کسی شخص کا نام محمد رکھا گیا، تو اس کا نام لیتے وقت نہ درود پاک پڑھا جائے گا، اور نہ انگوٹھے چومے جائیں گے، کیونکہ یہاں لفظ محمد سےحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس مراد نہیں ہوتی، بلکہ جس شخص کا نام رکھا ہوتا ہے، وہ شخص مراد ہوتا ہے، جبکہ انگوٹھے حضور علیہ و علی آلہ الصلوٰۃ والسلام کے نام مبارک کے احترام میں چومے جاتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا: ”لوگوں کے نام کے آگے جو محمد ہے اس پر حرف (ص) اس طرح لکھنا جائز ہے یا نہیں؟“ جواباً ارشاد فرمایا کہ ”حرف (ص) لکھنا جائز نہیں نہ لوگوں کے نام پر نہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اسم کریم پر، لوگوں کے نام پر تو یوں نہیں کہ وہ اشارہ درود کا ہے اور غیر انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام پر بالاستقلال درود جائز نہیں اور نام اقدس پر یوں نہیں کہ وہاں پورے درود شریف کا حکم ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لکھے فقط ص یا صلم یا صلعم جو لوگ لکھتے ہیں سخت شنیع وممنوع ہے یہاں تک کہ تاتارخانیہ میں اس کو تخفیف شان اقدس ٹھہرایا والعیاذ باللہ تعالٰی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد23، صفحہ 387، 388، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4625
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/09جنوری2026ء