبل منهما، ولاتقبل فيما دون ذلك؛ لأن الظاهر تكذيبه.قال في العناية: ثم قيل: إنما يعتبر قوله بالبلوغ إذا بلغ اثنتي عشرة سنةً فأكثر، وقد أشار إليه بقوله: أدنى المدة -وهذه المدة مذكورة في النهاية وغيرها و- لايعرف إلا سماعا أو بالتتبع“ ترجمہ: صاحب کنز نے فرمایا: لڑکے کے حق میں بالغ ہونے کی کم از کم مدت بارہ سال ہے اور عورت کے حق میں نو سال ہے۔ یعنی اگر وہ دونوں اس عمر میں بالغ ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو قبول کیا جائے گا۔ لیکن اس سے کم عمر میں قبول نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس کاجھوٹا ہونا ظاہر ہے۔ عنایہ میں فرمایا: کہا یہ گیا ہے کہ لڑکے کے بالغ ہونے کا قول تب معتبر ہوگا جب وہ بارہ یا اس سے زائد سال کا ہو جائے۔ اسی کی انہوں نے ادنی مدت کے قول کے ساتھ اشارہ کیا ہے۔ یہی مدت نہایہ وغیرہ میں ذکر کی گئی ہے اور یہ باتیں سماع (احادیث وغیرہ کے سننے) یا تجربے سے جانی جاتی ہیں۔ (بحرالرائق، ج 8، ص 96، کتاب المأذون، دارالمعرفة، بیروت)
فتاوی شامی میں ہے: ”فتحصل من هذا أنه لا بد في كل منهما من سن المراهقة وأقله للأنثى تسع وللذكر اثنا عشر؛ لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ كما صرحوا به في باب بلوغ الغلام، وهذا يوافق ما مر من أن العلة هي الوطء الذي يكون سببًا للولد أو المس الذي يكون سببًا لهذا الوطء ولايخفى أن غير المراهق منهما لايتأتى منه الولد“ ترجمہ: پس اس تفصیل سے یہ حاصل ہوا کہ مرد و عورت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کم از کم مراہق کی عمر میں ہوں، اور مراہق کی عمر لڑکی کے لیے کم از کم نو سال اور لڑکے کے لیے بارہ سال۔ کیونکہ یہ وہ کم از کم عمر ہے جس میں بالغ ہونا ممکن ہے جیسا کہ فقہا نے لڑکے کے بلوغ کے متعلق تصریح فرمائی ہے اور یہ بیان گزشتہ اس بیان کے موافق ہے کہ حرمت مصاہرت کی علت وہ وطی ہے جو بچے کا سبب بن سکے اور وہ مس جو اس وطی کا سبب بن سکے، اور یہ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے جو مراہق سے کم عمرمیں ہو تو اس کی وطی بچے کا سبب نہیں ہوتی۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 3، ص 35، دارالفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”عورت کے لئے حدِ صغر9 سال کی عمر تک ہے، اس سے کم عمر میں جوانی ہرگز نہیں ہوتی، اس کے بعد 15 سال کی عمر تک احتمال ہے، اگر آثارِ بلوغ مثلاً حیض آنا یا احتلام ہونا یا حمل رہ جانا پایا جائے، تو بالغہ ہے ورنہ جب 15 سال کامل کی عمر ہو جائے گی، جوانی کا حکم کردیں گے اگرچہ آثار کچھ ظاہر نہ ہوں۔ بہٖ قال وعلیہ الفتوی (یہی کہا اور اسی پر فتوی ہے)۔ “ (فتاوی رضویہ، ج 13، ص 294، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: ”لڑکے کے بلوغ کے لیے کم سے کم جو مدت ہے وہ بارہ سال کی ہے یعنی اگر اس مدت سے قبل وہ اپنے کو بالغ بتائے اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔ لڑکی کا بلوغ احتلام سے ہوتا ہے یا حمل سے یا حیض سے، ان تینوں میں سے جو بات بھی پائی جائے تو وہ بالغ قرار پائے گی اور ان میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو جب تک پندرہ سال کی عمر نہ ہو جائے بالغ نہیں، اور کم سے کم اس کا بلوغ نو سال میں ہوگا اس سے کم عمر ہے اور اپنے کو بالغہ کہتی ہو تو معتبر نہیں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔“ (بھار شریعت، ج 3، حصہ 15، ص 203، ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-12067
تاریخ اجراء: 14 شوال المکرم 1444 ھ / 05 مئی 2023ء