اندھیرے میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اندھیرے میں نماز پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید مسجد میں تہجد کی نماز ادا کرتا ہے، اسے اندھیرے میں نماز ادا کرنے میں خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہے، اس لیے وہ لائٹیں بند کر کے قبلہ سمت نماز تہجد ادا کرتا ہے، اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اندھیرے میں نماز نہیں ہوتی، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اندھیرے میں نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
اندھیرے میں نماز ہو جاتی ہے، ہاں بلاعذر اتنا اندھیرا نہ ہو کہ خشوع سے مانع ہو، وحشت و گھبراہٹ محسوس ہوتی ہو، کہ ایسے اندھیرے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اور اگر اندھیرے میں نماز پڑھنے سے خشوع آتا ہو تو ایسی صورت میں تو اندھیرے میں نماز پڑھنا بہتر اور مستحب ہے، کیونکہ نماز میں خشوع، شرع کو مطلوب ہے۔ اس کی نظیر آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنے والا مسئلہ ہے کہ فقہائے کرام نے فرمایا: آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا خشوع کے منافی ہے، لہذا مکروہ ہے اور اگر آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنے سے خشوع آتا ہو تو اب آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا بہتر اور مستحب ہے۔
اور جو اپنی طرف سے دعوی کرتا ہے کہ اندھیرے میں نماز نہیں ہوتی، وہ شرعی حکم کے خلاف حکم لگاتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنی طرف سے حکم بیان کرنے سے باز آئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اندھیرے میں تہجد کی نماز ادا فرمانا ثابت ہے کیونکہ ابتداء میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ میں ہے "عن عائشة زوج النبي صلى اللہ عليه وسلم، أنها قالت: «كنت أنام بين يدي رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ورجلاي في قبلته فإذا سجد غمزني، فقبضت رجلي، فإذا قام بسطتهما»، قالت: والبيوت يومئذ ليس فيها مصابيح" ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے فرمایا: میں اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ کے سامنے ہوتے تھے، پس جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام سجدہ کرنے لگتے تو مجھے دباتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، پس جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام قیام فرماتے تو میں پاؤں بچھا لیتی۔فرمایا: اور ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ (الصحیح للبخاری، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الفراش، ص 87، مطبوعہ بیروت)
المنتقی شرح الموطا میں ہے "قولها والبيوت يومئذ ليس فيها مصابيح.وهذه حالة لا يؤمن معها أن تقع يده على شيء من جسدها للظلام" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جو حالت بیان فرمائی کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے تو یہ ایسی حالت ہے کہ تاریکی کے باعث اس میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جسم پر لگنے کا گمان ہوتا ہے۔ (المنتقی شرح الموطا، ج 01، ص 211، مصر)
اسی طرح فقہائے کرام نے اندھیرے میں نماز کے درست ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے "لو أن قوما اشتبهت عليهم القبلة في ليلة مظلمة وهم في بيت ليس بحضرتهم أحد عدل يسألونه وليس ثمة علامة يستدل بها على جهة القبلة أو كانوا في المفازة فتحروا جميعا وصلوا إن صلوا وحدانا جازت صلاتهم أصابوا القبلة أو لا" ترجمہ: اگر کچھ لوگوں پر اندھیری رات میں قبلہ مشتبہ ہو گیا اور وہ ایسے کمرے میں ہیں کہ ان کے پاس کوئی عادل نہیں جس سے پوچھ سکیں اور نہ وہاں کوئی علامت ہے کہ جس سے قبلہ کی سمت پر استدلال ہو سکے یا وہ جنگل میں ہوں پس وہ سب تحری کر کے نماز پڑھیں تو اگر وہ تنہا تنہا نماز پڑھیں تو ان کی نماز درست ہے، جہت قبلہ انہوں نے پائی ہو یا نہ پائی ہو۔ ( فتاوی ہندیہ، کتاب الصلوۃ، الباب الثالث، ج 01، ص 65، کوئٹہ)
تبیین الحقائق میں آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنے میں کراہت کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: "لأنه ينافي الخشوع وفيه نوع عبث" ترجمہ: اس لیے کہ یہ خشوع کے منافی ہے اور اس میں ایک قسم کا عبث فعل پایا جاتا ہے۔ (تبیین الحقائق، باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا، ج 01، ص 411، کوئٹہ)
کنز الدقائق میں نماز کے مکروہات بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وتغميض عينيه " ترجمہ: آنکھوں کو بند کرنا۔
اس کے تحت بحر الرائق میں ہے "وينبغي أن تكون الكراهة تنزيهية إذا كان لغير ضرورة ولا مصلحة أما لو خاف فوات خشوع بسبب رؤية ما يفرق الخاطر فلا يكره غمضهما بسبب ذلك بل ربما يكون أولى لأنه حينئذ لكمال الخشوع" ترجمہ: اور یہ کراہت تنزیہی ہونی چاہیے جبکہ بغیر ضرورت اور بغیر مصلحت کے ہو، بہرحال اگر دلجمعی کو ختم کرنے والی چیز کو دیکھنے کے سبب خشوع کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس وجہ سے آنکھیں بند کرنا مکروہ نہیں ہوگا بلکہ بہتر ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں آنکھیں بند کرنا کمال خشوع کے لیے ہے ۔ (کنز مع البحر، کتاب الصلوۃ، ج 02، ص 44، کوئٹہ)
جد الممتار میں اسی کے متعلق ہے "أقول: ولعل التحقيق إن بخشية فوات الخشوع تزول الكراهة، وبتحققه يحصل الاستحباب" ترجمہ: میں کہتا ہوں: اور تحقیق یہ ہو سکتی ہے کہ اگر خشوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو کراہت ختم ہو جائے گی اور اگر خشوع کا تحقق ہو تو استحباب حاصل ہو جائے گا۔ ( جد الممتار ، باب مکروہات الصلوۃ، ج 03، ص 401، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نماز میں خشوع کے مطلوب ہونے کے حوالے سے رد المحتار میں ہے "وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها" ترجمہ: اور بدائع میں نماز کے مستحبات میں صراحت فرمائی ہے کہ نماز میں خشوع ہونا چاہیے ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الصلوۃ، ج 01، ص 520، کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10831
تاریخ اجراء: 26 محرم الحرام 1443 ھ/04 ستمبر 2021ء