بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
امیر اہل سنت ایک ویڈیو میں کہتے ہیں کہ مٹھی باندھ کر مسواک نہیں کرنی چاہیے کہ اس سے بواسیر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اب اس پر کچھ لوگ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ براہِ مہربانی تسلی بخش جواب عنایت فرما دیں۔
سیدی امیر اہل سنت نے یہ بات اپنی طرف سے ارشاد نہیں فرمائی، بلکہ متعدد فقہائے کرام اور بزرگان دین نے اس بات کو ذکر کیا ہے، اور آپ نے ان ہی کی بات کو بیان کیا ہے، لہذا مسواک پکڑنے کا جو سنت طریقہ ہے، اسی کے مطابق مسواک کو پکڑا جائے، یعنی سیدھے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کو مسواک کے نیچے رکھے، اور درمیان کی تین انگلیاں مسواک کے اوپر، اور انگوٹھے کو مسواک کے سرے کے نیچے رکھے۔
در مختار (جلد 1، صفحہ 114، دار الفکر، بیروت)، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، (جلد 1، صفحہ 21، دار الکتاب الاسلامی)، درر الحکام شرح غرر الاحکام (جلد 1، صفحہ 10، دار احیاء الکتب العربیۃ)، بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ (جلد 4، صفحہ 189، مطبعۃ الحلبی)، مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر (جلد 1، صفحہ 13، دار احیاء التراث العربی) اور مراقی الفلاح میں ہے
(و اللفظ للآخر): و السنة في أخذه أن تجعل خنصر يمينك أسفله و البنصر و السبابة فوقه و الإبهام أسفل رأسه كما رواه ابن مسعود رضي اللہ عنه و لا يقبضه لأنه يورث الباسور
ترجمہ: مسواک کو پکڑنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اپنے سیدھے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کو مسواک کے نیچے رکھے اور درمیان کی تین انگلیاں مسواک کے اوپر اور انگوٹھے کو مسواک کے سرے کے نیچے رکھے جیسا کہ اس کے پکڑنے کے طریقے کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے اور مٹھی بند کرکے اس کو نہ پکڑے کہ اس سے بواسیر کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ (مراقی الفلاح، صفحہ 52، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4583
تاریخ اجراء: 02 رجب المرجب 1447ھ / 23 دسمبر 2025ء